عرس شیخ اعظم علامہ سیدشاہ اظہاراشرف قدس سرہ کے موقع سےایک مختصر تحریر
( شیخ اعظم کچھ یادیں کچھ باتیں )
حضور شیخ اعظم نورﷲ مرقدہ پندرہویں صدی کے اکابر علماء ومشائخ اور صاحب کمال شخصیات میں سے ایک ہیں
اہلسنت وجماعت خانوادہ اشرفیہ (سرکارغوث العالم مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ)کے ممتاز اور منفرد صاحب تصانیف متحرک داعی عامل شریعت مرشد طریقت منبع علم و حکمت حامل تصرف وکرامت پیکر استقامت
مصلح و مبلغ بزرگ ہیں
ہند وپاک نیپال بنگلہ دیش افریقہ جیسے درجنوں ممالک میں جاکر آپ نے دین و سنیت کے فروغ اور رشدوہدایت کا فریضہ انجام دیا
پاکیزہ سیرت اور صورت ظاہر وباطن کی نفاست روحانیت دلکش رنگت اور اس کی جاذبیت سے ایک جہاں شاد کام ہوا
ولادت ۶محرم الحرام ۱۳۵۵ھ1936عیسوی میں آپ کی ولادت باسعادت ہوئی
آپ سرکار کلاں علیہ الرحمہ فرزند اور عالم ربانی حضرت علامہ سید شاہ احمد اشرف علیہ الرحمہ کے پوتے ہیں حضور شیخ المشائخ شبیہ غوث اعظم اعلیٰ حضرت اشرفی میاں نورﷲ مرقدہ آپ کے پردادا ہیں یہ سلسلہ آگے سیدنا عبدالرزاق نورالعین (بھانجہ غوث العالم قدوۃ الکبریٰ محبوب یزدانی سیدنا مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ )اور پھر ان کی وساطت سے سرکار غوث اعظم اس کے اوپر سیدہ کائنات خاتون جنت جگر پارہ مصطفیٰ اور پھر مصطفیٰ جان رحمت ﷺ تک پہونچتا ہے
آپ کی ولادت کے موقع سے آپ کےپردادا شیخ المشائخ علیہ الرحمہ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حاضر تھے آپ کے ساتھ اور بھی علمائے کرام موجود تھے بغیر کسی ظاہری خبر کے آپ نے جو کلمات تکلم فرمائے وہ بڑے تعجب خیز آپ کے مرتبہ ولایت کشف وکرامت اختیار وتصرف اور شیخ اعظم کی شان وعظمت کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں
فرماتے ہیں
” میرے پوتے سے اشرفیت کا خوب خوب اظہار ہوگا اور میں اس کا نام اظہار اشرف رکھتا ہوں “
قارئین جب آپ شیخ اعظم علیہ الرحمہ کی زندگی اور کارنامے خدمات وتعلیمات تبلیغ وسیاحت ملکی غیر ملکی اسفار پر نظر کرینگے تو یہ سمجھنے میں بڑی آسانی ہوگی کہ واقعی مرد حق آگاہ مجدد سلسلہ اشرفیہ
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی زبان میں پروردہ سہ محبوباں کی بارگاہ رسالت ﷺ میں کی گئی دعا کہے گیے جملے بارگاہ رب العزت میں مقبول ہوئے۔
اور مقبولیت میں شک بھی روا نہیں یہ سبھی جانتے ہیں کہ بارگاہ رسالت ﷺ میں ایک عام مومن کی دعا فریاد استغاثہ کو رد نہیں کیا جاتا اور یہاں تو دعا کرنے والے آل رسول اور جن کے لیے دعا کی جارہی ہے وہ بھی اسی چمن کا ایک پھول ہیں
بہرحال شیخ اعظم اپنے دادا جان کی دعاوں کا مظہر بن کر لاکھوں کروڑوں دلوں پر چھاگیے حقانیت صداقت اشرفیت کا اشرف المخلوقات اسلام و سنیت پر خوب خوب اظہار کر گیے
عشق رسولﷺ
عشق و وارفتگی اور بارگاہ رسالت مآب ﷺ سے وابستگی کو سمجھنے کے لیے اتنا کافی ہے فرماتے ہیں
”” میری زندگی کا مقصد تیرے عشق کا حاصل “
”” کسی اور سے محبت نہ ہوئی نہ ہے نہ ہوگی“
باقی اظہار عقیدت کے نام سے حمد ونعت اور منقبت کا ایک بڑا گلدستہ موجود ہے
عظیم کارنامے جامع اشرف کچھوچھہ مقدسہ مختار اشرف لائبریری اور ملک بیرون میں درجنوں مدارس مساجد کا قیام جیسے جامعہ اشرفیہ اظہار العلوم برہانپور
جامعہ اشرفیہ اظہار العلوم بنگلہ دیش
جامعہ اشرفیہ اظہار العلوم نیپال
الاشرف اکیڈمی وغیرہ
فراغت کے بعد جامعہ نعیمیہ مرادآباد میں بغیر کسی نذرانہ کے تعلیم وتدریس
اظہار عقیدت، اظہار سخن، منظوم مثنوی مولانا روم، اظہار البیان وغیرہ
مدارس جامعات میں آپ نے افتتاح بخاری اور ختم بخاری شریف کرایا خاص کر جامع اشرف میں یہ سلسلہ اخیر عمر تک جاری رہا
حرمین شریفین کے علاوہ اکابر اولیاء صلحاء خاص کربارگاہ غریب نواز میں اکثر حاضر ہوتے
تبلیغی وترشیدی تربیتی دورے اور خدمت خلق میں زندگی بھر مصروف رہے ہند وبیرون ہند کی کثیر آبادی آپ سے فیضیاب ہیں
انہیں میں خطہ سیمانچل کو آپ نے رشد وہدایت سے خوب فیضیاب فرمایا اور اس دور میں یہاں کے بھولے بھالے لوگوں کی رہنمائی فرمائی جس دور میں آسان ذرائع آمد ورفت کم تھے اور مونگیری پھلواروی ساتھ میں مولوی عابد چندیپوری جیسے لوگ پیر مولوی ہونے کے نام پر لوگوں کو گمراہ کررہے تھے شیخ اعظم علیہ الرحمہ نے جگہ جگہ پہونچ کر ان سب کی گمراہی سے لوگوں کو بچایا
الحمدللہ ہمارے سیمانچل کی یہ ایک بڑی خوبی ہے کہ یہاں کے سنی اجمیر کچھوچھہ بریلی مار ہریرہ بدایوں بہار شریف پنڈوہ چمنی بازار تمام خوش عقیدہ خانوادوں سے عقیدت رکھتے ہیں اسی میں اپنی بھلائی اور کامیابی مضمر سمجھتے ہیں
مرید کوئی کہیں سے ہو قادری نقشبندی چشتی سہروردی برکاتی اشرفی رضوی رشیدی تیغی سب اعلیٰ حضرت والے ہیں
درس اتحاد
میری طالب علمی کا ابتدائی زمانہ ہے ناسک مہاراشٹر میں شیخ اعظم کی آمد ہوئی ہے مجھے اچھی طرح یاد ہے آپ نے پوری تقریر کچھوچھہ بریلی کے قلبی تعلقات اور اتحادپر فرمائی۔ تقریر میں باربار ایک جملہ دہراتے تم لوگ آپس میں مت لڑو جو کچھوچھہ کا نہیں وہ بریلی کا نہیں جو بریلی کا نہیں وہ کچھوچھہ کا نہیں
دوران خطاب آپ نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کا جنازہ ابا حضور سرکار کلاں نے پڑھایا
اگر ان دونوں بزرگوں میں اختلاف ہوتا تو کیا ایسا ہوتا ایک دوسرے کی عزت وتوقیر اور محبت کا آپ نے خوب اظہار فرمایا
شفقت
ویسے تو دور طالب علمی میں ناسک جامعہ اشرفیہ برہانپور سملیا بنگال اور پھر امیر العلوم سمنانیہ کچھوچھہ میں تعلیم کے دوران متعدد بار شرف دید حاصل رہا اور برہانپور میں خدمت کا موقع بھی حاصل رہا لیکن 2008یا پھر 9 جامعہ نعیمیہ کے دور تعلیم میں ایک بار بلیا یوپی کے ایک جلسہ کو خطاب کرنے کی غرض سے جانا ہوا بلیا سے واپسی پر کچھوچھہ شریف بارگاہ مخدومی پہونچا شرف قدم بوسی سے فارغ ہوکر شیخ اعظم کی خدمت اور ان کی بابرکت مجلس میں تھوڑی دیر بیٹھنے کا اعجاز ملا سلام دست بوسی کے حضرت نے احوال دریافت فرمائے جو کچھ تھا عرض کیا حضرت نے ادعیہ کثیرہ سے نوازا اور دست شفقت سر اور گلے پر پھیر کر مستفیض کیا
لوگوں کی بھیڑ اور پھر ان سب کی التجائیں اور اس میں احقر کو خاص توجہ سے نوازنا آج تک وہ منظر دیکھنے کو آنکھیں ترس رہی ہیں اچھا ایک بات اس ہجوم میں بھی ایک بات جو مجھے بار بار یاد آتی ہے حضرت عمر کے آخری پراو میں تھے طبیعت ناساز تھی لیکن اس موقع سے بھی میں مختار اشرف لائبریری اور قوم وملت کی فلاح سے متعلق گفتگو فرماتے ہوئے سنا
انتقال
۳۰ربیع الاول ۱۴۳۳ھ مطابق 22فروری 2012کو آپ نے وصال یار فرمایا اناللہ واناالیہ رٰجعون
یکم ربیغ الآخر کو آپ کے صاحبزادے قائدملت دام ظلہ علینا نے جنازہ پڑھایا
جنازہ میں شرکت
مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ میں راقم کے مشق افتاء کا پہلا سال تھا خبر سنتے ہی دل ودماغ پر رنج و غم کا گہرا اثر ہوا اور چند احباب کی معیت میں جانب خلد آباد روانہ ہوگیا ہر چہار جانب عشاق دیوانوں عقیدت مندوں کا سیلاب تھا لوگ لائن لگاکر شرف زیارت حاصل کررہے تھے لیکن استاذی حضرت علامہ غلام غوث اشرفی جامعی صاحب شیخ الحدیث امیر العلوم سمنانیہ کی مہربانی سے ایک لمبے وقت تک جسد اطہر کی زیارت اور نزدیک میں بیٹھ کر تلاوت درود وسلام پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی جنازہ میں شریک ہوکر پھر پٹنہ لوٹ گیا واپسی پر پٹنہ تک علاقہ کے بزرگ عالم حضرت مولانا ایوب صاحب اور مولانا ارشدالقادری صاحب منورہ نورﷲ مرقدھما کی معیت حاصل رہی
مولیٰ کریم حضرت شیخ اعظم اور ہمارے ان دونوں عالم دین کے درجات کو بلند فرمائے
تمام بزرگان دین کے فیوض وکمالات برکات و حسنات کا ہمیں حصہ عطا فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ
مفتی صابررضامحب القادری نعیمی کشن گنجوی
سورجاپور اتردیناجپور بنگال


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں