قومی یوم پریس کے موقع پر کشن گنج میں پروگرام کا انعقاد
جانبدارانہ اور ایک خاص عینک سے کی جانے والی صحافت ملک کے لئے نقصاندہ ہے۔علی رضا صدیقی
نیوزٹوڈے اردو: قومی یوم پریس کی مناسبت کشن گنج پریس کلب میں ایک پروگرام کشن گنج ضلع انتظامیہ کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا جس میں ضلع کے مختلف مقامات کے صحافیوں نے شرکت کی۔ "میڈیا سے کون نہیں ہے ڈرتا" کے عنوان سے منعقد اس پروگرام کی صدارت اے ڈی ایم کشن گنج برجیش کمار نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈی پی آر او کشن گنج رنجیت کمار نے انجام دیا۔یہاں موجود صحافیوں نے صحافت اور مذکورہ عنوان پر اپنی باتیں رکھیں۔ بیوروچیف قومی تنظیم علی رضا صدیقی نے کہا کہ آج صحافت کا معیار ختم ہوتا جا رہا ہے۔صحافت جیسے پاکیزہ پیشے کو کچھ لوگوں نے بدنام اور گندہ کر دیا ہے۔آج قومی یوم صحافت کا دن سبھی صحافیوں کے لئے ایک طرف جہاں محاسبہ کا دن ہے ونہی دوسری طرف عہد کا بھی دن ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی حقیقی معنوں میں ترقی و خوشحالی ہو۔ملک میں امن و محبت، اخوت و مساوات ہمدردی و رواداری اور آپسی بھائی چارگی ہو اور صحیح معنوں میں جمہوری قدروں کے ساتھ ملک آگے بڑھے تو اس کے لئے صحافیوں کو اپنا اہم کردار ادا کرنا ہوگا اور اس کے لئے ضروری ہے کہ غیر جانبدارانہ صحافت کو فروغ دیا جائے۔مسٹر الحاج علی رضا صدیقی نے زور دیکر کہاکہ آج ملک کے ذیادہ تر مسائل اشتہار کے لالچ میں اور جانبدار ہوکر کی جانے والی صحافت کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں جس پر ہمیں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آج سے ملک کی ستر فیصد صحافت ایماندار اور غیر جانبدار ہو جائے تو ملک کے ستر فیصد مسائل کا حل یقینی طور پر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں موجودہ وقت کی صحافت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر صحافت کا معیار اسی طرح بنا رہا تو آنے والے دنوں میں اس کے بیحد خطرناک نتائج بر آمد ہوں گے لہذا یہ وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے کہ تمام صحافی حضرات محاسبہ کریں اور ایماندار، بے باک و غیر جانبدارانہ صحافت کا عہد کریں۔اس موقع پر یہاں موجود صحافیوں میں میتھلیش جھا، سکھ ساگر ناتھ سنہا، راجیش دوبے، فاروق اعظم، محمد منور، سئلیش اوجھا، آکاش جھا، مئینک کمار، موبید حسین، شکتی جواردار، ضیائ الرحمان، عمر فاروق اور گورو کمار وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں