پولس حراست میں 23 سالہ نوجوان الطاف کی موت، گھر والوں نے قتل کا الزام لگایا
نیوز ٹوڈے اردو:ایک ادنی سا مجرم جرم کرنے کے بعد اپنے جرم کو چھپانے کے لئے ہزارہا حیلے بہانے بناتا ہے، اس میں بھی ان باتوں کا خیال رکھتا ہے کہ لوگوں کو اس کی من گڑھت باتوں پر یقین ہوجائے، لیکن ایک ایس پی (جو خود اعلی ذہانت کا حامل ہوتا ہے اور اعلی ترین امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اس عہدے پر پہنچتا ہے۔) نے ایک 23 سالہ مسلم نوجوان الطاف کی پولس حراست میں ہوئی موت پر ایسی مضحکہ خیز تھیوری پیش کی جو کسی کے گلے نہیں اتر رہی ہے۔
در اصل معاملہ یہ ہے کہ اتر پردیش کے کاس گنج کوتوالی تھانہ کی پولس نے محمد الطاف کو لڑکی اغوا کے الزام میں گرفتار کیا، حالانکہ محمد الطاف کے والد کا کہنا ہے کہ بیٹے پر لڑکی اغوا کا الزام عائد ہونے کے بعد میں نے خود اسے پولس کے حوالے کیا تاکہ معاملے کی غیر جانبدارانہ طور پر جانچ ہو۔ اس دوران پولس کسٹڈی میں محمد الطاف کی موت ہوگئی۔ اس سلسلے میں پولس کا کہناہے کہ الطاف نے بیت الخلا کی ٹوٹی میں اپنی جاکیٹ کے ریبن سے گلا گھونٹ کر خودکشی کی ہے۔ پولس کا کہناہے کہ لاک اپ کے ٹوائے لیٹ سے بے ہوشی کی حالت میں الطاف کو برآمد کیا گیا، جس کے بعد اسے اسپتال لے جایا گیا جہاں الطاف نے دم توڑ دیا۔
ادھر الطاف کے گھر والوں نے پولس پر قتل کا الزام لگایا ہے۔
گھر والوں کا الزام ہے کہ پولس نے الطاف پر بہت ٹارچر کیا، جس کی تاب نہ لاکر اس کی موت ہوئی ہے۔ گھروالوں نے اس پورے کی منصفانہ طور پر جانچ کرنے اور قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اس معاملے کے بعد ہر طرف کاس گنج کوتوالی تھانہ کی پولس کے کردار اور ایس پی روہن پرمود بوترے کے بیان پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ ایک 23 سالہ 6 فٹ لمبا نوجوان لڑکا کیسے 2 فٹ اونچے ٹوٹے ہوئے نل میں جاکیٹ کی ریبن سے گلا گھونٹ سکتا ہے؟
واضح رہے کہ اترپردیش میں جب سے یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت آئی ہے، اکثر پولس کے کام پر سوالیہ نشان لگتا ہے، چاہے وہ انکاؤنٹر کا معاملہ ہو یا لاک اپ میں موت کا معاملہ ہو یا کسی بے گناہ پر مظالم کا، حیرت تو اس بات پر ہے کہ پولس وحشیانہ طریقے سے اس طرح کے جرائم کو آسانی سے انجام بھی دے دیتی ہے اور ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی ہے۔۔
محمد الطاف کے معاملے میں ایس پی کا کہنا ہے کہ غفلت برتنے پر پانچ پولس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
لیکن کیا صرف معطلی کے کام ہوجائے گا؟ نہیں ہوگا، بلکہ پورے معاملے کی جانچ ہو، اور یہ بھی کہ جس الزام میں الطاف کو گرفتار کیا گیا کیا وہ درست ہے؟ اور تھانہ کے اندر موجود سی سی ٹی وی فوٹیج بھی کھنگالا جائے، تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔۔
از:محمد احسان رضا مصباحی


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں