تازہ ترین

Post Top Ad

پیر، 27 دسمبر، 2021

جمعیة علمائے ہند کے جنرل سکریٹری سیمانچل کے دورہ پر

جمعیة علمائے ہند کے جنرل سکریٹری سیمانچل کے دورہ پر
 جمعیة علمائے ہند کے جنرل سکریٹری سیمانچل کے دورہ پر

 جمعیة علمائے ہند کے جنرل سکریٹری سیمانچل کے دورہ پر

از: محمد زکریا ممتاز دیناج پور بنگال الہند

جمعیة علمائے ہند کی کارکردگی اب کسی سے مخفی نہیں، ہمیشہ سے ہی یہ جماعت پاکبازوں کے سپرد رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی ان شاءاللہ،

یوں تو اس تحریک سے منسلک ہر ہر فرد آفتاب ومہتاب ہے لیکن راقم نے جمعیة علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مخدوم قوم وملت حضرت اقدس مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی میں جو فعالیت،قوم و ملت کا درد، چوطرفہ چوکسی، چھوٹوں پر شفقت اور خبر گیری کا انوکھا نہج پایا بیشک وہ قابل تحسین وتقلید ہے، بہر حال حضرت والا کا یہ دورہ جامعہ جعفریہ مدنی نگر سرائے کوڑی میں جلسہ¿ دستار بندی میں شرکت کی غرض سے تھا۔


یہ بھی پڑھیں:کیا تریپورہ کی چیخ وپکار ہمیں سنائی نہیں دیتی ہیں؟


18 جمادی الاولی1443ھ مطابق 23 دسمبر 2021 بروز جمعرات باگڈوگرہ ایئرپورٹ سے حضرت مولانا نوشاد عادل صاحب قاسمی ومولانا معظم صاحب قاسمی آرگنائز جمعیة علمائے ہند کے یہاں تشریف لے گئے۔ وہاں سے تقریبا 1 بجے ضلع اتردیناج پور کے مشہور ومعروف ادارہ، ادارہ فیض القرآن ٹھکری باڑی آنا ہوا جہاں ضلعی اعتبار سے تمام یونٹ کے صدور ونائب صدور موجود تھے ،حضرت مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی نے جمعیة یوتھ کلب کا تعارف، جمعیة علمائے ہند کی خدمات پرتفصیلی روشنی ڈالی اور جمعیت اوپن اسکول کی اہمیت وافادیت کی طرف رہنمائی کی خصوصا تریپورہ کے آنکھوں دیکھے احوال و کارگذاری بیان کی اور فرمایا کہ سب سے افسردہ کن بات یہ رہی کہ وہاں رسول اکرم ﷺ کی اجتماعی اہانت ہوئی جو کسی کے لئے بھی ناقابل برداشت ہے، جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ 

یہاں سے جلسہ گاہ روانہ ہونا تھا راقم کی سعادت ہے کہ یہیں سے حضرت والا کی صحبت نصیب ہوئی اور واپسی تک ساتھ رہا ،اس سفر میں حضرت مولانا ومفتی جاوید اقبال صاحب صدر جمیعة علمائے بہار ومولانا معروف کرخی قاسمی صاحب ساتھ ساتھ رہے، جلسہ گاہ میں اور بھی دیگر معزز اکابر حضرات جیسے مولانا یوسف صاحب تاولی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند،ونائب امیرالہندحضرت مولانا ومفتی سلمان صاحب منصور پوری دامت برکاتہم تشریف فرماتھے۔

اس پروگرام میں حضرت مولانا حکیم الدین صاحب نے اس جانب خاص توجہ دلائی کہ آج ہمارا نام ووٹر لسٹ سے غائب کیا جارہا ہے لہذا اس طرف توجہ دی جائے اور جس کسی کی بھی عمر 18سال تک پہنچ چکی ہو خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی، ووٹر آئی ڈی بنالی جائے نام درست نہ ہو تو تصحیح ضرور کرالیں، جس پرمولانا مناظرنعمانی صاحب نے بتایا کہ جمعیة ضلع کشن کے بینر تلے ووٹر لسٹ بیداری مہم کے تحت یہ کام ہوا ہے لیکن اب تک یہ فقط 10 فیصد ہی ہے سو فیصد تک پہنچنا ہے،جامعہ جعفریہ مدنی نگرکشن گنج کا جلسہ دستاربندی کامیاب رہا اور جامعہ کے طلبہ کی محنت پروگرام میں خوب واضح تھی جو کہ حضرت مولانا خالد صاحب مہتمم جامعہ کے خلوص کی برکت ہے کہ اتنی کم مدت میں بڑی ترقی کی راہ پر رواں دواں ہے۔پھر یہاں سے حضرت مولانا سلمان صاحب منصور پوری ومولانا حکیم الدین صاحب، مولانا مناظر نعمانی صاحب کے یہاں ناشتہ کے لیے تشریف لے گئے۔

دار العلوم نعمانیہ شیشہ گاچھی میں تعلیمی بورڈ اورضلع کشن گنج کے تمام یونٹ کے ذمہ داران اپنے اپنے حلقے کی رپورٹ لیے تیار تھے جو یکے بعد دیگرےحضرت ناظم عمومی کی موجود گی میں پیش کی گئی۔شہرکشن گنج یونٹ کی مختصر رپورٹ یہ ہے کہ رمضان المبارک میں علمائ کرام و ائمہ مساجد کے درمیان ریلیف کٹ تقسیم کی گئی، لاک ڈاو¿ن اور کرونا کے خوفناک دور میں ماسک اور sanitizer تقسیم کیا گیا ویکسی نیشن بیداری مہم کے تحت کیمپ لگوا کر عوام کو ویکسین لگوائی گئی۔ ماڈل مکتب کے قیام کی طرف عملی اقدام کیا گیا جس کے لیے شہر کشن گنج میں ہی علمائے کرام کے ہاتھوں ایک مکتب کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔اسی طرح جمعیةعلمائے ٹھا کرگنج نے یہ رپورٹ پیش کی کہ اپنے یونٹ میں تقریبا دو لاکھ 35 ہزار کے صرف سے کیٹس اور کمبل وغیرہ تقسیم کئے گئے ، دو بچیوں کی شادی میں خاص رقم دے کر رخصتی کرائی گی، اسی طرح مسجدوں کی خستہ حالی کو دیکھتے ہوئے پچاس سے زیادہ مساجد میں تعمیری و تربیتی کاموں میں حصہ لیا۔

جمعیة علمائے پوٹھیا بلاک پر جب ہم نے ایک نظر ڈالی تو پتا چلا کہ جمعیة علمائے کشن گنج کے ہر یونٹ دوسرے یونٹ سے فوقیت لیتے جارہے ہیں،اس یونٹ میں آگ کی زد میں آئے 33 خاندان کی ساڑھے تین لاکھ بشکل راشن، برتن ، ٹین، سے مدد کی، جس میں مسلم وغیر مسلم دونوں شامل ہیں۔ 

اس یونٹ کے تحت 11 مکاتب چل رہے ہیں۔

جمعیةیوتھ کلب:

جمعیت یوتھ کلب اس پروگرام کا بنیادی مقصد ذہنی و جسمانی اور فکری اعتبار سے ایسی ٹریننگ دینی ہے جس سے جہاں بچے بچیاں اعلی اخلاق و کردار کی حامل ہو جاتی ہیں وہیں۔ قدرتی حادثات کے موقع پر کسی کے سہارے کے بغیر خود کی حفاظت کے ساتھ ساتھ دوسروں کے تحفظ میں نمایاں کردارادا کرنے کے قابل بن جاتی ہیں۔ جمیعةعلمائے ہندگزشتہ کئی سالوں سے بچوں اورنوجوانوں کو بھارت اسکاو¿ٹ اینڈگائیڈ کی ٹریننگ دے رہی ہے اسی سلسلے کی سنہری کڑی کے طور پرجمعیة علمائے کشن گنج کے زیر اہتمام بھارت اسکاو¿ٹ اینڈ گائیڈ کے تحت ٹریننگ دی گئی اس میں کل 140 حفاظ اورعلمائے کرام شامل ہوئے۔

 اسکاوٹ گائیڈ کے تین زمروں میں سے پرویش میں 68 طلبہ اور روررس ماسٹر ٹریننگ میں کل 72 طلبہ نے شرکت کی اور ہر یونٹ کے تمام ذمہ داران اس میں پیش پیش نظر آئے۔تمام یونٹ کے رپورٹ پیش ہونے کے بعد محترم جناب مولانا و مفتی جاوید اقبال صاحب صدر جمعیة علمائے بہار نے آنے والے تمام مہمانان کرام کا شکریہ ادا کیا اور ہر یونٹ کی کارگردگی سے بہت خوش ہوئے، اور ہر ایک سے درخواست کی کہ جمعیة علمائے بہار کا ایک اپنا دفتر پٹنہ شہر میں ہونا چاہیے اس کی محنت میں اب ہر ایک کو لگنا ہے ان شائ اللہ۔پھر یہاں سے چند لمحے کے لئے مثالی مکتب نام سے ایک مکتب میں حضرت والا کا جانا ہوا وہ بے شک اسم بامسمیٰ تھا اور لائق تقلیدوتائیدبھی، بچوں کی محنت وکارکردگی، اساتذہ کرام کے خلوص اور لگن کو بیان کر رہی تھی،کچھ بچیاں فقط چار ماہ میں تکمیل حفظ قرآن کا عزم مصمم کی ہوئی ہیں اور 12 و 15 صفحہ تک سبق سنارہی ہیں، بچے وبچیاں جس سلیقے سےبیٹھی ہوئیں تھیں یہ چیز مثالی مکتب کو یقینا مثالی بناتی ہے۔

قلت وقت دامن گیر ہونے کی وجہ سے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے اور پھر اگلے سفر کے لیے روانہ ہوگئے ،نم آنکھوں سے حضرت والا کو الوداع کہتے ہوئے رخصت کیا ،ہمارا یہ دو روزہ سفر بڑی برق رفتاری کے ساتھ تمام ہوا۔فالحمد للہ علی ذالک


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad