تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 19 نومبر، 2021

حضور ظفر ملت علیہ الرحمہ

حضور ظفر ملت علیہ الرحمہ

حضور ظفر ملت علیہ الرحمہ


 از۔ حضرت علامہ مولانا نسیم مصباحی صاحب 

     ماضی قریب کی  ایک عظیم شخصیت  حضرت علامہ الحاج ظفرالحسین ظفر قادری علیہ الرحمہ متعدد مدارس و مساجد کے بانی اور درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں ۔پوکھریرا ضلع سیتامڑھی آپ کا مولد و مدفن  ہے ۔ آپ نے جس خلوص کے ساتھ دینی خدمات انجام دیا، اس کی مثالیں اس عہد میں پیش کرنا مشکل ہے۔ رئیس التحریر حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ نے جب جمشید پور میں مدرسہ فیض العلوم قائم کیا ،، تو آپ اس کے مدرس اول مقرر کئے گئے ۔ اس وقت نہ مدرسہ کی ذاتی زمین تھی اور نہ عمارت۔ سڑک پر ہی درخت کے سائے میں ان دونوں بزرگوں کی درس گاہ لگتی ۔ جب کوئی گاڑی آتی،، درس گاہ اٹھا لی جاتی، گاڑی کے گزرنے کے بعد دوبارہ درس گاہ لگا دی جاتی۔۔ کھانے پینے کا بھی کوئی مستقل انتظام نہ تھا ،، خود فرماتے کہ کبھی کبھی چاول کو پانی سے بھگو کر کھا لیتے،، اور روز و شب مدرسہ کی تعمیر و ترقی کی کوششوں میں لگے رہتے۔  انہیں قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج فیض العلوم ریاست جھارکھنڈ کا مرکزی تعلیمی ادارہ شمار کیا جاتا ہے ۔

ہمیں یوٹیوب پر ضرورسبسکرائب کریں۔

صوبائی سنی کانفرنس سیوان جس کے بطن سے ادارۂ شرعیہ پٹنہ کا قیام عمل میں آیا ، کے منتظمین میں رئیس التحریر حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کے ساتھ آپ بھی تھے۔ اس کانفرنس میں ملک کے جید اور مشاہیر اکابر علماء کرام و مشائخین عظام کی شرکت ہوئی تھی ۔

      جب مظفر پور کے ایک ہائی اسکول میں آپ کی ملازمت طئے ہوچکی تھی ،، اور تقرری نامہ لیکر آپ وہاں کے لئے روانہ ہونے لگے تو صوفئ باصفا حضرت علامہ سیدالزماں حمدوی علیہ الرحمہ نے یہ کہ کر آپ کو روک لیا کہ آپ جیسے مخلص ، قابل عالم بھی اگر اسکول کالج میں ملازمت کرنے چلے گئے تو دین کی خدمت کون انجام دے گا؟ آپ نے اپنے اس بزرگ کی بات مان لی،، اور اسکول کی ملازمت جوائن نہیں کیا۔۔۔آج معیشت کی بہتری کے لئے بہار کے مختلف اسکولوں میں ہمارے ذی استعداد علماء بحیثیت استاد اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ،،، اور مدارس اسلامیہ میں ان جیسے اہل اساتذہ کی شدید قلت ہے۔۔۔ اللہ مدارس کے حال پر رحم فرمائے ،،، جن مدارس کو اہل اساتذہ حاصل ہیں ،، مدارس انتظامیہ کو ان کی قدر کرنی چاہئے ۔

       حضور ظفر ملت علیہ الرحمہ کو حضور مفتی اعظم ہند ، حضور مفسر اعظم اور حضور مجاہد ملت علیھم الرحمۃ والرضوان سے خلافت حاصل تھی ۔۔۔ 

فیس بک پر فولو کریں۔

مدرسہ جامع العلوم شریف جلالپور سیوان ،  مدرسہ معینیہ عظمت العلوم صاحب گنج مظفر پور اور دیگر کئی مدارس آپ کی سنہری یادگار ہیں۔ خطہ سارن میں آپ کی دینی خدمات قابل فخر ہیں ،،، یہاں کے مسلمان ہندو دیوی دیوتاؤں سے منتیں مانگتے تھے ،،، اپ نے بروقت ان کی مذہبی رہنمائی فرمائی،،، اور اپنے دلنشین انداز تبلیغ سے انہیں اسلام کی طرف واپس کیا،،، اور ان مشرکانہ عمل سے باز رکھا۔۔۔ صاحب گنج مظفر پور میں کئی غیر مسلم ان کے ہاتھ پر تائب ہوکر مسلمان ہوئے۔۔ 

      نماز سے ان کا پیار قابل رشک تھا،،، مسلسل جنون کی حالت میں بھی لوگوں نے انہیں نماز ادا کرتے دیکھا۔۔ سریا مظفر پور میں ایک شادی کی تقریب میں نکاح خوانی سے قبل زباں سے بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ادا ہوا اور روح نے جسم کا ساتھ چھوڑ دیا ۔۔۔

اللہ ان کے درجات بلند فرمائے ۔۔۔ آمین یا رب العالمین

1 تبصرہ:

Post Top Ad