تازہ ترین

Post Top Ad

پیر، 10 جنوری، 2022

مفتی آل مصطفی مصباحی کی رحلت پر ملک بھر سے تعزیتی پیغامات جاری

مفتی آل مصطفی مصباحی کی رحلت پر ملک بھر سے تعزیتی پیغامات جاری
 مفتی آل مصطفی مصباحی کی رحلت پر ملک بھر سے تعزیتی پیغامات جاری


 مفتی آل مصطفی مصباحی کی رحلت پر ملک بھر سے تعزیتی پیغامات جاری

محقق عصر حضرت علامہ مفتی آل مصطفی صاحب مصباحی نے 10جنوری 2022ءکی رات تقریبا ایک بجے 51سال کی عمر میں آخری سانس لیا۔ آپ کی رحلت کی خبرراتوںرات سوشل میڈیا کے ذریعہ پورے ملک میںپھیل گئی۔اس خبر سے مفتی صاحب کے پسماندگان ،علما،دانشوران اور آپ کے تلامذہ سوگوار ہے۔

واضح رہے کہ محقق عصر حضرت علامہ مفتی آل مصطفی صاحب مصباحی ریاست بہار کے کٹیہار ضلع کے تحت سالماری شہجناعلاقے کے رہنے والے تھے۔آپ کے پسماندگا ن میں آپ کی اہلیہ ،تینے بیٹے اورایک بیٹی ہے۔آپ نے تقریبا 31سال کا لمباعرصہ طیبة العلماجامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی میں تدریسی خدمات انجام دئے۔اب تک آپ کی تقریبادودرجن کتابیں اور دوسوسے زائد مقالے شائع ہوچکے ہیں اور جن پر کام جاری ہے اورآپ کے مضامین اور مقالات کامجموعہ تین جلدوںمیںجلدہی شائع کئے جائیںگے ،جن پر آپ کی زندگی میںہی کام شروع کردیاگیاتھا۔

حضرت مفتی آل مصطفی مصباحی صاحب کی رحلت کی خبر ملتے ہی ملک کے دینی ،تعلیمی ،سماجی اور فلاحی ادارے،خانقاہیں اور مفتی آل مصطفی مصباحی کے رفقاومعتقدین نے اپنے اپنے طورپر اظہارتعزیت کیا۔بالخصوص جامعہ اشرفیہ مبارک پور،جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی سمیت کئی مشہور شخصیات کے نام شامل ہیں۔

جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی،مئو کی طرف سے جاری تعزیت نامہ

جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی،مئو کی طرف سے جاری تعزیت نامہ
جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی،مئو کی طرف سے جاری تعزیت نامہ


     آج بتاریخ10جنوری 2022ءبروز دوشنبہ بذریعہ فون یہ اطلاع ملی کہ جماعت اہل سنت کے قابل قدر عالم دین طیبة العلماجامعہ امجدیہ رضویہ کے سینئر استاد حضرت علامہ ومولانا مفتی آل مصطفی صاحب قبلہ مصباحی کا تقریبا ایک بجے رات میں انتقال ہوگیا۔

یہ خبر جماعت اہلسنت کے لئے عموما اور جامعہ امجدیہ رضویہ کے لئے خصوصاکافی اندوہناک ہے۔موصوف کے جانے سے جامعہ امجدیہ رضویہ کا جوعلمی خسارہ ہوا ہے ،وہ ناقابل تلافی ہے۔جامعہ کے تمام اساتذہ ،طلبہ اور اراکین موصوف کے انتقال پر مغموم ہیںاور ان کے پسماندگان کے لئے تعزیت پیش کرتے ہیں۔ 

جملہ اساتذہ کرام نے صبح 9بجے جامعہ کے آفس میں تعزیتی میٹنگ کی اور موصوف کی روح کو ایصال ثواب کیا۔ رب قدیر کی بارگاہ میںدعا ہے کہ حضرت موصوف کی مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے او رپسماندگان کو صبر جمیل اور اس صبرپر اجر جزیل عطافرمائے۔

سوگوار :علاءالمصطفیٰ قادری وجملہ اساتذہ کرام واراکین طیبة العلماجامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی مئو۔

جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں حضرت مفتی آل مصطفی مصباحی کے لئے مجلس تعزیت

جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں حضرت مفتی آل مصطفی مصباحی کے لئے مجلس تعزیت
جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں حضرت مفتی آل مصطفی مصباحی کے لئے مجلس تعزیت


     آج بتاریخ 6 جمادی الآخرہ 1443ھ مطابق 10 جنوری 2022ئ بروز پیر بعد نماز فجر یہ افسوس ناک خبر ملی کہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے موقر فرزند، جماعت اہلسنت کے معتبر عالم وفقیہ حضرت مفتی آل مصطفیٰ مصباحی نور اللہ مرقدہ، استاذ ومفتی جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی، مﺅ، یوپی کا رات 12.30 پر انتقال ہوگیاہے،اناللہ وانا الیہ راجعون۔

مفتی آل مصطفی مصباحی علیہ الرحمہ ہماری جماعت کے جید عالم دین، قابل قدر مفتی اور دیدہ ور فقیہ تھے، آپ نے جامعہ اشرفیہ، مبارک پور میں تعلیم حاصل کی، اور فراغت کے بعد سے اخیر وقت تک جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی میں تدریس اور فتوی نویسی کے فرائض انجام دیے، آپ کے شاگرد اور فیض یافتگان کی ایک بڑی تعداد ہے، آپ مجلس شرعی، جامعہ اشرفیہ کے رکن بھی رہے، اور درجنوں فقہی اور تحقیقی مقالات رقم کیے، ملک و بیرون ملک سے مختلف ماہناموں میں آپ کی علمی تحریریں شائع ہوتی رہیں۔

مفتی صاحب کی وفات سے جماعت اہل سنت کا نا قابل تلافی نقصان ہوا ہے، آپ کی وفات پر جانشین حافظ ملت، عزیز ملت علامہ شاہ عبد الحفیظ صاحب قبلہ سربراہ اعلی جامعہ اشرفیہ مبارک پور نے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا، اور فرمایا کہ مفتی آل مصطفی صاحب علمی دنیا میں ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے، آپ کی وفات سے پوری علمی دنیا سوگوار ہے۔مفتی صاحب کے ایصال ثواب کے لیے جامعہ میں صبح ساڑھے آٹھ بجے ایک مختصر تعزیتی نشست رکھی گئی، تلاوت قرآن کے بعد آپ کے لیے مغفرت اور بلندی درجات کی دعائیں کی گئیں، ساتھ ہی اہل خانہ اور دیگر پسماندگان کے صبر وتسلی کی دعا کی گئی۔

اس تعزیتی پروگرام میں جامعہ کے اشرفیہ کے تقریباً سبھی اساتذہ کرام نے شرکت کی، خصوصیت کے ساتھ حضرت مفتی بدر عالم صاحب قبلہ، صدر المدرسین جامعہ اشرفیہ، مبارک پور، مولانا عبد الحق رضوی صاحب، مولانا محمد نعیم الدین عزیزی صاحب، مفتی محمد نسیم مصباحی صاحب، مفتی زاہد علی سلامی صاحب، مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب، مولانا مسعود احمد برکاتی صاحب، مولانا محمد نفیس احمد مصباحی صاحب، مولانا ناظم علی رضوی صاحب، مولانا اختر کمال مصباحی صاحب، مولانا محمد اختر حسین فیضی صاحب، مولانا غلام نبی صاحب، مولانا ساجد علی مصباحی صاحب، مولانا عرفان عالم مصباحی صاحب، مولانا دست گیر عالم مصباحی صاحب، مولانا محمود علی مشاہدی صاحب، مولانا ناصر حسین مصباحی صاحب، مولانا توفیق احسن برکاتی صاحب، مولانا ہارون مصباحی صاحب، مولانا قاری محمد رضا صاحب،مولانا اشرف خان صاحب، مولانا ازہر الاسلام ازہری صاحب، مولانا عبد اللہ ازہری صاحب، مولانا محمد حبیب اللہ بیگ صاحب، مولانا ارشاد احمد مصباحی صاحب، مولانا جنید احمد مصباحی صاحب کے علاوہ دیگر اساتذہ کرام نے بھی شرکت کی۔

مفتی آل مصطفیٰ مصباحی کے رفیق درس مفتی صدر الوریٰ مصباحی کے تعزیتی کلمات

مفتی آل مصطفیٰ مصباحی کے رفیق درس مفتی صدر الوریٰ مصباحی کے تعزیتی کلمات

مفتی آل مصطفیٰ مصباحی کے رفیق درس مفتی صدر الوریٰ مصباحی کے تعزیتی کلمات



 آہ میرا رفیق درس مجھ سے رخصت ہوا

    آج مورخہ 10/ جنوری 2022ء بعد نماز فجر موبائل فون کھولا تو بڑی دکھ بھری خبر پڑھنے میں آئی کہ مفتی آل مصطفیٰ مصباحی آج رات انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔بڑا دکھ ہوا بڑا افسوس ہوا۔ ابھی حال ہی میں عرس عزیزی میں ان کے دیار سے آنے والے علمائے کرام سے ان کی خیریت دریافت کیے تھے۔ اس وقت کیا معلوم تھا کہ جس کی خیریت کے بارے میں میں پوچھ رہا ہوں وہ بس دو تین روز کا اور مہمان ہے۔ پھر وہ اس دار فانی سے کوچ کر جاے گا۔

مفتی آل مصطفیٰ مصباحی میرے بڑے خاص رفقائے درس میں سے تھے، درجہ خامسہ میں وہ جامعہ اشرفیہ میں داخل ہوے، درجہ فضیلت تک مکمل رفاقت رہی ہم لوگ شانہ بشانہ درس گاہوں میں حاضر ہوتے اور ہم میں ہر ایک کے اندر جذبہ مسابقت بھی ہوتا، فراغت کے بعد بھی جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی میں چھ سال تک رفاقت رہی۔ پھر میرا تقرر جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں ہو گیا۔ جس پر میرے رفیق نے مبارک باد پیش کی تھی۔

مفتی آل مصطفیٰ مصباحی سے فقہی سیمینار وغیرہ میں اگرچہ میری نوک جھونک ہوا کرتی تھی مگر یہ نوک جھونک خالص علمی و تحقیقی ہوتی، جسے نہ وہ دل پہ لیتے نہ میں لیتا۔ اسی لیے مندوبین اسی نوک جھونک سے محظوظ بھی ہوتے اور یہ تاثر دیتے نظر آتے کہ سمینار میں جب آپ دونوں کی رائے الگ الگ ہوتی ہے اس وقت سمینار کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے کیون کہ آپ لوگوں کی بحثیں سننے میں بہت اچھا لگتا ہے۔مجھے جب اپنی جماعت کا امتیاز اور کچھ خاص رفقائے درس کو بیان کرنا ہوتا ہے اس وقت میں مفتی آل مصطفیٰ کا نام ضرور لیتا ہوں کیونکہ یہ میرے مایہ ناز رفیق ہی نہیں بلکہ میرے دوست بھی تھے۔ ان کی ذہانت اور علمی قابلیت کا میں ہمیشہ معترف رہا۔

مفتی آل مصطفیٰ مصباحی ایک باکمال مدرس، پختہ قلم کار، اور ایک بالغ نظر مفتی تھے، جن کے فتاوی اور تحقیقات قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں اور یہ کارہاے نمایاں ان شاءاللہ ان کے باقیات صالحان میں شمار ہوں گے۔دعا ہے اللہ تعالیٰ مفتی موصوف کی مغفرت فرمائے ان کی دینی خدمات قبول فرمائے، درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔محمد صدرالوری قادری،استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور

مفتی آل مصطفی مصباحی کے شاگر ڈاکٹر خوشترنورانی امریکہ کے تعزیتی کلمات:

مفتی آل مصطفی مصباحی کے شاگر ڈاکٹر خوشترنورانی امریکہ کے تعزیتی کلمات:

مفتی آل مصطفی مصباحی کے شاگر ڈاکٹر خوشترنورانی امریکہ کے تعزیتی کلمات:


    کچھ دیر قبل میرے دوست مولانا منظرالاسلام ازھری کا فون آیا اور انھوں نے یہ انتہائی دردناک خبر سنائی کہ حضرت مفتی آل مصطفی مصباحی صاحب کا وصال ہوگیا۔مجھے یقین نہیں آیا کہ ابھی ان کی عمر ہی کیا تھی۔ مفتی صاحب جلیل القدرعالم دین ، صاحب نظر فقیہ ، تجربہ کار مدرس اور اہل قلم ہونے کے ساتھ ساتھ میرے مشفق استاذ بھی تھے۔ 

میں نے ان سے متعدد کتابیں ،مثلا اصول الشاشی، موطا امام محمد ، شرح وقایہ وغیرہ پڑھی تھی- بے حد شفقت فرماتے تھے اور حد سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ اتنی جلدی اس دنیا سے ان کا چلاجانا میرے لیے انتہائی تکلیف اور صدمے کا باعث ہے۔اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین 

علامہ مفتی منظر محسن مصباحی کے تعزیتی کلمات :

علامہ مفتی منظر محسن مصباحی کے تعزیتی کلمات :
علامہ مفتی منظر محسن مصباحی کے تعزیتی کلمات :


اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخ زیبا لے کر

     نامور عالم، ادیب و دانش ور حضرت علامہ مفتی حسن منظر قدیری صاحب کا غم ابھی کافور بھی نہیں ہوا تھا کہ مردم خیز سرزمین سیمانچل کے ایک دوسرے نامور و قابل فخر سپوت ، جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی کے موقر استاذ و صدر مفتی، حضرت سرکار کلاں کے مرید، حضرت مدنی میاں کچھوچھوی کے خلیفہ، ہمارے دیرینہ کرم فرما ،محقق مسائل شرعیہ ، فقیہ ملت مفتی آل مصطفیٰ مصباحی اشرفی ابن حضرت مولانا محمد شہاب الدین اشرفی ساکن: شہجنا، سالماری، کٹیہار، بہار) بھی ہمیں روتا بلکتا چھوڑ گئے.

     آج آپ کی فرقت میں آپ کے ہزارہا تلامذہ و محبین کی آنکھیں اشک بار ہیں، زبانیں گنگ ہیں، ہاتھ کانپ رہے ہیں، دماغ شدت غم سے بوجھل ہیں ، سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ کن لفظوں میں آپ کے غم کو بیان کیا جائے! رب کریم حضرت فقیہ ملت کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کا نعم البدل عطا فرمائے آمین!!

    حضرت مفتی صاحب قبلہ علم و تحقیق کا کوہ ہمالہ ، اخلاق و ادب کے پیکر، صاحب تقوی اور بے ضرر عالم دین تھے، آپ اپنے اساتذہ اور بڑوں کے لئے انتہائی مودب اور چھوٹوں پر حد درجہ شفیق و مہربان تھے، وہ میرے استاذ تو نہیں تھے مگر اساتذہ کی طرح شفقت و محبت سے نوازتے رہتے تھے۔ آپ سے کئی ملاقاتیں رہیں، ٹیلی فون پر کبھی کبھار بات چیت بھی ہو جاتی تھی، آپ سے آخری ملاقات مورخہ 2/ جنوری 2020 سیمانچل کے معروف سماجی و سیاسی لیڈر سید محمود اشرف صاحب ساکن باز بیریا بائیسی کے جلسہ چہلم کے موقع پر ہوئی تھی۔

     گزشتہ چند مہینوں سے آپ کی علالت کی خبریں سوشل میڈیا پر دیکھ کر آپ سے ملنے کی کوشش کی مگر افسوس کہ آپ کی قیام گاہ کو عام لوگوں سے چھپائے رکھنے کی وجہ سے کشن گنج سے نا مراد لوٹنا پڑا ، اور آج اچانک آپ کی وفات کی خبر ملی تو آنکھیں چھلک پڑیں ، دل دہل گیا ، کاش! یہ خبر جھوٹی ہوتی۔ میری کم نصیبی کہ سیمانچل سے ہزاروں کلومیٹر دور ہونے کی وجہ سے آپ کے آخری دیدار سے بھی محروم رہ گیا۔ میری خوش نصیبی کہ دو بار آپ کی موجودگی میں خطابت کا حسین موقع میسر آیا ، تقریباً تین چار برس قبل مجمع البحرین ، شیخ طریقت حضرت مفتی عبید الرحمٰن رشیدی صاحب ادام پر اللہ ظلہ علینا کے قائم کردہ تعلیمی ادارہ دارالعلوم طیبیہ معینیہ منڈوا ڈیہہ بنارس کے جلسہ دستار بندی میں حضرت مجمع البحرین کی دعوت پر جمشید پور سے میری اور مولانا سید سیف الدین اصدق چشتی صاحب حفظہ اللہ (ولی عہد خانقاہ اصدقیہ پیر بیگھہ شریف نالندہ بہار) کی حاضری ہوئی تھی، اس جلسے میں جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے حضرت علامہ محمد احمد مصباحی صاحب حفظہ اللہ، جامعہ امجدیہ گھوسی سے حضرت مفتی آل مصطفیٰ مصباحی اشرفی صاحب رحمہ اللہ نے شرکت کی تھیں، دوسرا موقع تھا سید محمود اشرف صاحب کے جلسہ چہلم کا۔ دونوں ہی موقعوں پر حضرت مفتی آل مصطفیٰ مصباحی اشرفی صاحب قبلہ نے کافی حوصلہ افزائی کی، ڈھیر ساری دعاوں سے نوازا۔ 

    ہم چنیں دیگرے نیست کے اس دور میں آپ کی ذات بالکل منفرد اور تواضع و انکساری کی مجسمہ تھی ، محمود اشرف صاحب کے جلسہ چہلم کے اختتام پر محمود صاحب کی حیات و خدمات پر مشتمل میرے تفصیلی مضمون (جسے ماہ نامہ کنزالایمان دہلی نے شائع کیا تھا) کی فوٹو کاپی سامعین و حاضرین کے درمیان تقسیم کی گئی، جسے دیکھ کر مفتی صاحب قبلہ کہنے لگے کہ: " امام علم و فن حضرت علامہ خواجہ مظفر حسین صاحب پر آپ کا لکھا ہوا مضمون "امام علم و فن: مہد سے لحد تک" جام نور میں دیکھا تھا، وہ مضمون خوب تھا اور یہ بھی آپ نے شان دار لکھا ہے، ماہ نامہ کنزالایمان دہلی وغیرہ میں بھی آپ کی تحریریں نگاہ سے گزرتی ہیں، دیکھ کر خوشی ہوتی ہے، لکھنے پڑھنے کا تسلسل جاری رکھیں، آپ جیسے نوجوانوں سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں"، آپ کے ان چند حوصلہ افزا کلمات نے دارالعلوم معینیہ طیبیہ بنارس کی یاد دلا دیا ، جب آپ نے میری تقریر کے بعد دارالعلوم کے کمرے میں مجھ سے فرمایا تھا کہ : " عہد حاضر میں ایسی ہی سنجیدہ اور مدلل تقریروں کی ضرورت ہے، آپ کو اللہ تعالیٰ نے جوہر خطابت عطا فرمایا ہے، اللہ کرے آپ خوب ترقی کریں" پھر میری گزارش پر مزید دعاوں سے نوازا۔ اللہ کریم مفتی صاحب قبلہ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے. 

شریکِ غم: منظر محسن 

مفتی صابررضامحب القادری نعیمی کے تعزیتی کلمات:

مفتی صابررضامحب القادری نعیمی کے تعزیتی کلمات:
مفتی صابررضامحب القادری نعیمی کے تعزیتی کلمات:


آہ آہ آہ محقق عصر اناللہ واناالیہ رٰجعون

 ابھی جب نیٹ وون کیا تو پہلی نظر میں یہ جانکاہ خبر سامنے آئی کہ ہم غربائےاہلسنت پر سے ایک سایہ اور اٹھ گیا ۔

شفقتوں کا سایہ محبتوں کا سایہ علم وفضل اور تفقہ کا سایہ یعنی عظیم محقق مدقق فقیہ مصنف ہزاروں علماءکے استاذ بزرگوں کی وراثتوں کے آمین جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے قابل فخر فرزند اور جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی کے معتمد استاذ ومفتی فقیہ النفس کے تلمیذ خاص ہندوستان ہزاروں علماءومفتیان کرام کے مرجع سیمانچل کا قابل فخر بیٹا ،حضرت علامہ مفتی محمد آل مصطفیٰ مصباحی اشرفی....علیہ الرحمہ ہوگئے۔

آہ ابھی تو جوانی منزل بھی نہیں گذری تھی بڑھاپا آیا نہیں تھا علالت کی خبر مشہور تھی کل ہی علماءکے بیچ بیٹھ کر ذکر خیر کیا ایک صاحب نے کہا ابھی حضرت کی طبیعت بہتر ہے تو دوسرے نے کہا نہیں حضرت کی صحت مزید بگڑ گئی ہے خیر اس بات پر محفل تمام ہوئی کہ مولیٰ ان کے سایہ کو دراز فرمائے اور صحت کاملہ عاجلہ بخشے ۔

کون جانتا تھا کہ آنے والا سورج رنج و غم درد وکرب کی کرنوں کے ساتھ طلوع کرے گا۔یقیناً اپنے درد و غم کو بیان کرنے سے عاجز و قاصر ہوں ۔حق تعالیٰ عزوجل اپنے حبیب ﷺ کے طفیل حضرت کی مغفرت فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

شریک غم :(مفتی) صابررضامحب القادری نعیمی غفرلہ



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad