دو روزہ حنفی سیمینار کے ایک اہم موضوع " ہند میں مناہج تعلیم کے ضعف وانحطاط کے اسباب" کا خلاصہ
| دو روزہ حنفی سیمینار کا منظر |
✍️محمد حبیب اللہ بیگ ازہری،
جامعہ اشرفیہ، مبارک پور، اعظم گڑھ، یویی
13,14 نومبر 2021 بروز ہفتہ اتوار کو جامعہ حنفیہ رضویہ، مانک پور، پرتاپ گڑھ میں دو روزہ فکری اور ثقافتی سمینار منعقد ہوا، جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے خصوصی طور پر ازہری علمائے کرام کی ایک بڑی جماعت نے شرکت کی، اور متعد موضوعات پر گراں قدر مقالات اور تاثرات پیش کیے۔
اس سمینار کا ایک اہم موضوع تھا
" *مدارس ہند میں مناہج تعلیم کے ضعف وانحطاط کے اسباب* "
اس موضوع کے تحت درج ذیل علمائے کرام نے اپنی مقالات وتاثرات پیش کیے۔
1- مولانا ازہار احمد امجدی، اوجھا گنج۔
2- مولانا شیر محمد مصباحی، لکھنؤ۔
3- مولانا شمس تبریز ازہری، سری لنکا۔
4- مولانا تنویر احمد ازہری، مہراج گنج۔
5- مولانا شمشاد حسین ازہری، کناڈا۔
6- مولانا قاضی خان ازہری، راجستھان۔
7- مولانا شمشاد ازہری، نیپال۔
8- مولانا شریف ازہری، چھتیس گڑھ۔
9- مولانا سلمان رضا ازہری، روناہی
10- مولانا طیب علیمی، جمدا شاہی
11- مولانا محمود غازی ازہری، دلہی۔
ان علمائے کرام کے مقالات وتاثرات کے تجزیاتی مطالعے کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہم یہاں ان کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔
| دوروزہ حنفی سیمینار کا منظر |
مذکورہ بالا مندوبین کرام کے مقالات وتاثرات میں درج ذیل پانچ امور خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
1- مدارس کی تعلیمی ترقی کے لیے مدرسوں کا نظام بہتر بنایا جائے۔
2- نصاب تعلیم میں عصری تقاضوں کے مطابق جزوی ترمیم کی جائے۔
3- طریقہ تدریس میں مزید بہتری لائی جائے۔
4- با صلاحیت اساتذہ کی تقرری کی جائے اور اساتذہ حضرات اپنی ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی نبھانے کی کوشش کریں۔
5- بڑی درسگاہوں میں تقابل ادیان اور دیگر اہم شعبہ جات کا قیام عمل میں لایا جائے۔
اخیر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تجاویز پیش کرنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدام بھی کیا جائے۔
*مدرسوں کا نظام کیسا بہتر بنایا جائے؟*
مدارس میں تعلیمی ترقی کے لیے نظام تعلیم کو بہتر بنانا ہوگا، اس سلسلے میں حضرت مولانا شیر محمد صاحب نے بڑی عمدہ گفتگو فرمائی، نظام تعلیم کے بارے میں آپ کی رائے یہ ہے کہ جامع نصاب اور اعلی تعلیم کے صحیح نتائج اسی وقت برآمد ہوسکتے ہیں جب کہ ابتدائی اور بنیادی تعلیم پختہ ہو، اس کے لیے مدارس سے پہلے مکاتب اور چھوٹے مدرسوں میں تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے، کیوں کہ جن مکاتب اور چھوٹے مدارس میں بنیادی تعلیم کمزور ہوتی ہے وہاں کے طلبہ جب بڑی درسگاہوں کا رخ کرتے ہیں تو وہ اپنے اور دوسروں کے لیے پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں، اور انھی کی وجہ سے تعلیمی نظام بھی متاثر ہوتا ہے، لہٰذا مدارس سے پہلے مکاتب اور اعلی تعلیم سے پہلے بنیادی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے۔
مولانا صاحب نے مزید فرمایا کہ تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے باذوق اور محنتی طلبہ کے داخلے لیے جائیں، اکثر مدارس میں محض سفارش کی بنیاد پر نا اہل طلبہ کا داخلہ لے لیا جاتا ہے، جس سے تعلیمی نظام بہت حد تک متاثر ہوجاتا ہے۔
نظام تعلیم میں بہتری لانے کے حوالے سے مولانا تنویر ازہری صاحب کی رائے یہ ہے کہ
ذمہ داران مدارس بطور خاص نظما حضرات کو تعلیم یافتہ ہونا چاہئے، عالم نہیں تو کم از کم علم دوست ضرور ہونا چاہیے، اس لیے کہ تعلیم یافتہ نظما کی اولین ترجیح تعلیم ہوتی ہے، جب کہ غیر تعلیم یافتہ انتظامیہ کی ساری توجہ اسی پر مرکوز ہوتی ہے کہ اساتذہ اور طلبہ چندہ اکٹھا کریں اور غیر تعلیمی سرگرمیوں میں ان کے ساتھ مصروف عمل رہیں، ظاہر سی بات ہے کہ ایسے ماحول میں تعلیمی ترقی ممکن نہیں۔
*نصاب تعلیم میں ترمیم کی ضرورت ہے*
تقریباً سارے مندوبین کرام نے نصاب تعلیم میں تبدیلی کی رائے پیش کی، اور کہا کہ موجودہ نصاب تعلیم سو سال پرانے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، اسی لیے اس میں منطق، قدیم فلسفہ، معدوم مذاہب کے دلائل اور ان کے رد و ابطال پر کتابیں شامل کی گئیں ہیں، اور آج جب کہ تقاضے بدل چکے ہیں اور لوگ نظری اور معقولی دنیا سے نکل کر پریکٹیکلی اور مشاہداتی دور میں داخل ہوچکے ہیں تو قدیم فرسودہ نصاب تعلیم کے التزام کی کوئی وجہ نہیں، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مدارس کے نصاب میں جدید علم کلام، سائنس، ریاضی، جغرافیہ، اصول دعوت وغیرہ اہم موضوعات پر کتابیں داخل نصاب کی جائیں، تاکہ ہمارے فارغین ہر میدان میں نمایاں خدمات انجام دے سکیں۔
مولانا شمشاد ازہری صاحب، نیپال نے عربی زبان وادب کی اہمیت پر روشنی ڈالی، اور فرمایا کہ قرآن فہمی اور حدیث دانی کے لیے عربی زبان سے واقفیت ازحد ضروری ہے، اور جو حضرات عربی زبان پر قدرت نہیں رکھتے وہ دیگر علوم وفنون پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے، اسی لیے عربی نصاب پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، تاریخ ادب اور مختلف ادوار کے اعتبار سے عربی نصوص شامل نصاب کیے جائیں، اور ادب و انشا کے لیے دو الگ الگ مستقل گھنٹیاں رکھی جائیں، تاکہ طلبہ عربی زبان پر کامل عبور حاصل کرسکیں۔
*طریقہ تعلیم میں بہتری کیسے لائی جائے*
تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے طریقہ تدریس پر غور و خوض کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں مولانا عبد المبین ازہری صاحب نے فرمایا کہ کسی بھی فن کو پڑھانے سے پہلے اس فن کی مکمل تاریخ، اس کے فوائد، اس کے مصادر ومبادیات تفصیلی طور پر بیان کر دیے جائیں، تاکہ طلبہ اس فن سے خوب مانوس ہو جائیں اور دلجمعی کے ساتھ اس فن کو سیکھنے کی کوشش کریں۔
مولانا شمس تبریز ازہری صاحب نے فرمایا کہ مدارس میں طلبہ کے لیے ٹیبل اور بینچ کا اہتمام کیا جائے، افہام وتفہیم کے لیے وائٹ بورڈ کا استعمال کیا جائے، تاکہ طلبہ ہر بات بآسانی طلبہ کے ذہنوں میں محفوظ کی جا سکے۔
*اساتذہ کی تقرری اور ان کی ذمہ داریاں*
تعلیمی ترقی میں سب سے اہم کردار اساتذہ کا ہوتا ہے اسی لیے اساتذہ کی تقرری میں کافی احتیاط کی ضرورت ہے، مولانا ازہار احمد امجدی فرماتے ہیں کہ تقرری میں با صلاحیت اساتذہ کو فوقیت دی جائے، اور جہاں تک ہوسکے متخصصین کی تقرری کی جائے، کیوں کہ کسی فن کا ماہر جس خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے فن کو پڑھا سکتا ہے دوسرا نہیں پڑھا سکتا۔
ظاہر سی بات ہے کہ ہمارے ملک میں اس کثرت کے ساتھ ماہرین ومتخصصین نہیں مل سکتے، اسی لیے اس پریشانی کا حل پیش کرتے ہوئے مولانا شمس تبریز ازہری صاحب فرماتے ہیں کہ تقرری کے وقت ہی اساتذہ سے پوچھ لیا جائے کہ وہ کس فن سے دلچسپی رکھتے ہیں، تاکہ اسی کے مطابق انھیں گھنٹیاں دی جائیں۔
مولانا طیب علیمی صاحب نے فرمایا کہ آج کل تدریس کو ایک ڈیوٹی تصور کرلیا گیا ہے، جو کسی طرح مناسب نہیں، اساتذہ کرام کو چاہیے کہ تدریس کو ڈیوٹی نہیں، بلکہ ایک اہم ذمہ داری سمجھیں، محنت ودلجمعی اور خلوص وللہیت کے ساتھ اس فریضے کو انجام دینے کی کوشش کریں۔
*بڑی درسگاہوں میں شعبہ تقابل ادیان کا قیام*
ہمارے ملک میں مختلف ادیان ومذاہب کے ماننے والے کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں، ہمارے ملک میں ہمہ وقت مسلمانوں کو غیر مسلموں سے سابقہ پڑتا رہتا ہے، ایسے ماحول میں ہر ذی علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اور دوسرے افراد کے مذاہب اور ان کی بنیادی تعلیمات سے واقف ہو، تاکہ اپنے مذہب کی صحیح ترجمانی کرسکے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے ہمارے یہاں کسی بھی مدرسے میں شعبہ تقابل ادیان نہیں ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بڑے مدارس میں شعبہ تقابل ادیان قائم کیا جائے، مولانا محمود غازی صاحب ان خیالات کا اظہار کیا۔
مولانا شماد ازہری، کناڈا نے شعبہ تقابل ادیان کی اہمیت وضرورت بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اس شعبے کے لیے باذوق، ذی استعداد، اور خوش اخلاق طلبہ کا انتخاب کیا جائے، مزید فرمایا کہ اس شعبے کے طلبہ کو کم از کم کسی ایک عالمی زبان پر قدرت ہونا چاہیے، اور اس شعبے سے وابستہ افراد پر لازم ہے کہ وہ مذہب اسلام کا بھر پور مطالعہ کریں، تاکہ اسلام کے خلاف غیروں کی جانب سے ہونے والے اعتراضات کا مختلف زبانوں میں منھ توڑ جواب دے سکیں، اور دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش کر سکیں۔
یہ تھا جامعہ حنفیہ رضویہ، مانک پور، پرتاپ گڑھ کے دو روزہ حنفی سمینار کے ایک موضوع کا خلاصہ، اللہ رب العزت ہم سب کو حسن عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین یارب العالمین۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں