تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 24 دسمبر، 2021

آزادی کے 75برس بعدبھی کانکی ریلوے اسٹیشن پلیٹ فارم اور بنیادی سہولیات سے محروم

آزادی کے 75برس بعدبھی کانکی ریلوے اسٹیشن پلیٹ فارم اور بنیادی سہولیات سے محروم
 آزادی کے 75برس بعدبھی کانکی ریلوے اسٹیشن پلیٹ فارم اور بنیادی سہولیات سے محروم


 آزادی کے 75برس بعد بھی کانکی ریلوے اسٹیشن (Kanki Railway Station)  پلیٹ فارم (Platform) اور بنیادی سہولیات (Basic Facilities) سے محروم

 عوامی سڑک کی حالت بھی قابل رحم ، ڈی آر ایم نے کہا کہ جلدہی ورک پروپوزل بھیجا جائے گا 

نیوزٹوڈے اردو:اسلام پور محکمہ کے گوالپوکھر 2نمبر بلاک کے تحت کانکی ریلوے اسٹیشن(Kanki Railway Station) کافی قدیم ریلوے اسٹیشن ہے۔آزادی کے پہلے سے ہی اس اسٹیشن پر آمدورفت جاری ہے لیکن اتنے لمبے عرصے میں اب تک اس اسٹیشن میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے ۔

پلیٹ فارم Platform کی کمی:

گوالپوکھردو نمبر بلاک کے اندر کانکی ایک ایسا اسٹیشن ہے جہاں سے لوگوں کو ہر جگہ جانے آنے کی سہولت فراہم ہے، مگر حکومت کی غفلت کی وجہ سے اب تک اس اسٹیشن کا پلیٹ فارم تک نہیں بن پایا۔ریاستی اور مرکزی حکومت کے تنازع کی چکی میں عام لوگ پسے جارہے ہیں اورکانکی قرب وجوار کے لوگوں کوکافی پریشانی اٹھانا پڑتا ہے۔

مقامی لیڈران نے کیاکہا؟

 اس سلسلے میں گوالپوکھر 2نمبر بلاک کے کانگریس صدر غلام مصطفی نے کہا کہ کانکی میں ایک سائنٹیفیک اور ماڈرن اسٹیشن ہونا بہت ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس اسٹیشن پر کوئی پلیٹ فارم نہ رہنے کی وجہ سے معذور افراد، ضعیف العمر شہری، حاملہ خواتین اور چھوٹے بچے ٹرین میں چڑھ نہیں سکتے ہیں،انہیںبمشکل چڑھنا ہوتا ہے ۔بعض اوقات دونوں طرف ٹیکٹ کاو¿نٹر نہ رہنے کی وجہ سے لوگوں کو ریلوے لائن کروس کر کے جانے آنے میں بہت پریشانی ہوتی ہے۔ عوام کے جانے آنے کے لئے اسٹیشن کے دونوں طرف راستہ ہے مگرغیر مرمت کے وجہ سے عوام کو جانے آنے میں تکلیف ہوتی ہے ۔اس وجہ سے مجبوراً سب کو کشن گنج جانا پڑتا ہے ۔

اتر دیناج پور ضلع چیمبر آف کامرس:

اتر دیناج پور ضلع چیمبر آف کامرس کے صدر نریش جین نے کہا کہ کانکی تجارت کے لئے کافی موزوں جگہ ہے ،کیونکہ کانکی بہار بنگال سرحد پر واقع ہے ،اس کے علاوہ قریب ہی بس اسٹینڈ ہے،جہاںآسانی سے لوگ بس یا ٹرین سے آمدورفت کرسکتے ہیں لیکن کانکی ریلوے اسٹیشن پر بنیاد سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے لوگوں کوکافی پریشانیوں کا سامنا کرناہوتاہے۔انہوںنے کہاکہ کانکی ریلوے اسٹیشن صرف حکومتوں کی عدم توجہی کا شکار ہے ،ورنہ یہاں زمین کی بھی کمی نہیںہے،ایک ترقی یافتہ ماڈرن ریلوے اسٹیشن کے لئے یہاں سبھی بنیادی چیزیں موجود ہیںلیکن اس کے باوجود کانکی کونظر انداز کیاجارہا ہے۔

کانکی گرام پنچایت کے ممبران:

کانکی گرام پنچایت کے ممبران رنجیت منڈل، کرن ریسی اور دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ اسٹیشن کے دونوں طرف جو راستہ ہے وہ ریلوے کے زمین پر موجود ہے اس لئے پنچایت اس پر راستہ نہیں بنا سکتا ہے،

 کانکی ریلوے اسٹیشن کے سوپرائزر:

دوسری طرف کانکی ریلوے اسٹیشن کے سوپرائزر جگن ناتھ لوہرا نے کہا کہ کانکی میں ایک اعلیٰ سطح کا پلیٹ فارم ، اسٹیشن کے دونوں طرف سڑکوں کی مرمت کرنابہت ضروری ہے۔ڈیویژنل کمرشیل منیجر نے کہا کہ یہ سڑک ریلوے کی طرف سے تعمیر کی جائے گی لیکن چونکہ یہ پبلک راستہ ہے اس لئے حکومت پنچایت راستہ بنانے کے لئے اگر این او سی مانگے تو ریلوے حکومت این او سی دے دے گی۔

ڈی آر ایم کٹیہار اوماشنکر یادو:

ڈی آر ایم کٹیہار اوماشنکر یادو نے کہا کہ سڑک، ہائی پلیٹ فارم اور ماڈل اسٹیشن کے لئے ڈپارٹمنٹ میں پروپوزل دیا جائے گا مگر راستہ تیار کرنے کے لئے پنچایت این او سی مانگے تو دیا جائے گا ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad