| ردقادنیت پرحجتہ الاسلام کی معرکتہ الآراکتاب الصارم الربانی ایک مطالعہ۔ |
ردقادنیت پرحجتہ الاسلام کی معرکتہ الآراکتاب الصارم الربانی ایک مطالعہ۔
الصارم الربانی
تاریخ دانوں سے مخفی نہیں کہ ہندوستان میں ایک صدی پہلےبنام مسلم صرف دو فرقےپاۓجاتے تھےاہل سنت وجماعت اور اہل تشیع لیکن یہاں کی تاریخ میں مسلمانوں کے زوال پذیر ہوئے ہوتے ہوتے بہت سے فرقے معرض وجود میں آ گئے انگریز کی شاطرانہ ذہنیت کا شکار ہوکر بنام اہل سنت مسلمان بہترے فرقوں میں بٹ گئے سرزمین نجد سے اٹھنے والی تحریک ابن عبدالوہاب نجدی کے باطل نظریات نے یہاں کے سازگارفضاء کو مسموم اور پراگندہ کرکے رکھ دیا مولوی اسماعیل دہلوی نے نجدی تحریک سے متاثر ہو کرکر تقویتہ الایمان نامی کتاب لکھی اور مسلمانوں میں افتراق وانتشار کی نہ پٹنے والی خلیج پیدا کردی اور یہ کتاب تقویتہ الایمان ، تفویتہ الایمان ثابت ہوئ۔
یہ بھی پڑھیں: تریپورہ فساد پر تمام سیکولر پارٹیوں کی چپی قابل مذمت: مفتی صابر رضا محب القادری
کسی نے کذب باری تعالیٰ کا قول کیا تو کسی نے ختم نبوت کا انکار کیا کسی نے علم غیبﷺ کی توہین کی تو کسی نے نبی پاکﷺ کو مجبور محض لکھا۔ اس طرح کے عقیدے پنپنے لگے ملت اسلامیہ کا شیرازہ منتشر ہو کر رہ گیا۔ محبت رسول ﷺ سے بہت قلوب عاری ہوگئے دلوں کی دنیا ویران ہونے لگی ضیائے ایمانی ضیاء ہونے لگا چیخ وپکار سےفضاء کراہ نے لگی علمائے حق میدان عمل میں آئے مناظرے ہوئے مباحثے ہوئے کتابیں لکھی گئیں مجاہد حریت علامہ فضل حق خیرآبادی نے ابطال الطغوی، امتناع نظیر شاہ فضل رسول بدایونی نے المعتقد، سیف الجبار، علامہ عبدالسمیع رامپوری نے انوار ساطعہ ان کے علاوہ بہت سے اکابر علماء سوکودندان شکن جواب دے لیکن یہ بد عقیدگی کا نہ تھمنے والا سیلاب زورں پر تھا کہ اللہ رب العزت نے سرزمین بریلی میں فقیہ اسلام مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کو علم وفضل کا نیر تاباں بنا کر جلوہ گر فرمایا انہوں نے عہد میں پاۓ جانے والے تمام فرقہاۓ ضالہ قادیانیت نیچریت نجدیت وہابیت دیوبندیت مودودیت اور شیعیت کا خوب خوب رد بلیغ فرمایا
اس وقت میرا موضوع قادنیت کے حوالے سے ہے امام احمد رضا ہی کے عہد میں انگریزوں کی سرپرستی اور ان کے تعاون سے قادیانیت کا فتنہ ظہور میں آیا۔
مرزا غلام احمد قادیانی پنجاب کے ضلع گرداس پور کے علاقہ قادیان میں ۱۸۳۹ کو پیدا ہوا مرزا قادیانی کی زندگی کے مختلف مرحلے ہیں ۱۸۸۰ میں اس نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ۱۸۸۲میں مسیح موعود بن بیٹھا ۱۸۹۱ میں جب اس کے حواریوں کی تعداد بڑھ گئ تو اپنے نبی ہونے کا راگ الاپنے لگا ۱۹۰۱ میں باضابطہ شریعت گڑھ بیٹھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ۱۹۰۸ میں وہ واصل جہنم ہوا اس کے ردوابطال میں بھی علماء حق نے کوئی کسر نہ چھوڑی علامہ غلام دستگیر قصوری رحمۃ اللہ علیہ نے *تحقیقات دستگیریہ ردہفوات براہنیہ رجم الشیاطین ردغلوطات البراھین فتح رحمانی بدفع کیدقادیانی تصدیق المرام بتکذیب قادیانی ولیکھ رام جیسی معرکتہ الارا کتابیں تحریر فرمائیں ان کے علاوہ ان کے علاوہ بہت سے علماء اہلِ سنت نے قادیانیت کی مخالفت میں حصہ لیا اور ان کے گمراہ کن عقائد و نظریات کو قرآن وسنت کی روشنی میں واضح فرمایا
امام احمد رضا قدس سرہ نے بھی اس کی تردید میں ناقابل فراموش انجام دیے قادیانیوں کے رد میں آپ مندرجہ ذیل کتب ورسائل تحریر فرمائے ہیں
(۱) السوءوالعقاب علی المسح الکذاب ۱۳۲۰ھ
(۲) قہرالدیان علی مرتد بقادیان ۱۳۲۳ھ
(۳) الجزء اللہ الدیانی علی المرتد القادیانی ۱۳۴۰ھ
مرزاغلام احمد قادیانی کی حقیقت کو جاننے کیلئے علامہ قصوری اور امام احمد رضا قدس سرھما کے مندرجہ بالا کتب ورسائل کا مطالعہ ضروری ہے اور *حسام الحرمین میں امام احمد رضا نے جن علماء سوء کی تکفیر کی ہےاور علماء حرمین شریفین نے تصدیق فرمائیں ہیں اس میں سب سے پہلا نام *مرزا غلام احمد قادیانی کا ہے امام احمد رضا قدس سرہ کے دو صاحبزادے تھے ایک حجتہ الاسلام علامہ حامد رضا خاں اور دوسرے مفتی اعظم ھند علامہ مصطفی رضا خاں یہ دونوں بھی اپنے فضائل و کمالات اور گراں قدر کارناموں کے سبب اپنے والد گرامی کے سچے جانشیں ثابت ہوئے الولد سرلابیہ کے مصداق ٹھرے اور فرقہاۓ ضالہ کے ردو ابطال اور احقاق حق میں پوری زندگی صرف فرمائ۔
حجتہ الاسلام علامہ حامد رضا خاں کی ولادت ۱۲۹۲ھ/ ۱۸۷۸ء میں ہوئ ۱۳۱۱ھ ۱۸۹۴ء صرف ۱۹ سال کی عمر میں درس نظامی سے فارغ ہوئے فراغت کے ایک سال بعد ۱۸۹۵ھ /۱۳۱۲ء میں مسند افتاء پر جلوہ گر ہوئے اور فتویٰ نویسی کی ذمہ داری سنبھالی ۱۳۳۲ھ بمطابق ۱۹۰۵ میں زیارت حرمین شریفین سے فیضیاب ہوئے بیعت واردات کا شرف حضرت شاہ ابوالحسین نوری قدس سرہ سے حاصل تھی اور والد گرامی اعلیٰ حضرت نے ۱۳ سلاسل طریقت کی خلافت واجازت سے نوازا والد گرامی کے علاوہ نوری میاں اور حضرت شیخ المشائخ سید شاہ علی حسین اشرفی میاں رحمۃ اللہ علیہ سے بھی آپ کو خلافت واجازت حاصل تھی ۱۳۲۶ھ بمطابق ۱۹۰۸ء میں جامعہ رضویہ منظر اسلام کے مہتمم ہوئے اور ۱۳۵۴ھ بمطابق ۱۹۳۶ء میں اسی دارالعلوم کے صدرالمدرسین ہوئے ۱۳۶۲ھ بمطابق ۱۹۴۳ء میں آپ کا وصال پرملال ہوا حجتہ الاسلام نے اعلیٰ حضرت کے نقش قدم پر قائم رہ کر مختلف مذہبی سیاسی بعد مخالف پرزور مقابلہ فرمایا کتابیں تحریر فرمائیں ملک اور بیرون ملک تبلیغی دورے فرمائے اعلیٰ حضرت کی کئ کتابوں کا ترجمہ فرمایا مقدمات تحریر کئے قادیانیت کے رد میں الصارم الربانی علی اسراف القادیانی حجتہ الاسلام کی سب سے پہلی تصنیف ہے جو آپ نے صرف ۲۳ سال کی عمر شریف میں تحریر فرمائی ہیں
الصارم الربانی در اصل ایک استفتاء کا جواب ہے جو سہارنپور سے مرزا قادیانی کے خلیفہ اور اس کے پھیلائے ہوئے ایمان شکن مفسد عقائد سے متعلق کیا گیا ہے حجتہ الاسلام نے رد قادیانیت اور عقائد صحیحہ کے ثبوت میں دلائل وبراہین کے انبار لگادئے ہیں الصارم الربانی کی اہمیت کا اندازہ امام احمد رضا کی ایک تحریر سے لگایا جا سکتا ہےجو انہوں نے اپنی کتاب *السوء العقاب میں فرمایا فرماتے ہیں پہلے ادعائے کاذب کی نسبت سہارنپور سے ایک سوال آیا تھا جس کا مبسوط جواب ولد اعز فاضل نوجوان مولوی حامد رضا خان حفظہ اللہ تعالیٰ نے لکھا اور بنام تاریخی *الصارم الربانی علی اسرف القادیانی ۱۳۱۵ھ مسمی کیا یہ رسالہ حامی سنن ماحی فتن ندوی فگن مکرمنا عبد الوحید صاحب فردوسی حین من الفتن نے اپنے رسالہ مبارکہ تحفۂ حنیفہ میں کے عظیم آباد سے ماہوار شائع ہوتا ہے میں طبع فرمایا
اعلیٰ حضرت کی اس تحریر نے الصارم الربانی کی اہمیت سے آشکارا کیا ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کی اشاعت سب سے پہلے ماہنامہ تحفۂ حنیفہ پٹنہ سے ہوئ حجۃ الاسلام کے فتویٰ نویسی کی مدت نصف صدی کو محیط ہے ۱۲۱۳ھ سے ۱۳۶۲ھ تک آپ کے نوک قلم سے فتاوے صادر ہوئے لا ینحل کی مسائل کی عقدہ کشائی آپ نے فرمائ آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ کئی جلدوں میں ہونا چاہیئے تھا لیکن یہ بھی بہت بڑا المیہ ہے کہ آج آپ کے سارے فتاوے دستیاب نہیں ہیں اس وقت *حجتہ الاسلام کے چند فتاویٰ کا مجموعہ فتاویٰ حامدیہ راقم کے سامنے ہے جس میں الصارم الربانی استفتاء مع جواب استفتاء صفحہ نمبر ۱۳۱ تا ۲۲۱ سو صفحات پر مشتمل ہے *استفتاء کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بجسد عنصری ذی حیات جسمانی آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں جسے قطعی الدلالہ سے ثابت کریں ہم کو صرف قرآن وحدیث سے ثبوت چاہئے اور کس وقت وہ آسمان سے رجوع کرینگے رجوع کے وقت بنوت و رسالت سے متصف رہینگے یا نبوت ورسالت سلب کر لی جائیگی خود مستعفی ہو جائیں گے یا اس منصب سے معزول کر دئے جائیں گے اور وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں *متوفیک فلما توفیتنی پیش کرتے ہیں ان دونوں کا ترجمہ رسول خدا ﷺ اور ابن عباس سے پیش کرتے ہیں اور سند میں صحیح بخاری اور اجتھاد بخاری موجود کرتے ہیں دونوں آیتوں کا ترجمہ رسول اکرم ﷺ یا کسی صحابی سے منقول ہو اور صحیح بخاری میں موجود ہو عنایت فرمائیں امام مہدی اور دجال کا نکلنا قرآن میں ہے یا نہیں
حجتہ الاسلام نے جواب سے پیشتر ﷲعزوجل کی حمد و ثناء اور بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں نظر کرتے ہوئے ایک جامع خطبہ تحریر فرمایا پھر اس کے بعد نہایت ہی ملی دردوکرب کا اظہار کرتے ہوئے امت مسلمہ کی توجہ آنے والے جواب اور حالات کی طرف ملتفط فرمائ اور قاری کو نفس مسئلہ سمجھنے میں آسانی ہو اس کیلئے مقدمات خمسہ ترتیب دئے اور ہر مقدمہ کے تحت *حجتہ الاسلام نے ایسی اصولی بحث فرمائ ہے جو ورطۂ حیرت میں ڈال دے اور قاری عش عش کرنے لگے اور حق و باطل کے درمیان واضح فرق ہو جائے
مقدمہ اولی گمراہ فرقوں کی علامات اور صحیح شناخت کے بیان میں ہے مقدمہ ثانیہ تسلیم شدہ امور کے اقسام ضروریات دین ضروریات اہلِ سنت ثابتات محکمہ ظنیات محتملہ کے بیان میں ہے
مقدمہ ثالثہ۔ اس بارے میں ہے کہ اپنے دعوے پر دلیل دینا مدعی کی ذمہ داری ہے
مقدمہ رابعہ۔ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ جو جس بات کا مدعی ہو اس سے اس دعوے کے متعلق بحث کی جائے گی خارج از بحثوں کا رد بلیغ ہوگا
مقدمۂ خامسہ۔ کسی نبی کا انتقال دوبارہ دنیا میں ان کی تشریف آوری کو محال نہیں کرسکتا یہ ممکنات میں سے ہے اور اس کا وقوع بھی ہو چکا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں حضرت عزیز علیہ السلام کا قصہ
حجت الاسلام نے قرآن و سنت سے استدلال کرتے ہوۓ مقدمات خمسہ کی تفصیل و تسہیل فرمائی ہے - اور نظریات حقہ کو ثابت اور عقائد فاسدہ کی تردید میں روشن خطوط تحریر فرماۓ ہیں اس کے بعد جواب دیتے ہوۓ حجۃ الاسلام رقم طراز ہیں کہ : حضرت عیسی علیہ السلام کے تعلق سے تین مسئلے ہیں پہلا مسئلہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نہ قتل کۓ گۓ نہ سولی دیۓ گۓ بلکہ آسمان پر اٹھا لیے گۓ اور بجسد عنصری اور بقید حیات یہ عقیدہ ضروریات دین سے ہے – اس کا منکر یقینا کافر ہے *اس پر حجۃ الاسلام نے قطعیۃ الدلالہ ثبوت فراہم کیے – اس کے بعد آپ نے مزید فرمایا : قرآن مجید سے اتنا ثابت اور مسلمان کا ایمان کہ سیدنا عیسی علیہ السلام یہود و عنود کے مکر و کیود سے بچ کر آسمان پر تشریف لے گۓ آیا یہ کہ تشریف لے جانے سے پہلے ان کی روح زمین پر قبض کی گئی اور جسم یہیں چھوڑ کر صرف روح آسمان پر اٹھائی گئی اس کا آیت میں کوئی ذکر نہیں یہ دعوی زائد ہے جو مدعی ہو ثبوت پیش کرے ورنہ بے ثبوت محض مردود ہے
دوسرا مسئلہ حضرت عیسی علیہ السلام کا قرب قیامت نزول فرمانا اور اس کے ضمن میں آپ کے زمانے میں واقع ہونے والے واقعات و آثار جیسے حضرت امام مہدی کی امامت دجال کا فتنہ یاجوج ماجوج کا خروج حضرت عیسی علیہ السلام کا دین محمدی صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کا تبلیغ کرنا اور آپ کی خوشبو سے دجال کا مثل نمک پگھلنا سواۓ اسلام کے دنیا سے سارے مذاہب کا اٹھا لیا جانا دجال کا قتل کرنا چالیس سال تک حکومت کرنا شادی کرنا صاحب اولاد ہونا بعد وصال حضورﷺ کے روضۂ انور میں دفن ہونا وغیرہ آثار و علامات کا حق ثابت ہونا حجۃ الاسلام نے تینتالیس احادیث کریمہ سے ثابت فرمایا ہے صحاح ستہ کے علاوہ درجنوں کتب احادیث کے حوالے آپ نے اس کے ثبوت میں جمع فرمادیۓ ہیں جو یقینا آپ کی محدثانہ عظمت پر حجت ہے۔
ہمیں یوٹیوب پر ضرور سبسکرائب کریں:
تیسرا مسئلہ سیدنا عیسی علیہ السلام کی حیات سے متعلق ہے اس سلسلے میں آپ فرماتے ہیں اس کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ اب بھی وہ زندہ ہیں یہ مسائل قسم ثانی سے ہے جس میں خلاف نہ کریگا مگر گمراہ کہ اہل سنت کے نزدیک تمام انبیاء کرام علیہم السلام بحیات حقیقی زندہ ہیں ان کی موت صرف تصدیق وعدۂ الہی کیلے ایک آن کو ہوتی ہے پھر ہمیشہ حیات حقیقی ابدی ہے ائمہ.کرام نے اس مسئلہ کو محقق فرمادیا ہے آگے فرماتے ہیں سیدنا الوالد المحقق دام ظلہ نے اپنی کتاب سلطنت المصطفی فی ملکوت کل الوری میں اس کی تفصیل فرمائی دوسرے یہ کہ اب تک ان پر یعنی حضرت عیسی علیہ السلام پر موت طاری نہ ہوئی زندہ ہی آسمان پر اٹھا لیے گۓ بعد نزول دنیا میں سالہا سال تشریف رکھ کر اتمام نصرت اسلام وفات پائیں گے یہ مسائل قسم آخیرین میں سے ہے اس کے ثبوت کو اولا اس قدر کافی و وافی ہے رب جل و علا نے فرمایا : *و ان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ یعنی کوئی کتابی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لاۓ جس کی تفسیر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے گزری مخالف نے اپنی جہالت سے صرف صحیح بخاری کی تخصیص کی تھی اس کی تفسیر نہ صرف اس میں بلکہ صحیح بخاری و مسلم دونوں میں موجود ہے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات سے پہلے سارے کتابی ان کے ہاتھ پر اسلام کا کلمہ پڑھیں گے اور آپ کی تصدیق کریں گے اور ابھی یہ ہوا نہیں اس کا مطلب حضرت عیسی علیہ السلام کو موت بھی واقع نہیں ہوئی زندہ آسمان پر اٹھا لیے گۓ. ان کا نزول ہوگا لوگ ان کے ہاتھ پر اسلام کا کلمہ پڑھیں گے پھر ان پر موت آۓ گی اس امر کے ثبوت میں حجت الاسلام نے احادیث و تفاسیر کی جن کتابوں سے استدلال فرمایا ہے وہ یہ ہیں بخا ری، مسلم ، شرح مشکوۃ للعلامہ طیبی ، ترجمان القرآن ، ارشاد الساری ، تفسیر جلالین ، تفسیر امام ابو البقاء ، عکبری ؍ تفسیر سمیں ، فتوحات الہیہ ، معالم التنزیل ، تفسیر کبیر، تفسیر عنایۃ القاضی و کفایۃ الراضی ، عمدۃ القاری تجرید الصحابہ کتاب القواعد اصابہ وغیرہ پھر حجۃ الاسلام نے خلیفۂ میسح موعود کذاب کے افترا کا جواب دیا ہے اور وفات کے صحیح معنی و مفہوم کی وضاحت فرمائی ہے قرآن میں ارشاد ہوا اذ قال ﷲ یا عیسی انی متوفیک و رافعک الی و مطہرک من الذین کفروا - جب فرمایا اللہ تعالی نے اے عیسی میں تجھے وفات دینے والا اور اپنی طرف اٹھانے والا اور کافروں سے دور کر دینے والا ہوں
حجۃ الاسلام فرماتے ہیں
اولا حرف واو ترتیب کیلے نہیں جو پہلے مذکور ہوا اس کا پہلا ہی واقع ہونا ضرور ہوتو آیت سے صرف اتنا سمجھا گیا کہ وفات و رفع و تطہیر سب کچھ ہونے والا یے اور یہ بلا شبہ حق ہے یہ کہاں سے مفہوم ہوا کہ رفع سے پہلے موت ہو لے گی اس پر حجت الاسلام نے تفسیر امام عکبری کی عبارت نقل فرمائی ہے -
ترجمہ یہ ہے ، یعنی یہ دونوں کلمے مستقبل کے لۓ ہیں اور رافعک الی ومتوفیک مقدر یعنی تمہیں اپنی طرف اٹھا لونگا اور تمہیں وفات دونگا اس لۓ کہ انہیں آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا پھر اس کے بعد ان کو وفات ہوگی پھر اس کی تائید میں حجۃ الاسلام نے تفسیر سمیں ، تفسیر جمل ، تفسیر مدارک ، تفسیر کشاف ، تفسیر بیضاوی ،تفسیر ارشاد سے استدلال فرمایا اور فرماتے ہیں ثانیا توفی خواہ مخواہ معنئ موت میں خاص نہیں توفی کہتے ہیں تسلیم و قبض پورا لے لینے کو اس پر دلائل دینے کے بعد ایک تیسرا معنئ توفی بمعنی استیفاۓ اجل یعنی تمہیں عمر کامل تک پہونچاؤنگا اور کافروں کے قتل سے بچاؤنگا ان کا ارادہ پورا نہ ہوگا تم اپنی عمر مقرر تک پہونچ کر اپنی موت انتقال کرو گے اس کی تائید اور توثیق میں بھی آپ نے کتب تفاسیر کی بہت ساری عبارتیں نقل فرمائی ہیں اور پھر ایک چوتھے معنی کی جانب رہنمائی فرماتے ہوۓ رقمطراز ہیں وفات بمعنی خواب ہے قرآن مجید میں موجود ہے وہو الذی یتوفی کم باللیل اللہ ہے جو تمہیں وفات دیتا ہے رات میں سلاتا ہے اس دعوی کے ثبوت میں حجت الاسلام نے اور ایک دوسری آیت کریمہ پیش فرمائی اور دلیل سے دعوی کو مزین فرمایا استفتا میں ایک سوال یہ بھی درج تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ رجوع میں نبی رہیں گے یا نہیں نبوت و رسالت سے وہ خود مستعفی ہوں گے یا خداۓ تعالی انہیں اس عہد جلیلہ سے معزول کر دیگا حجت الاسلام فرماتے ہیں حاشا للہ نہ وہ خود مستعفی ہوں گے اور نہ کوئی نبی نبوت سے استعفا دیتا ہے نہ اللہ عز و جل انہیں معزول فرماۓ گا وہ ضرور اللہ تعالی کے نبی ہیں اور ہمیشہ نبی رہیں گے اور ضرور *محمد رسول اللہﷺ کےامتی ہیں اور ہمیشہ امتی رہیں گے اس پر بھی آپ نے دلائل مرتب فرماۓ اور مسلمانوں کو تنبیہ کرتے ہوۓ قرآنی آیات و احادیث نقل کرنے کے بعد گمراہ بد دین کفر و شرک بکنے والوں سے متعلق ارشاد فرمایا یہ ہر وقت طلب جاہ و شہرت میں مبتلا رہتے ہیں کہ کسی طرح وہ بات نکالتے جس آسمان تعلی پر ٹوپی اچھالے دور دور نام مشہور ہو خاص و عام میں ذکر مذکور ہو اپنا گروہ الگ بناۓ وہ ہمارا غلام ہم اس کے امام کہلائیں ان میں جن کی ہمت ترقی کرتی ہے *وانا ربک الاعلی بولتے اور دعوی خدائی کی دکان کھولتے ہیں جیسے گزرے ہوؤں میں فرعون نمرود و غیرہما مردود اور آنے والوں میں میسح قادیانی کے ایک اور میسح خرنیش یعنی دجال لعین اور جو ان سے کم ہمت رکھتے ہیں کذاب یمامہ کذاب ثقیف وغیرہما ادعاۓ نبوت و رسالت پر تھکتے ہیں اور اوگٹھی ہمت والے کوئی مہدی مدعو بنتا ہے کوئی غوث زمانہ کوئی مجتہد وقت چنین و چناں
حجت الاسلام نے جھوٹے مسیح مدعو کوئی مضبوط دلائل و شواہد کے ذریعے جگہ جگہ للکارا ہے اور سوالات وارد فرماۓ ہیں. اور ایک جگہ پہلے مقدمہ کی کامل وضاحت کے بعد فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی مطابق اس زمانے فساد میں ایک تو پیٹ بھرے بے فکرے نیچری حضرات تھے جنہوں نے حدیثوں کو یکسر ردی کر دیا .. اور زور زبان صرف قرآن عظیم پر دار و مدار رکھا حالانکہ واللہ وہ قرآن کے دشمن اور قرآن ان کا دشمن وہ قرآن کو بدلنا چاہتے ہیں اور مراد الہی کے خلاف اپنے ہواۓ نفس کے موافق اس کا معنی گڑھنا اب دوسرے نۓ فیشن کے میسح اس انوکھی آن والے پیدا ہوۓ کہ ہم صرف قرآن شریف سے ثبوت چاہیے جس کے تواتر کے برابر کوئی تواتر نہیں کچھ سطور کے بعد آگے فرناتے ہیں :
مسلمانوں تم ان گمراہوں کی ایک نہ سنو جب تمہیں قرآن میں شبہ ڈالیں توتم حدیث کی پناہ لو اگر اس میں ایں و آں نکالیں تو تم ائمہ کا دامن پکڑو اس تیسرے درجے میں آکر حق و باطل صاف کھل جاۓ گا اور مقدمۂ ثانیہ کے تحت حجت الاسلام نے ایک اہم بات تحریر فرمائی فرماتے ہیں ضروریات دین میں بہت باتیں ایسی ہیں جن کا منکر یقینا کافر ہے مگر بالتصریح ان کا ذکر آیات و احادیث میں نہیں .. مثلا باری عزوجل کا جہل محال ہونا قرآن و حدیث میں ہے اللہ عزوجل کے علم احاطۂ علم لاکھ جگہ ذکر مگر امکان و امتناع کی بحث کہیں نہیں پھر کیا جو شخص کہے کہ واقع میں تو بیشک اللہ تعالی سب کچھ جانتا ہے عالم الغیب و الشہادۃ ہے کوئی ذرہ اس کے علم سے چھپا نہیں مگر ممکن ہے کہ جاہل ہوجاۓ تو کیا وہ کافر نہ ہوگا کہ اس امکان کا سلب صریح قرآن میں مذکور نہیں حاشا للہ ضرور کافر ہے .. اور جو اسے کافر نہ کہے خود کافر ہے .. تو جب ضروریات دین ہی کی ہر جزیہ کی تصریح صریح قرآن و حدیث میں موجود نہیں تو ان سے اتر کر اور کسی درجے کی بات پر مڑچڑاپن کہ ہمیں تو قرآن ہی دکھاؤ ورنہ ہم نی مانیں گے .. نری جہالت ہے یا صریح ضلالت .. اس کی نظیر یوں سمجھنا چاہیے کہ کوئی کہے کہ فلاں بیگ کا باپ قوم کا مرزا تھا زید کہے اس کا ثبوت کیا ہے ہمیں قرآن میں لکھا دکھاؤ کہ مرزا تھا ورنہ ہم نہ مانیں گے کہ قرآن کے تواتر کے برابر کوئی تواتر نہیں ہے .. ایسے سفیہ کو مجنون سے بہتر اور کیا لقب دیا جا سکتا ہے
آخری سوال تھا امام مہدی اور دجال سے متعلق کہ قرآن شریف میں ہے یا نہیں اس پر آپ فرماتے ہیں ہے اور بیت تفصیل سے ہے ایک نہیں متعدد آیتیں دیکھو سورہ و النجم شریف آیت تیسری اور چوتھی سورہ فتح شریف آخری آیت کا صدر سورۂ قلب القرآن مبارک کی پہلی چار آیتیں وغیرہ ذلک مواقع کثیرہ ..
الصارم الربانی میں قادیانیوں سے حجۃ الاسلام کا ایک آخری اور اہم سوال جس نے قادیانیت کو مبہوت کر کے رکھ دیا آج تک کسی قادیانی سے جواب نہ بن سکا اور قیامت تک جواب نہیں بن پاۓ گا .. حجۃ الاسلام فرماتے ہیں قادیانی کا نکلنا اور اس کا عیسی مدعو ہونا قرآن شریف میں ہے یا نہیں اگر ہے تو اس کی آیت اگر نہیں تو اس کی وجہ؟ آج بھی *حجۃ الاسلام کا یہ سوال قادیانیوں کی گردن پر لٹکتی تلوار بن کر عائد ہے .. کسی بھی قادیانی سے قیامت کی صبح تک جواب نہیں بن سکتا الصارم الربانی اس وقت تحریر میں آئی جب مرزا کذاب زندہ تھا اور وہ کوئی جواب نہ دے سکا .. در اصل قادیانیت دجل و فریب کفر و ارتداد قرآن و حدیث سے متصادم خبیث عقائد و نظریات کا مجموعہ ہے .. اس پر مرزا کی کتابیں شاہد ہیں .. *جیسے کشتی نوح اعجاز احمدی ضمیمہ دافع الوسواس مواہب الرحمن ازالۂ اوہام التبلیغ یہ ساری کتابیں کذب و افترا اور فاسد خیالات پر مشتمل ہیں .. *ﷲعزوجل کا شکرواحسان ہے کہ حجۃ الاسلام نے اس فتنہ کی ہرزہ سرائیوں کا جواب دیا .. اور مرزا قادیانی کی عیاری و مکاری کو طشت ازبام فرمایا .. اور قادیانیوں کے کفریات سے عالم اسلام کو آشکارا کیا.. بلا شبہ یہ *معرکۃ الآراء کتاب الصارم الربانی رد قادیانیت میں بے نظیر ہے .. اور اپنی اہمیت و افادیت کے اعتبار سے گراں قدر حجت ہے.. اس کتاب نے قادیانیت کی ساری قلعی کھول کر رکھ دی ہے قادیانیت کے علاوہ دیگر فرق باطلہ کی شناخت بھی آسان کر دیا ہے ..اس کے ورق ورق سے حجت الاسلام کی محدثانہ عظمت فقیہانہ بصیرت مفسرانہ شان واضح ہے دلائل و براہین کی کثرت اس کا روشن ثبوت ہے.. کہ آپ علم و فن کے کوہ ہمالہ تھے اور صحیح معنوں میں اپنے والد امام احمد رضا کے علوم و فنون کے سچے وارث اور جانشین ہیں.. اللہ تعالی عزوجل آپ کے درجات کو بلند اور فیضان کو عام فرماۓ اور امت مسلمہ کو تمام فرقہاۓ ضالہ سے محفوظ رکھے.. آمین یا رب العالمین !


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں