تازہ ترین

Post Top Ad

جمعرات، 23 دسمبر، 2021

اردو الفاظ کاذخیرہ جمع کیجیے!

اردو الفاظ کاذخیرہ جمع کیجیے!
اردو الفاظ کاذخیرہ جمع کیجیے!


اردو الفاظ کاذخیرہ جمع کیجیے!

(نئے لکھنے والوں سے چند باتیں)

      ہم ”ابا اما“ بولنا سیکھتے ہی، انگریزی الفاظ کا ذخیرہ کرنا شروع کر دیتے ہیں؛ الفاظ کی اسپیلنگ اور اس کے معنی ازبر کرنا تعلیم کا اہم حصہ بن جاتا ہے۔ مدرسوں اور کوچنگ سینٹروں میں اساتذہ اور گھروں میں سر پرست اس بات پر بہت زور لگا تے ہیں کہ بچے زیادہ سے زیادہ الفاظ و معانی (Words-Meanings) یاد کر لیں، ان کی اسپیلنگ اور تلفظ (pronounce ) بالکل درست ہوں؛ 
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اردو کا کیا!!!
وہ تو ہماری ”مادری زبان“ ہے۔
اور ہم نے مادری زبان کا مطلب یہ سمجھ لیا کہ بچہ ماں کے پیٹ سے سیکھ کر پیدا ہوتا ہے، اب مزید سیکھنے کی ضرورت نہیں!

     یورپی ملکوں میں، طلبہ عام طور پر 15 سے 18 سال کے درمیان کہانیاں اور تجربے لکھنے شروع کر دیتے ہیں۔ اردو کی درگت یہ ہے کہ ہمارے لکھاری مدرسوں سے فارغ ہو چکنے کے بعد قلم پکڑنے کا مشورہ کرتے ہیں اور کوئی تحریر لکھ ڈالی تو اس بات پر اپنا پوار زور لگا دیتے ہیں کہ وہ تحریر شایان شان شائع ہو۔ یہ ہمارا خیال ہے۔ اردو کے اساتذہ کا خیال ہم سے کچھ مختلف ہے۔ دبستان دہلی کے نمائندہ شاعر اور ڈاکٹر اقبال، علامہ حسن رضا بریلوی سمیت کئی بڑے ادیب و  شاعر کے استاد، حضرت داغؔ دہلوی کہتے ہیں:  ؎
نہیں کھیل اے داغؔ یاروں سے کہ دو
کہ آتی ہے  اردو  زباں  آتے  آتے

    بد قسمتی یہ ہے کہ، جب فکر پژمردہ، خیالات منجمد، ذہن و دماغ ژولیدگی کا شکار ہونے لگتے ہیں؛ ذوق و جذبات کا دائرہ سمٹ کر محصور ہونے لگتا ہے؛ معاشی الجھنیں مطالعہ کے لئے سد راہ بننے جاتی ہیں، تب ہمارا لکھاری طبقہ ”تحریر و قلم“ کی بنا رکھتا ہے۔

ہر مضمون نگار کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ محنت و مشقت سے جی چرانا نہیں چاہیے۔ ایک کامیاب قلم کار بننے کے لئے ذخیرہ الفاظ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ بازار جائیے، اپنے دار الاقامہ، مطبخ، درس گاہ میں داخل ہوکر اپنی معلومات کا جائزہ لیجیے!
جو چیزیں آپ کو نظر آ رہی ہیں، زیادہ اشیاء کے نام آپ کو اردو میں یاد ہیں یا انگریزی میں! اگر جواب انگریزی آیا تو کہیں نہ کہیں آپ اپنی مادری زبان سے نا انصافی کر رہے ہیں۔


از۔مفتی انصاراحمد مصباحی
9860664476

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad