اپنے دامن کے لئے خار چنے خود ہم نے
اس وقت عالمی پیمانے پر مسلمان پریشان حال ہیں خصوصا ہمارے ملک ہندوستان میں مسلم دشمنی و شرپسند عناصر تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے، بلکہ ہر دوسرے دن اندھی نفرت کے تیز و تند ہونے کا غمازی کر رہا ہے اور ایسے میں ہر ذی شعور صاحب قلم اور قائد اپنے اپنے دائرہ اثرمیں رہ کر حکومت کے خلاف مختلف طریقے سے رد عمل پیش کر رہے ہیں،کبھی وزیراعظم کی کمی کوتاہیوں کو اجاگر کیا جاتا ہے، تو کبھی گڑہ منتری پر نشانہ سادھا جا رہا ہے تو کبھی ممتا بنرجی،کیجریوال، اور اکلیش یادو ، کی ظلم کے خلاف خاموشی پر سیکولرازم کو تار تار کیا جارہا ہے ٹھیک ہے۔ظلم کے خلاف رد عمل پیش کرنا چاہیے یہ ہمارا حق بھی ہے اور ایک بیدار قوم کی شناخت بھی لیکن کیا اکتساب معاصی کے دروازوں کے سدباب کئے بغیر صرف اس طرح کے ردعمل پیش کرنے سے ہمارے حالات درست ہو جائیں گے ؟ہرگز نہیں اور ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ،کیونکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ? فرماتے ہیںکہ میں بادشاہوں کا بادشاہ ہوں ،بادشاہ ہوں کے قلوب جب میرے ہاتھ میں ہے جب بندے میری اطاعت کرتے ہیں تو میں ان کے بادشاہوں کے دلوں میں محبت و شفقت ڈال دیتا ہوں اورجب بندے میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے دل سخت کر دیتا ہوں جس کی وجہ سے وہ (حکام) انہیں طرح طرح کا عذاب دیتے ہیں اسی لیے تم بادشاہوں کو بد دعا دینے میں اپنا وقت ضائع مت کرو، بلکہ اپنے آپ کو میرے ذکر تضرع میں مشغول کرو (ہماری طرف ر±جوع کرکے اپنی اصلاح میں لگ جاو¿ ) تاکہ میں ان کے شر سے تم کو کافی ہو جاو¿ں 'حکام کا موافق یا مخالف ہونا اعمال پر موقوف ہے ،اس دنیا میں جو اچھے برے حکام و حالات آتے ہیں ان کے کچھ تو ظاہری اسباب ہوتے ہیں اور کچھ غیبی اور باطنی اسباب ہوتے ہیں اور حقیقت یہ ہےکہ حکام و حالات اگر موافق اور سازگار ہو تو یہ بھی خوشگوار زندگی کی علامت اور اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے،اس کے برخلاف حالات وحکام اگر مخالف اور ناسازگار ہو تو وہ باعث تنگی و تکلیف ہیں اور حالات و حکام کا مخالف یا موافق ہونا تحت الاسباب موقوف ہے عمال پر انسانوں کے اعمال اگر اچھے ہوں گے تو اللہ کی طرف سے احوال و حکام بھی اچھے ہوں گے اور اگر اعمال برے ہوں گے تو ان کے احوال و عمال بھی برے ہوں گے یہ رب کریم کا عام ضابطہ ہے جسے حدیث شریف میں ذکر کیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری عادت و سنت یہ ہے کہ جب بندے میری اطاعت کرتے ہیں اور بندوں کے اعمال میرے احکام کے مطابق ہوتے ہیں تو میں ان کے حکام کے قلوب ان کے موافق کر دیتا ہوں یعنی ان کے قلوب میں رقت را¿فت اور رحمت پیدا کر دیتا ہوں جس کا ایک اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے رعایا کے لئے اچھے حالات بنانے کی فکر کرتے ہیں،تاریخ شاہد ہے کہ جس وقت لوگوں کے اعمال درست تھے تو ان کے حکام و عمال بھی اچھے تھے انہیں خلفائے راشدین اور عمر بن عبدالعزیز جیسے نیک دل ہردلعزیز حاکم ملے تھے۔ الغرض جب لوگوں کے اعمال درست اور نیک تھے تو ان کے عمال اور عمومی احوال بھی اچھے اور نیک تھے عام طور پر کسی سے کسی کو شکایت نہ تھی ہر ایک کو اس کا حق پورا پورا مل جاتا تھا عدل و انصاف اور امن وامان عام تھا چاروں طرف رحمتوں اور برکتوں کا نزول تھا لوگ خوشحال اور باعزت زندگی گزار رہے تھے لیکن جب اعمال میں بگاڑ پیدا ہوا اور اخلاق میں گراوٹ آئی تو احوال بھی بدلے اور حکام بھی بلکہ ظلم و زیادتی کے بازار گرم ہونے لگے،جس کی اطلاع حدیث میں دی گئی ہے کہ جب میرے بندے میری نافرمانی کرتے ہیں مجھ کو ناراض کرتے ہیں میرے احکام پر عمل نہیں کرتے تو میں ان کے حکام و بادشاہوں کے دلوں کو سخت بنادیتا ہوں پھر مظلوموں کی آہ و بکاہ اور عاجز و بے بسوں کی چیخ و پکاربھی ان کے قلوب میں رقت پیدا نہیں کرسکتی کمزوروں کو تڑپتا دیکھ کر بھی ان کا پتھر دل موم نہیں ہوتا ،اور آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اور ظلم و ستم کے ہم پرجوپہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں۔ یہ سب ہماری بد اعمالیوں کی سزا ہے جو ظالم و جابر حاکموں کی شکل میں نازل ہورہی ہے، اسی کو اللہ تعالی نے فرمایا: اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیںقارئین باتمکین! جب اعمال پر عمال و احوال کا مدار ہے تو ایسی صورت میں بد اعمالیوں کے نتیجے میں مسلط ہونے والے عمال و حکام کو برا بھلا کہنا کہاں کی عقلمندی ہے بلکہ عقلمندی اور دانائی تو یہ ہے کہ اس پر فتن دور میں اپنی اور اپنے اہل و عیال کی اصلاح کی فکر کی جائے اور صبر و تقوی کا دامن تھام کر حق تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے جیسا کہ باری تعالی کا ارشاد ہے:اگر تم صبر و تقویٰ اختیار کرو تو دشمنوں کامکروفریب تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔
اپنے دامن کے لئے خار چنے خود ہم نے
اب یہ چبھتے ہیں تو پھراس میں شکایت کیا ہے
از: ذیشان ھدیٰ قاسمی دیناجپوری


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں