| علما و مشائخ بورڈ آفیشل چینل پر حضرت ابو بکر صدیق کی یاد میں محفل کا انعقاد |
علما و مشائخ بورڈ آفیشل چینل پر حضرت ابو بکر صدیق کی یاد میں محفل کا انعقاد
نیوزٹوڈے اردو:خلیفہ راشدہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے یوم وصال کی مناسبت سے آل انڈیاعلما و مشائخ بورڈ کی جانب سے آن لائن پروگرام کیا گیا،جس میں پڑوسی ملک کے مشہور ثنا خواں جناب عصمت اللہ قادری نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا جب کہ پورنیہ بہار سے مفتی منظر محسن نے سیدنا صدیق اکبر کی پاکیزہ حیات و خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
پروگرام کے ہوسٹ اسلامی اسکالر عظیم اشرف نے کہا کہ سید نا صدیق اکبر کی پیدائش رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے دوسال چند ماہ بعد ہوئی تھی۔ آپ کا پیدائشی نام عبدالکعبہ تھا۔ اسلام قبول کرنے پر پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کا نام عبد اللہ رکھ دیا۔
حضرت صدیق اکبر نے مردوں میں مولا علی کے بعد بڑوں میں سب سے پہلے مسلمان ہونے کا شرف پایا۔ جب آپ نے اسلام قبول کیا تھا اس وقت آپ کے پاس چالیس ہزار درہم یا دینار تھے ہجرت سے قبل ہی 35 ہزار اسلام کی اشاعت کے لیے خرچ کر دیا تھا ، پھر مدینہ پہنچنے کے بعد بھی آپ کا ہاتھ کھلا رہا یہاں تک کہ غزوہ تبوک کے موقع پر اپنا سب کچھ اللہ و رسول کی رضا کی خاطر اللہ تعالی کی راہ میں قربان کردیا ، جب دنیا سے رخصت ہوئے تو وراثت میں کوئی درہم و دینار نہیں بچا تھا یہ تھا آپ کا جذبہ انفاق فی سبیل اللہ۔
مولانا عمران اشرفی نے فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو عتیق جیسے لقب سے نوازا گیا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی اہل بیت سے محبت رہتی دنیا تک مثال ہے مسلمانوں کو نبی و آل نبی سے محبت کرنا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سیکھنا چاہیے۔
| علما و مشائخ بورڈ آفیشل چینل پر حضرت ابو بکر صدیق کی یاد میں محفل کا انعقاد |
مفتی منظر محسن صاحب نے کہا کہ خلیفہ راشد حضرت ابو بکر صدیق کی سیرت امت کے لیے آییڈیل کا درجہ رکھتی ہے۔ آپ کو کئی معاملات میں اولیت و امتیازی حیثیت حاصل ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلا امیر حج آپ ہی کو مقرر فرمایا،امام الانبیا کی موجودگی میں مسجد نبوی میں امت کی امامت کا شرف بھی آپ ہی کو عطا ہوا،دو مرتبہ امام الانبیا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی اقتدا میں نماز بھی ادا فرمائی،
حضرت سیدنا ابوبکر کی چار پشتوں کو صحابی رسول ہونے کا شرف حاصل ہے آپ کے سوا کوئی ایسا نہیں ہے جس کو یہ فضیلت حاصل ہو۔سیدنا صدیق اکبر شروع سے ہی سلیم الفطرت تھے، شراب نوشی اور بت پرستی سے ایمان لانے سے قبل بھی محفوظ رہے۔جس کی تصدیق رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور جناب جبریل فرشتے نے بھی کی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے وصال کے بعد آپ مسند خلافت کے لئے چنے گئے ، مملکت اسلامیہ کی بنیاد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کے زمانہ میں پڑی کیوں کہ آپ نے نہ صرف لوگوں کے دلوں میں عقائد کو راسخ کیا بلکہ تبلیغی و جنگی وفود ملک کے مختلف حصوں میں بھی بھیجے۔ عقائد کے رسوخ و نفوذ کے لیے آپ نے جو نمایاں کار نامہ انجام دیا وہ فتنہ ارتداد کو کچلنے کی صورت میں ظاہر ہوا۔
حکومت کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے جو کارنامہ آپ نے انجام دیا وہ یہ ہے کہ سرحدوں پر فوجیں بھیج کر دشمنوں پر اپنی حکومت کے داخلی استحکام کا رعب جما دیا۔ ان دونوں کارناموں میں آپ کو دوسرے خلفاے راشدین پر اولیت اور فوقیت حاصل ہے۔
خلافت کی بیعت لینے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے جو خطبہ پڑھا اس میں آپ نے اسلام کی اصل حقیقت کی تصویر کھینچا ہے، وہ خطبہ اس راز کو ظاہر کرتا ہے جس کے سبب سے اسلام نے اتنی تیزی کے ساتھ پوری روئے زمین پر اپنا سایہ پھیلا دیا ، وہ خطبہ یہ ہے: اے لوگو! میں تمہارا امیر مقرر کیا گیا ہوں اور اس میں کوئی شک نہیں اگر میں اچھا کام کروں تو میری مدد کرنا، میں پھر جاوں تو سیدھا کرنا ، سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے، تم میں سے جو کم زور ہے وہی میرے نزدیک طاقت ور ہے اور جو طاقت ور ہے وہی میرے نزدیک کم زور ہے، یہاں تک کہ میں اس سے حق وصول نہ کر لوں ،تم میں سے کسی کو جہاد ترک نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ جب بھی کوئی قوم جہاد کو چھوڑ دے گی اللہ تعالیٰ اس کو ذلت میں مبتلا کر دے گا۔
جب تک میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی فرماں برداری کروں تو میری فرماں برداری کرنا ، اگر مجھ سے اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کا ارتکاب ہو تو تم سے فرماں برداری کروانے کا مجھے کوئی حق نہیں، حضرت سیدنا صدیق اکبر کا یہ خطبہ ان کی متوازن شخصیت اور کردار کا آئینہ دار ہے اور امرا و سلاطین، بالخصوص مسلم حکمراں و قائدین کے لیے اس خطبہ میں بڑا سبق ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق کی مدت خلافت کل تقریباً ڈھائی سال کی تھی 12 یا 13 ربیع الاول 11 ہجری کو خلافت کی بیعت ہوئی۔ تیسرے سال 22 جمادی الآخرہ 13 ہجری میں وصال ہوا وہ گنبد خضرا میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے دائیں پہلو جنت نما مقام پر آرام فرما ہیں۔ بورڈ کے ترجمان عظیم اشرف نے کہا کہ علما مشائخ بورڈ کی جانب سے حضرت اشرف ملت کے زیر سایہ اصحاب و اہل بیت رسول کے مشن کے فروغ کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں