تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 10 دسمبر، 2021

ہائی کورٹ نے اشتعال انگیز تقریر کیس میں متھن چکرورتی کو راحت دی

 ہائی کورٹ نے اشتعال انگیز تقریر کیس میں متھن چکرورتی کو راحت دی 

ہائی کورٹ نے اشتعال انگیز تقریر کیس میں متھن چکرورتی کو راحت دی
 ہائی کورٹ نے اشتعال انگیز تقریر کیس میں متھن چکرورتی کو راحت دی 


نیوزٹوڈے اردو:بنگال اسمبلی انتخابات سے عین قبل بی جے پی میں شامل ہونے والے بالی ووڈ اداکار متھن چکرورتی کو کلکتہ ہائی کورٹ نے اشتعال انگیز تقریر کیس میں بڑی راحت دی ہے۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے جج کوشک چندا نے اس معاملے میں درج ایف آئی آر کو رد کر دیا ہے اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ اس معاملے میں تحقیقات کی ضرورت نہیں ہے۔ جج نے کہا کہ ڈائیلاگ دینے والا مشہور ہیرو ہے۔ متھن جو کہ ڈائیلاگ بولنے کے لئے مشہور ہیں، یہ ڈائیلاگ کئی مواقع پر کہہ چکے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے کی تردید نہیں کی۔ مکالمے مضحکہ خیز ہیں۔ کوئی نفرت انگیز تقریر نہیں ہے۔جج نے کہا کہ 17 مارچ 2021 کو یہ مکالمہ بولا تھا۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے تشدد ہوا ہے۔ اس لئے پولس کی طرف سے کوئی بھی کارروائی غیر ضروری ہے۔ انہوں نے ایف آئی آر کو ختم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انکوائری کی ضرورت نہیں۔قبل ازیں اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے جج کوشک چندا نے کہا تھا کہ فلم کے ڈائیلاگ سے نہ تو تشدد ہوتا ہے اور نہ ہی بدامنی ہوتی ہے۔ جج نے کہا کہ فلم شعلے میں امجد خان سے لے کر کئی اداکاروں نے اب تک ہزاروں مقبول ڈائیلاگ دئے ہیں۔ متھن چکرورتی کا ڈائیلاگ بھی بہت مقبول ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بنگال انتخابات سے قبل کلکتہ کے تاریخی بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے جلسہ عام میں بی جے پی میں شامل ہونے والے بالی ووڈ کے اسٹار اداکار متھن چکرورتی نے اپنی فلم کے ڈائیلاگ بولے۔ اس نے کہا تھاکہ ”ماربو ایکھانے، لاش پوربے سوشانے “یعنی میں یہاں ماروں گااور لاش شمشان میں گرے گی۔ متھن چکرورتی کے مکالمے کو حکمراں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے ایک اشتعال انگیز بیان قرار دیا اور اسے پولنگ کے بعد ہونے والے تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad