تازہ ترین

Post Top Ad

جمعرات، 23 دسمبر، 2021

رزق حلال کی اہمیت اور امت کی ترقی کے راستے

رزق حلال کی اہمیت اور امت کی ترقی کے راستے.از: محمدفیاض عالم قاسمی
رزق حلال کی اہمیت اور امت کی ترقی کے راستے.از: محمدفیاض عالم قاسمی


رزق حلال کی اہمیت اور امت کی ترقی کے راستے

از: محمدفیاض عالم قاسمی

انسان کی زندگی روح اور جسم کا مجموعہ ہے، جس طرح روح کے بغیر انسان کا وجود ممکن نہیں، اسی طرح انسانی جسم کی بقا پانی اور خوراک کے بغیرممکن نہیں۔ خوراک ہی انسانی جسم کو ہر وقت متحرک رکھتی ہے۔ اس لئے اسلام نے حصول رزق کے معاملے میں بھی مکمل راہ نمائی کی ہے اور انسان کو اچھے اور پاکیزہ رزق کے حصول کی تعلیم دی اور اس کے لئے اسباب پیدا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو مخاطب کرتے ہوئے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: ۔اے پیغمبرو ! حلال چیزیں کھاو¿ اور نیک عمل کرو، تم جو کچھ کرتے ہومیں انھیں جانتاہوں۔(المومنون)

چنانچہ سارے انبیاءعلیہم السلام محنت کرکے حلال روزی کمانے اور کھانے کا اہتمام کرتے تھے، حضرت داو¿دعلیہ السلام کے بارے میں آتا ہے کہ ” وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سےکھاتے تھے۔(صحیح بخاری:70)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم  ﷺنے فرمایا: ” ہر نبی نے بکریاں چرائی ہیں،صحابہ نے عرض کیا، یارسول اللہ آپ نے بھی چرائی ہے؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا ہاں میں بھی ایک زمانہ تک اہل مکہ کی بکریاں چراتا رہا تھا۔ (صحیح بخاری)

پھر ایسا ہی حکم تمام مسلمانوں کودیاہے:” اے مسلمانو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دی ہیں انہیں کھاو¿ اور اللہ کا شکر ادا کرو، اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو“ (البقرہ)

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو اور تمام اہل ایمان کو بھی پاکیزہ اورچیزوں کے کھانے کا حکم دیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی حلال کردہ چیزیں ہی پاک اور طیب ہیں، حرام اشیا پاک نہیں ہیں۔ رزق حلال کے ساتھ عمل صالح کی تاکید سے معلوم ہوتا ہے کہ رزقِ حلال سے نیک کام کرنا آسان ہوجاتاہے۔

حضورﷺ نے فرمایا : کسب حلال کی طلب دیگرافرائض کے بعدایک اہم فریضہ جو تمام مسلمانوں پر لازم ہے ،(شعب الایمان للبیھقی)اورآپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے ہاتھ کی محنت کی کمائی کھانے سے بہتر کوئی کھانا نہیں۔(مسندلامام احمد)

اسلام رزقِ حرام سے منع کرتا ہے کیوں کہ جو چیزیں حرام اور ناپاک ہوتی ہیں، وہ انسانی اخلاق پر برے اثرات مرتب کرتی ہیں ،جسمانی اور روحانی دونوں اعتبار سے انسان کے لئے وہ مضر ہوتی ہیں۔ ان چیزوں کے استعمال سے انسان اخلاقی انحطاط اور ذہنی پراگندگی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس لئے ان سے بچنے کا حکم دیا گیا۔ارشاد ربانی ہے :”اے ایمان والو! آپس میں ناحق ایک دوسرے کا مال نہ کھایاکرو۔“(سورة النسائ)ناحق دوسرے کا مال کھانے کا مطلب یہ ہے کہ حاصل شدہ مال، چوری ، ڈکیتی، غصب اور دھونس کے ذریعے سے حاصل کیاگیاہو،یا ناپ تول میں کمی یا طے شدہ معاہدے کے خلاف گھٹیا چیز دے کر حاصل کیاگیاہو، دیانت داری اور فرض شناسی کی بجائے کام چوری سے حاصل کیاگیاہو،اس کے علاوہ ذخیرہ اندوزی، چور بازاری، سود اور ملاوٹ کے ذریعے سے جو مال حاصل کیاجائے وہ بھی حرام ہے۔

 ہمارے معاشرے میں جو اخلاقی برائیاں پائی جاتی ہیں ان کا زیادہ تر تعلق ہمارے ذرائع آمدنی کے مشکوک ہونے سے ہے۔ یاد رکھیں کہ جس طرح مردار اور ناپاک چیزیں حرام ہیں، اسی طرح ایسے مال و دولت کا استعمال بھی درست نہیں جو ناجائز ذرائع سے حاصل کیا گیا ہو۔

رسول اللہﷺ نے ایک ایسے آدمی کاذکر کیاجولمبے سفر میں ہو،پراگندہ بال ہو،تھکاوٹ اورماندگی کاحال ہو۔ اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھاکرپکاررہاہو، اے میرے رب !اے میرے رب! مجھے فلاں فلاں نعمت عطافرما، میرے فلاں فلاں گناہوں کو معاف فرما،میری فلاں فلاں مصیبت کو دورفرما۔لیکن اس کو دعاءقبول نہیں ہورہی ہے کیوں کہ اس کاکھاناحرام، اس کاپینا حرام، اس کالباس بھی حرام ہے، اس کی پرورش اورپرداخت بھی حرام غذاسے ہوئی ہوتو اس کی دعاءکیسے قبول ہوسکتی ہے۔ (صحیح مسلم )

کسب حلال اور رزق طیب کی بے شمار برکات ہیں۔ جب لقمہ¿ حلال انسان کے پیٹ میں جاتاہے توا س سے خیر کے کا م صادر ہوتے ہیں،بھلائیاں پھیلتی ہیں،وہ نیکیوں کی اشاعت کا سبب بنتاہے۔ اس کے برعکس حرام غذا انسان کو روحانی لحاظ سے اپاہج کردیتی ہے۔نور ایمانی بجھ جاتاہے،دل کی دنیا ویران وبنجر ہوجاتی ہے۔شیطان اس کے قلب پر قابض ہوجاتاہے۔ جس آدمی کو حرام کی لت لگ جاتی ہے، اس سے بھلا امور خیر کیسے اور کیوں کر انجام پاسکتے ہیں؟ حلال وحرام کایہ کھلا فرق اس حد تک اثر انداز ہوتاہے کہ طیب وپاکیزہ کمائی کھانے والا عند اللہ مقبول ومستجاب بن جاتاہے، جب کہ حرام کواپنے بدن کاجز بنانے والا ،اللہ تعالیٰ کے ہاں مردود ٹھہرتا ہے۔اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتی ہیں۔جب دعا قبول نہیں ہوگی تو مسلمانوں کے مسائل کیسے حل ہوسکتے ہیں،جو جسم حرام غذاسے پلی ہو، اس سے بننے والے خون میں ایمانی حرارت کیسے آسکتی ہے۔اس سے پیداہونے والی ذہنی قوت میں مثبت سوچ کیسے جنم لے سکتی ہے۔؟ یہی امت کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا: کہ اگر کوئی بندہ اپنے پیٹ میں حرام لقمہ ڈالتاہے، تو اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کا کوئی عمل قبول نہیں کرتاہے۔جس بندے کی پرورش حرام اورسود سے ہوئی ہو جہنم ہی اس کے لئے مناسب ہے۔(معجم الاوسط) حرام غذاسے پلنے والے کی عبادتیں رائیگاں جاتی ہیں، جو دعائیں مانگی جاتی ہیں وہ قبول نہیں ہوتیں،خیر وبھلائی کے جوکام کئے جاتے ہیں ان میں اخلاص نہیں رہتاہے، اخلاق وکردارمیں وہ کشش نہیں ہوتی ہے جو غیروں کو مائل کرسکے۔ باتوں میں وہ وزن نہیں ہوتا ہے جو اسلامی تعلیمات کوقبول کرنے پر مجبورکردے، اس لئے مسلمانوں کو اپنی خوراک اورلباس پر، اپنی تجارت اورکاروبار پر غورکرناچاہیے کہیں یہ حرام تو نہیں ہے، یا مشتبہ تو نہیں ہے

۔علامہ اقبال نے کیاہی خوب کہا ہے:

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad