لڑکیوں کی شادی کی عمر
ملک میں عورتوں کے حقوق پہ کام ہونے چاہیے۔ سرکار اس پر توجہ دے رہی ہے ، یہ اچھی بات ہے ۔ لیکن عادت کے مطابق کئی انتہائی اہم، حساس اور ضروری موضوعات کے رہتے ہوے سرکار ، اپنی جگ ہنسائی کے لئے ایک بار پھر غیر ضروری قانون میں الجھ گئی۔
عوتوں کے حقوق کی بات کریں تو اس وقت ان کے لئے علاحدہ کالجیز اور اسکولوں کی ضرورت ہے ، بھاری بھرکم جہیز کی مانگ کے ختم کرنے والے کسی قانون کی اشد ضرورت ہے ، ملک میں ہر دن درجنوں کی تعداد میں لڑکیوں کے ساتھ جھیڑ خاانی ہوتی ہیں ، ان کی اجتماعی عصمت دریاں ہوتی ہیں ، بازاروں اور بھیڑ بار والے علاقوں میں پبلک ٹوائلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے عورتوں کو کئی پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے ، ان چیزوں سے توجہ ہٹا کر سرکار نے لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر 21 سال کے بل کو منظوری دی ہے۔
یہاں یہ بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ لڑکا لڑکی کا ، اپنی مرضی سے ایک ساتھ رہنے کی کوئی عمر یا حد مقرر نہیں ہے ، لڑکیاں 18 سال کے بعد الیکشن لڑ سکتی ہے ، ووٹ ڈال سکتی ہے، نوکری کر سکتی ہے۔ بس شادی نہیں کر سکتی ۔ حیرت ہے ، ابھی تک سرکار نے بلوغت کی عمر 18 سال رکھی ہے۔ یعنی 18 سال کی عمر سے پہلے کی عمر نابالغی کی عمر ہے۔ یہاں یہ ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے، کہ لڑکیاں سرکار کی نظر میں بالغ ہوجانے کے بعد شادی کیوں نہیں کر سکتی۔
بی جے پی سرکار کا یہ پہلا اقدام ہے ، جس میں کسی خاص طبقے یا فرقے کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔ اس بل سے کسی خاص طبقے کو فائدہ یا نقصان نہیں ہوگا ؛ بلکہ اس قانون کے نفع نقصان میں بھارت کے 136 کرور لوگ برابر کے شریک ہیں۔
اسلام میں شادی بیاہ میں عمر کی کوئی تفصیل موجود نہیں۔ بالغ ہونے کے بعد ولی کی اجازت کے بغیر بھی نکاح کر سکتی ہے۔ خدا کرے ، مذکورہ قانون میں کچھ خیر کے پہلو بھی نکل کر سامنے آئے؛ لیکن اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد جن خطرناک نتائج کے خدشے ظاہر کیے جا رہے ہیں وہ نہایت ہی قابل تشویش ہیں۔ یہ بل پارلیمینٹ میں ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا تھا ، جب کہ بل سے فقط دو تین روز قبل آر ایس سپریمو نے ایودھیا میں ہزاروں کی بھیڑ میں آبادی کنٹرول پر نفرت آمیز تقریر کی تھی۔
اس بل کے منظور ہوجانے سے زنا اور چھیڑ خانی کے واردات میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا۔ لڑکیاں بالغ ہونے کے بعد جب تک گھروں میں بیٹھی رہتی ہیں ، گھر کے سارے افراد کو اس کی عصمت کی فکر ستاتی رہتی ہے۔ بھارت روایات کا دیش ہے ، یہاں تہذیب و ثقافت کو مذہب کا درجہ حاصل ہے۔ بھارت کی سنسکرتی ہی ، اس کی پہچان ہے۔ یہاں عورت کی پاک دامنی کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ بھارت کی زمین میں وہ انسان سب سے عظیم اور قابل احترام ہے ، جس نے مشکل حالات میں بھی اپنا دامن ، بدکرداری سے بچائے رکھا ؛ جب کہ یہاں کی تہذیب میں کسی عورت کی بد چلنی انتہائی گھناونا جرم سمجھی جاتی ہے۔ اس قانون کے نافذ ہوجانے سے بھارت کی سنسکرتی پر کاری ضرب لگے گی۔
بد قسمتی سے ، بچیو کو ماں کے پیٹ ہی میں قتل کردینے کے واقعات بھی ہو رہے ہیں۔ لڑکیوں کو، لڑکوں کی بہ نسبت وہ پیار نہیں مل پاتا ، جس کے وہ مستحق ہیں۔ شادی کی کم سے کم عمر 21 سال کرکے بچیوں کے قتل کے معاملات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
21 سال تک لڑکیوں کی اصل خوب صورتی اور جاذبیت ، بسا اوقات ماند پڑنے لگتی ہے۔ شہروں کی بہ نسبت دیہی علاقوں میں دسویں سے آگے تک کی تعلیم کی سہولیات نہیں ہیں ، جس کی وجہ سے دسویں پاس کرنے کے بعد، دیہات کی اکثر لڑکیاں گھروں پر ہی بیٹھی رہتی ہیں۔ ایسے میں ان کی جلد شادی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے کئی خرافات جنم لے سکتی ہیں۔ کم از کم اس قانون کے نافذ العمل ہونے سے پہلے سرکار اگر ، 18 سے 21 سال کے بیچ کی لڑکیوں کی سروے کروا کر ایک رپورٹ تیار کرواتی، تو بہتر نتیجہ بر آمد ہو سکتا تھا۔
از:مفتی انصاراحمدمصباحی
919860664476 / aarmisbahi@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں