تازہ ترین

Post Top Ad

ہفتہ، 27 نومبر، 2021

اسلام کی نگاہ میں پڑوسی کا مقام

اسلام کی نگاہ میں پڑوسی کا مقام

دکھ، درد، مشکلات اور پریشانیاں کسی بھی انسان کو کبھی بھی پہنچ سکتی ہیں، وہ دکھ کبھی بڑے نقصان کی صورت یعنی موت کی شکل میں بھی آسکتی ہے، ایسے متاثرہ شخص کو کسی سہارے کی ضرورت ہوگی۔صرف دکھ، درد اورپریشانیوں کے مواقع پر سہارے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے بلکہ خوشی کے موقع پربھی انسان کو سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، مثلا بیٹی یا بیٹا کسی کی شادی کرانا وغیرہ ۔۔۔
مذکورہ بالا مواقع پر جب انسان کو سہارے کی ضرورت ہوگی، تو وہ سہارا وہ انسان دے گا جو سب سے زیادہ قریب ہوگا، قریب کا مطلب قربت مکانی۔۔۔
ایسے قریب رہنے والے انسان کو پڑوسی یا ہمسایہ  کہاجاتا ہے، یہ پڑوسی سی ہی ہیں ، جو ہمارے گھر میں ہونے والے واقعے کے بارے میں سب سے پہلے جانتے ہیں، اور ہم بروقت ایمرجنسی جن کی طرف رجوع کرتے ہیں، بعض اوقات ماچس یا نمک کے لئے بھی۔۔ 
مذکورہ بالا عبارت سے پڑوسی کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا ہوگا، تو ضروری ہے کہ پڑوسی کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئے جائیں، ان سے دوستانہ رشتہ ہموار کئے جائیں اور ان کے خوشی اور غم میں شریک رہیں۔
پڑوسی کے ساتھ تعلقات کو لیکر جب ہم حدیث پاک مطالعہ کرتے ہیں تو حدیث شریف میں بھی کافی وضاحت موجود ہے۔
صحیح بخاری،  صحیح مسلم، ابو داؤد، جامع ترمیذی، ابن ماجہ اور مشکور شریف احادیث کی کتابوں میں یہ حدیث شریف مذکور ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں بار بار اس طرح وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کردیں۔
اس حدیث پاک سے بھی پڑوسی کا مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ سیرت نبوی ﷺ میں بھی پڑوسی کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کو لیکر کئی واقعات مذکوہیں۔
از:محمد احسان رضا مصباحی 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad