تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 24 دسمبر، 2021

سابق مورچہ صدر وینے تمانگ اور روہت شرماترنمول میں ہوئے شامل

سابق مورچہ صدر وینے تمانگ اور روہت شرماترنمول میں ہوئے شامل
 سابق مورچہ صدر وینے تمانگ اور روہت شرماترنمول میں ہوئے شامل

 سابق مورچہ صدر وینے تمانگ اور روہت شرماترنمول میں ہوئے شامل

نیوزٹوڈے اردو:آپ کو یاد ہوگا کہ 2016 میں دارجلنگ کے پہاڑ پر ایک بڑی تحریک چلی تھی۔ گورکھا لینڈ کے مطالبہ کو لے کر 105 دن کی طویل تحریک تھی۔ وینے تمانگ اور بمل گورونگ اس تحریک کی قیادت کررہے تھے۔ونئے تمانگ کا شمار اعتدال پسند لیڈروں میں ہوتا ہے، جب کہ بمل گورونگ ایک جارحانہ لیڈر کی شبیہ رکھتے ہیں۔ وینے تمانگ شروع ہی سے امن کی بحالی کے حامی تھے۔ انہوںنے پہاڑ میں امن قائم کرنے کی پوری کوشش کی۔ وینے تمانگ کے یہ الفاظ ممتا بنرجی کو بہت پسند آئے اور جب پہاڑی تحریک ختم ہوئی تو وینے تمانگ کو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا بالواسطہ آشیرواد حاصل ہوا، یہ سب جانتے ہیں۔ یہ سب باتیں آج بنگال اور خاص طور پر پہاڑ کی سیاست سے جڑی ہوئی ہیں۔

گورکھا جن مکتی مورچہ کے سابق صدر وینے تمانگ پہاڑی سیاست میں ایک ایسا چہرہ ہیں، جن کے بارے میں پہلے سے قیاس کرنا مشکل ہے، لیکن کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی اشارہ ضرور ملتا ہے۔ جب وینے تمانگ نے 15 جولائی 2021 کو پارٹی سے استعفیٰ دیا تو کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ان کی حکمت عملی ترنمول کانگریس میں جانے کی ہو گی۔ آج وینے تمانگ نے ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کی، تو پہاڑ کے لوگ حیران ہیں کہ انہیں اتنی دیر کیوں لگ گئی۔

گورکھا جن مکتی مورچہ کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ وینے تمانگ کسی پارٹی میں شامل ہوں گے یا اپنی نئی پارٹی بنائیں گے، لیکن انہوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔ نہ کسی پارٹی میں گئے اور نہ ہی اپنی پارٹی بنائی۔ کافی دیر مکمل خاموشی میں گزر گئی۔ تاہم جس طرح سے وہ شروع سے ہی ممتا بنرجی کی تعریف کر رہے تھے، اس سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ ترنمول میں شامل ہو جائیں گے۔ آج دو سینئر ریاستی وزراءبرتیا باسو اور ملائے گھٹک کی موجودگی میں وینے تمانگ کے ساتھ روہت شرما نے بھی ٹی ایم سی کا جھنڈا تھام لیا۔ روہت شرما کرشیانگ کے سابق ایم ایل اے ہیں۔

وینے تمانگ اور دیگرلیڈران کے جی ٹی اے انتخابات سے پہلے ترنمول کانگریس میں شامل ہونے سے پہاڑ کی سیاست گرم ہوگئی ہے اور بات چیت کا دور شروع ہوگیا ہے۔

 ترنمول میں شامل ہونے کے بعد وینے تمانگ نے کیا کہا:

 پارٹی میں شامل ہونے کے بعد وینے تمانگ نے کہا ہے کہ ممتا بنرجی ایک توانا لیڈر ہیں۔ ان کی پارٹی ترنمول کانگریس قومی سطح کی پارٹی بن چکی ہے۔ ایسی پارٹی میں شامل ہونا اور عوام کی خدمت کرنا بڑی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس میں شامل ہو کر میں پہاڑ اور شمالی بنگال کے لوگوں کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ گورکھا لینڈ کے مسئلہ پر انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کا مسئلہ نہیں ہے۔ پہاڑی عوام ترقی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس پہاڑ میں ترقی کررہی ہے اور آئندہ بھی کرے گی۔ وینے تمانگ نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں دیدی کو وزیر اعظم کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر ممتا بنرجی حکومت کے دو وزرا برتیا باسو اور ملائے گھٹک نے وینے تمانگ اور روہت شرما کا اپنی پارٹی میں خیرمقدم کیا اور کہا کہ ان کے پارٹی میں آنے سے ترنمول کانگریس پہاڑمیں بہت مضبوط ہوگی۔ جیسا بھی ہو، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وینے تمانگ کے ترنمول کانگریس میں شامل ہونے سے پہاڑ کی سیاست کیا موڑ لیتی ہے۔ کیا ممتا بنرجی وینے تمانگ کو پہاڑ کی ترقی کے لئے کوئی اہم ذمہ داری دیںگی یا انہیں وزیر بنائیں گی۔

وینے تمانگ اور روہت شرماکے ترنمول میں شامل ہونے پراپوزیشن پارٹیوں کی تنقید:

 حکمراں جماعت ترنمول کانگریس نے پہاڑ پر بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ گورکھا جن مکتی مورچہ کے سابق صدر وینے تمانگ اور روہت شرما آج راجدھانی کلکتہ میں ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے۔ دوسری طرف سی پی ایم نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سی پی ایم لیڈر سمن پاٹھک نے الزام لگایا کہ چھوٹی پارٹی کا اب پہاڑ پر کوئی وجود نہیں ہے۔ ان دنوں ترنمول اور بی جے پی کی چھتری کی سیاست پہاڑ پر چل رہی ہے۔ سمن پاٹھک نے کہا کہ ترنمول اور بی جے پی پہاڑیوں کی سیاسی پارٹیاں چلا رہے ہیں اور پہاڑ کے لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کر رہے ہیں۔ دوسری طرف کانگریس نے بھی اس بارے میں کچھ ایسا ہی کہا ہے۔ کانگریس ضلع صدر شنکر ملاکر نے کہا کہ وینے تمانگ ترنمول میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج جو کچھ ہوا، اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

ترنمول کا جواب:

 اس تناظر میں سینئر ترنمول لیڈر گوتم دیب نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ دو پہاڑی لیڈر وینے تمانگ اور روہت شرما ترنمول میں شامل ہو گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تنقید کرنے پر انہوں نے کہا کہ ان جماعتوں کا پہاڑ پر کوئی وجود نہیں ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad