تریپورہ تشدد کے خلاف تنظیم فلاح المسلمین چوپڑہ کا احتجاج
نیوزٹوڈے اردو:ریاست تریپورہ میں گزشتہ ہفتے مساجد اور مسلمانوں کے املاک پر حملوں کے خلاف پورے ملک کے مسلمانوں میںغم وغصہ کاماحول ہے۔تریپورہ فساد کے خلاف بین الاقوامی سطح پر بھی آواز بلند کی جارہی ہے۔پورے ملک میںمختلف سماجی تنظیموں کی طرف سے احتجاجی ریلیاںنکال کر انتظامیہ اور پولس تھانوںمیںمیمورینڈم سونپے جارہے ہیں۔اسی کے پیش نظرآج اسلام پور محکمہ کے چوپڑہ تھانہ کے تحت دینی وسماجی تنظیم ”تنظیم فلاح المسلمین “ کی طرف سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
یہ احتجاجی ریلی جامعہ غوثیہ چوپڑہ کالج پاڑہ سے نکل کر غریب نواز چوک ہوتاہوا فٹ بال میدان چوپڑہ پہنچی وہاں سے چوپڑہ بی ڈی او آفس پہنچ کربی ڈی او کو میمورینڈم سونپاگیااور پھروہاں چوپڑہ تھانہ کے آئی سی کو بھی میمورینڈم سونپاگیا۔اس ریلی میں جامعہ غوثیہ چوپڑہ کے صدر المدرسین مفتی فیروز عالم مصباحی، تنظیم فلاح المسلمین چوپڑہ کے سکریٹری مولانا مشیر اور دیگر عہدے داران وممبران میں حافظ عبد الحفیظ ،مولانا اختر، مولانا شاہد رضا، مولانا حسین ، مولانا تمیز الدین،مولانا جلال الدین ،حافظ آصف اورمولانا ایثار صاحب وغیرہ سمیت طلبہ اور کافی تعدادمیں عام لوگ بھی موجود تھے۔
مفتی فیروز عالم مصباحی نے کہاکہ کچھ سماج دشمن عناصراور انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے تریپورہ میں مساجد میں توڑپھوڑ اور تخریب کاری کی گئی،قرآن کریم کے ساتھ بے حرمتی کی گئی ،مسلمانوں کے مکانات اور مساجد اور قرآن پاک کے اوراق جلا ئے گئے،اس پورے معاملے پرتریپورہ کی انتظامیہ اورپولس انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ہم تریپورہ فساد اور پولس کے کردار کی سخت الفاظ میںمذمت کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ دنگائیوں اور فساد یوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے فسادزد ہ مسلمان علاقوںمیںدفعہ 144نافذ کردئے گئے تاکہ مسلمانوں کو محصور کیاجاسکے۔مفتی فیروز عالم مصباحی نے کہاکہ یہ احتجاجی ریلی نکال کر ہم تریپورہ کے مسلمانوں کویہ پیغام دے رہے ہیں آپ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور تریپورہ حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی کی مودی حکومت سے بھی ہم مطالبہ کررہے ہیں کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیکرملزمین کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے ۔مفتی فیروز عالم مصباحی نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ صورتحال کو قابو میں لائے اور مساجد اور دیگر املاک کی تباہی کا معاوضہ فراہم کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے اور ریاست میں امن قائم کرنے کے لیے تشدد اور دہشت گردی پھیلانے کے ذمہ داروں کو جلد از جلد سخت سزا دی جانی چاہیے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں