تازہ ترین

Post Top Ad

ہفتہ، 4 دسمبر، 2021

دیہی تعلیمی اداروں میں طلبہ کی تعداد میں کمی، اساتذہ گھر گھر جاکر طلبہ کو دے رہے ہیں ترغیب

 دیہی تعلیمی اداروں میں طلبہ کی تعداد میں کمی، اساتذہ گھر گھر جاکر طلبہ کو دے رہے ہیں ترغیب

دیہی تعلیمی اداروں میں طلبہ کی تعداد میں کمی، اساتذہ گھر گھر جاکر طلبہ کو دے رہے ہیں ترغیب
کورونا کے بعد اسکول میں طلبہ کے آنے کا منظر

نیوزٹوڈے اردو: کورونا وائرس کے باعث مختلف تعلیمی ادارے کافی عرصے سے بند تھے۔ ریاستی حکومت کی ہدایت پر 16 نومبر سے تعلیمی ادارے کھول دئے گئے ہیں لیکن اسکول میں طلبہ وطالبات کی کمی ہے۔ دیہی علاقوں کے طلبہ کو اسکول بھیجنے کے لئے اساتذہ گھر گھر جا کر والدین کو آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کو اسکول آنے کی ترغیب بھی دے رہے ہیں۔ ان اساتذہ کے مطابق گاجول بلاک کے چتکول رام کرشنا ہائی اسکول اور متعلقہ اسکولوں کے 99 فیصد طلبہ کسان اور یومیہ اجرت والے مزدور ہیں۔ وہ ہر ایک کو اسکول بھیجتا ہے تاکہ لڑکے اور لڑکیاں تعلیم حاصل کر سکیں۔ تاہم کورونا کے دوران تقریباً دو سال سے اسکول بند رہنے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے اسکول نہ جانے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور دیگر اساتذہ گھر گھر جا کر والدین کو آگاہ کر رہے ہیں۔ اس دوران سرپرستوںنے گاجول بلاک میں اسکول کے اساتذہ کے کردار پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ گاجول بلاک میں چٹ کل رام کرشنا ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر سدیپتا مشرا نے بتایا کہ اسکول 16 نومبر سے کھل گیاہے لیکن اسکول کھلنے کے بعد سے طلبہ کی حاضری کی شرح میں واضح کمی آئی ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اساتذہ، طلبہ اور والدین کو آگاہ کرنے کے لئے گاو¿ں گاو¿ں جا رہے ہیں۔اساتذہ کی اس کوشش کو بھی کافی اچھا رسپانس مل رہا ہے۔ا سکول کے بچوں کے والدین کے مطابق اسکول گزشتہ ماہ دوبارہ کھل گیا، لیکن بچے ا سکول نہیں جا رہے۔ اساتذہ کے اقدام کو دیکھتے ہوئے اب انہوں نے بچوں کوا سکول بھیجنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad