دومرحلے میں میونسپلٹی انتخابات کے لئے ہائی کورٹ میں حلف نامہ پیش کیاگیا
پہلے مرحلے میں 22 جنوری کو سلی گوڑی سمیت پانچ میونسپل کارپوریشن جبکہ 27 فروری کو دوسرے مرحلے کے 106 بقیہ میونسپلٹیوں کے انتخابات کا حلف نامہ
west bengal municipality election date
نیوزٹوڈے اردو:ریاستی الیکشن کمیشن کی طرف سے پہلے مرحلے میں 22 جنوری کو سلی گوڑی سمیت پانچ میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات اور 27 فروری کو دوسرے مرحلے کے 106 میونسپلٹی انتخابات کے لئے ہائی کورٹ میں حلف نامہ پیش کئے جانے کے بعد سلی گوڑی سمیت پورے بنگال میں سیاسی درجہ حرارت بڑھنے لگا ہے۔ ادھر ترنمول کانگریس نے انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے۔ وہیں دوسری طرف بایاں محاذ نے ریاستی الیکشن کمیشن کی طرف سے حلف نامہ جمع کرایا ہے۔تاہم بی جے پی، کانگریس، بایاں محاذ اور ترنمول کانگریس چاروں جماعتوں نے ریاست میں جلد انتخابات کرانے کی ریاستی الیکشن کمیشن کی بات کا خیرمقدم کیا ہے۔
سلی گوڑی سے متصل جلپائی گوڑی ضلع کی چار میں سے تین میونسپلٹی میں انتخابات ہوں گے۔ اس کے پیش نظر ترنمول کانگریس نے پانچ رکنی کور کمیٹی تشکیل دی ہے۔ تین میونسپلٹی ہیں جلپائی گوڑی، مال اور دھوپ گوڑی، جن پر ٹی ایم سی کا قبضہ ہے۔ سلی گوڑی میونسپل کارپوریشن پر قبضہ کرنے کے لئے ترنمول کانگریس کافی عرصے سے کوشش کر رہی ہے۔ اس وقت گوتم دیب میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر ہیں اور ان کی پارٹی نے سلی گوڑی کے ووٹروں کو متاثر کرنے کے لئے کئی ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے۔ دوسری طرف سلی گوڑی میونسپل کارپوریشن پر لمبے عرصے سے قابض بایاں محاذ نے ترنمول کانگریس کی نیت پر سوال اٹھایاہے۔ بایاں محاذ نے طنز کیا ہے کہ سلی گوڑی میونسپل کارپوریشن کا انتخاب کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کی طرح مذاق نہ بن جائے!
دارجلنگ ضلع بایاں محاذ کے کنوینر جیوش سرکار نے ترنمول کانگریس پر سوال اٹھائے ہیں۔ وہیں سلی گوڑی میونسپل کارپوریشن کے سابق میئر اشوک بھٹاچاریہ نے ریاستی الیکشن کمیشن کی طرف سے عدالت میں دی گئی انتخابی تاریخوں پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر سلی گوڑی میں 22 جنوری کو انتخابات ہوتے ہیں تو باقی میونسپلٹیوں میں 27 فروری کو انتخابات کیوں؟ اشوک بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ یقیناً ترنمول کانگریس کے پاس کوئی اور منصوبہ ہے۔ ان کے مطابق ترنمول کانگریس دوسری جگہوں سے لوگوں کو سلی گوڑی لا کر دباو¿ بنانا چاہتی ہے، ورنہ اتنے اختلاف کی کیا ضرورت تھی۔ اشوک بھٹاچاریہ نے کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کی مثال دی، جہاں، ان کے مطابق ترنمول کانگریس نے جمہوری حقوق کا گلا گھونٹ دیا۔
جیوش سرکار سلی گوڑی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات منصفانہ اور جمہوری طریقے سے چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے سلی گوڑی میں کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کو نہ دہرانے پر ترنمول کانگریس پر طنز کیا ہے۔ ان کے اس طنز کا جواب گوتم دیب نے دیا ہے۔ ریاستی الیکشن کمیشن کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے گوتم دیب کا کہنا ہے کہ بایاں محاذ کو اپنی جیب میں دیکھنا چاہیے۔ جب 15 مئی 1994 کو سلی گوڑی کے انتخابات ہوئے تو اس سے ایک دن پہلے کانگریس امیدوار ادے چکرورتی کو قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح آزاد امیدوار شیبو چوہان کو بھی قتل کر دیا گیا۔ سب جانتے ہیں کہ یہ قتل کس نے کئے۔
انہوں نے کہا کہ سلی گوڑی میں 2011 کے بعد اس قسم کا ایک بھی واقعہ نہیں ہوا ہے۔ گوتم دیب یہیں پر نہیں رکتے، بایاں محاذ کو آئینہ دکھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات پریس میڈیا کے سامنے ہوئے ہیں، جہاں لوگ ترنمول کانگریس کو ووٹ دینے کے لئے گھروں سے نکلے ہیں، یہ سب کچھ ریموٹ کنٹرول سے نہیں ہوا ہے۔ ایسے میں بایاں محاذ کے لیڈروں کو سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔ ترنمول کانگریس اور بایاں محاذ کے الزامات اور جوابی الزامات کے درمیان بی جے پی نے بھی خاموشی سے انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے۔ سلی گوڑی میونسپل کارپوریشن پر پارٹی کے قبضے کے لئے شنکر گھوش تنظیمی سطح پر کام کر رہے ہیں اور سلی گوڑی میونسپل کارپوریشن پر قبضہ کرنے کے لئے ان کی پارٹی کا پسینہ بہہ رہا ہے۔ ریاستی الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات کی تاریخوں کے باضابطہ اعلان کے بعد یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ سبھی پارٹیاں سلی گوڑی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات جیتنے کے لئے کیا کرنے جا رہی ہیں۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں