تازہ ترین

Post Top Ad

جمعرات، 11 نومبر، 2021

ٹکنالوجی کے دور میں سل پتھرکی جگہ مکسچر گرائنڈر اور مسالہ پاﺅڈر نے لیا

 ٹکنالوجی کے دور میںسل پتھرکی جگہ مکسچر گرائنڈر اور مسالہ پاﺅڈر نے لیا 

ٹکنالوجی کے دور میںسل پتھرکی جگہ مکسچر گرائنڈر اور مسالہ پاﺅڈر نے لیا

 ٹکنالوجی کے دور میں سل پتھرکی جگہ مکسچر گرائنڈر اور مسالہ پاﺅڈر نے لیا 

سِل پتھر میں دھار لگانے کے لئے والے کاریگرروزگار سے محروم،آنے والی نسلیں اس فن کے بارے میں کتابوں میں پڑھیں گی

نیوزٹوڈے اردو:تقریبادو سو سال پہلے چارلس ڈارون نے” سروایوےل آف دی فیٹیسٹ “قول کودنےا کے سامنے پیش کیا تھا۔ چاہے وہ فطرت ہو یا زندگی کی کشمکش اگر اس کو تھوڑی سی نقل و حرکت سے دیکھیں تو ان کے الفاظ کے جوہر کو سمجھ سکتے ہیں۔ کمپیوٹر اور پرنٹرز کے پھیلاو¿ کے ساتھ ساتھ ٹائپ رائٹرز اور ٹائپ سےکھانے والے اسکول غائب ہوگئے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کی وجہ سے کئی دستکاری اورفنکاری سے جڑے پیشے بھی ناپید ہورہے ہیں۔تقریباسبھی گھروںمیں استعمال ہونے والے سل پتھرکی جگہ اب مکسچرنے لے لیا ہے۔ سِل پتھر فن کارروزگار سے محروم ہورہے ہیں۔ حالیہ دنوں میںکورونا وبا کے دوران مختلف پیشوں کے لوگوں نے روزگارکی امید میں متبادل پیشوں کا سہارا لینا شروع کر دےا ہے۔ لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے مہنگی بازاری کے باعث بہت سارے لوگ بے روزگارہوگئے ہیں گھر گھر جا کر سِل پتھر میں دھار لگا نے والے لوگوں کابھی یہی حال ہے۔ ایک وقت تھا جب وہ ہر ہفتہ محلے میں سِل پتھر میںدھار لگانے کے لئے آواز لگاتے ہوئے نظر آتے تھے لیکن اب ایک ہفتہ یا ایک مہینے تو درکنار سال میں ایک بارنظر آنا مشکل ہو گےاہے۔ دراصل پچھلے ڈیڑھ دہائی کے دوران گھریلو کچن میں مکسچر گرائنڈر اور مختلف برانڈز کے مسالہ پاﺅڈردستےاب ہونے لگے ہیں اس لئے سِل پتھر کی ضرورت نہ پڑنے کی وجہ سے سِل پتھر کے کارےگر کی طرف لوگ کم توجہ دے رہے ہیں۔ شہری علاقوںسمیت دیہی علاقوں میں بھی سل پتھر سے مکس کئے گئے مسالہ کے استعمال میں بہت کمی آنے لگی ہے۔ 

ہمیں یوٹیوب پر سسبکرائب کریں:

اس کے ساتھ سِل پتھر کا استعمال بھی کم ہونے لگا ہے۔ایک اہم خاندان جو علاقے میں بیشہ کے نام سے مشہور ہے سِل پتھر میں دھار لگانے والے کارےگری میںجانے جاتے تھے اسی نسل کے تےسرے نسل کے افرادآلوک بیشہ جو تقرےباً پچیس سالوں سے اس پیشے میں ہیں۔ دھوپ گوڑی کے مارکیٹ میںکام کے دوران انہوں نے کہا کہ بچپن میں ہی اس نے اس ہنر کو اپنے بزرگوں سے سیکھا ہے۔انہوں نے سِل پتھر پرمختلف دستکاری کرنا سیکھا ہے۔ اس وقت سِل پتھر میں دھار لگانے کا کام کی مانگ تھی اور آمدنی بھی اچھی تھی۔ ایک دن میں پچپن سے ساٹھ گھرانوں میںسِل پتھر میںدھار لگا کر اچھی آمدنی ہوتی تھی۔ اب اگرسارا دن گھومتے ہیں تو مجموعی طور پر پانچ یا سات گھروں میںکام ہوتا ہے ۔ ایک زمانے میںوہ ہوٹلوںمیںکئی سِل پتھر میں دھار لگاےا کرتے تھے لیکن اب ہوٹلوں میںمشین کی مددسے کام لیاجارہا ہے ،نہیںپاوڈرمسالہ کا استعمال کیا جا تا ہے۔ کم آمدنی کی وجہ سے اس فن کار کے لوگ اب اگلی نسل کو اس پیشے میں آنے کی اجازت نہیں دینا چاہتے ہیں۔اس کے نتیجے میں مستقبل میں یہ پیشہ ختم ہوجائے گا۔ آنے والی نسلیںسِل پتھر کے مسالہ باٹا اور اس کے پیچھے فنکاروں کی باتےں تارےخ میں پڑھےں گے۔ سوشل سائنٹسٹ اور محقق ڈاکٹرانیرود چٹوپادھیائے نے کہا کہ جو آج سے تیس یا پچاس سال بعد پیدا ہونے والی نسل اس پیشہ کا نام تک نہیں جانے گی۔ جو صرف تاریخ میں ہی پڑھا جائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad