| سوریہ نمسکار کیوں ناقابل قبول ہے؟ |
سوریہ نمسکار کیوں ناقابل قبول ہے؟
قاضی محمد فیاض عالم قاسمی
سوریہ نمسکارکے معنی سورج کی سلامی کے ہیں؛لیکن اب یہ ایک اصطلاح بن گئی ہے اورسورج کی عبادت اورپوجاکرنے کانام سوریہ نمسکار ہوگیاہے۔ جس میں بارہ منتر ہیں، اس کو یوگاکے ساتھ جوڑ کر بارہ ایسی ہیئات اورشکلیں متعین کی گئیں ہیں کہ ہر شکل اورہیئت میں سورج کو مخاطب کرتے ہوئے ایک منترپڑھاجاتاہے۔یہ منتر اورکلمات واضح طور پرکفراورشرک پر مشتمل ہیں۔جیسے اس کے منترنمبر 6میں ہے: اے طاقت وقوت دینے والے! ،منتر نمبر۸ میں ہے: اے صبح کے مالک!،منتر نمبر10میں ہے: اے کائنات کے مالک!،منترنمبر11میں ہے: اے وہ ذات جو ہر قسم کی تعریف کامستحق ہے۔اس لیے پہلے یہ جانناضروری ہے کہ شرک کامطلب کیاہے۔
توحید اورشرک کامفہوم
قرآن کریم میں جن مضامین پر سب سے زیادہ زوردیاگیاہے وہ توحید کی حمایت اورشرک کی مخالفت ہے۔قرآن میں کوئی ایسی سورت نہیں جس میں توحید کی حمایت اورشرک کی مخالفت نہ کی گئی ہو۔توحید کامطلب یہ ہے کہ یہ عقیدہ رکھناکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں یکتاہے۔یعنی یہ عقیدہ رکھناکہ اللہ تعالیٰ صرف اورصرف ایک ہے دویازیادہ نہیں۔ اسی طرح یہ بھی عقیدہ رکھناکہ اللہ تعالیٰ نے جن صفات کو اپنے لیے قرآن میں بیان کیاہے، اوراللہ کی جن صفات کو نبی اکرم ﷺنے احادیث میں بیان کیاہے۔وہ ساری صفات اللہ تعالیٰ کی ذاتی ہیں۔اورکمال درجہ میں ہمیشہ سے موجود ہیں اورہمیشہ رہیں گی،اللہ تعالیٰ کی ان صفات میں کمال درجہ میں کوئی شریک نہیں۔جیسے خالق بمعنیٰ پیداکرنے والا۔ اللہ کی ذاتی صفت ہے۔ایسانہیں ہے کہ کسی دوسری ذات نے اس کوخالق بنایاہو؛بلکہ وہ ہمیشہ سے اس صفت کے ساتھ متصف ہے اوریہ صفت کمال درجہ میں اللہ تعالیٰ میں موجودہے۔اس صفت میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔اسی طرح یہ بھی عقیدہ رکھناکہ آسمان وزمین اوران کے درمیان کی تمام چیزوں کانظم وانتظام صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے، وہی کائنات کامدبر ہے۔ اس کے ساتھ کوئی دوسراشریک نہیں ہے۔
شرک کامطلب توحید کابالکل برعکس ہے یعنی یہ عقیدہ رکھناکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں یکتانہیں ہے۔خدایک نہیں بلکہ متعددہیں۔اللہ کی صفات میں سے کسی ایک صفت کوبھی اللہ کے علاوہ مثلا نبی ، ولی،فرشتہ ،کاہن، نجومی،چاند ،سورج اوربت وغیرہ کے لیے اسی طرح مانناجس طرح اللہ کے لیے مانتے ہیں،شرک ہے۔
مثال:جیسے صفتِ علم، صفت قدرت، صفت خلق۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کامکمل علم جیسے پہلے تھا،اب بھی ہے اورآئندہ بھی رہےگا۔ ہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہے گا۔اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے،ہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہے گااورہر چیز کواللہ تعالیٰ ہی نے پیداکیاہے اورآئندہ بھی ہر چیز کو اللہ تعالیٰ ہی پیداکرے گا۔ یہ صفات اللہ کی ذاتی صفات ہیں،ان صفات کے لیے وہ کسی کامحتاج نہیں ہے۔اس طرح کی صفات کو اگر صرف اللہ کے لئے ماناجائے تو توحید اوراگراللہ کے علاوہ کےلئے ماناجائے توشرک ہے۔
توحید اورشرک کے مظاہر
توحید اورشرک ایک عقیدہ ہے جودل ودماغ کاعمل ہے؛ اس لیے شریعت نے توحید اورشرک کے کچھ مَظاہر متعین کئے ہیں۔جو توحید اورشرک پر دلالت کرتے ہیں۔توحید کا مظہرعبادت ہے۔عبادت نام ہے غایت درجہ کی تعظیم اورانتہائی درجہ کی نیازمندی کا۔جب اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں یکتاہے۔ اس کاکوئی شریک اورساجھی نہیں تو عبادت کےلائق بھی صرف اورصرف وہی ہے۔اس کے علاوہ کوئی ذات عبادت کی مستحق نہیں،اوراس عبادت کے مظاہر نماز ،روزہ،حج ، نذرومنت،سجدہ، دعاﺅں وغیرہ ہیں۔ لہذا عبادت کی یہ شکلیں توحید کے مَظاہرہوئیں۔پس ان اعمال کواللہ تعالیٰ ہی کے لیے کرناتوحید اوراللہ کے علاوہ کے لیے کرناشرک ہوگا۔ اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے سامنے نمازجیسی ہیئت بنانا، غیرکےلئے روزہ رکھنا، بیت اللہ کے علاوہ کسی گھر کابغرض عبادت چکر لگانا، اللہ کے علاوہ کسی کے لیے نذرونیازماننا، سجدہ کرنا، دعا مانگنایہ سب شرک کے مظاہر ہیں۔
شرک پر قرآن وحدیث کی سخت وعیدیں انبیائے کرام علیہم السلام جو اللہ تعالیٰ کے منتخب اورمعصوم بندے ہیں جوتوحید کے علمبرداراور شرک سے کوسوں دور ہوتے ہیں،بلکہ ان کے ذہن وخیال میں شرک کاشائبہ بھی نہیں ہوتاہے،ان کو بھی قرآن کریم نے شرک کرنے پران کے نیک اعمال کے ضائع ہونے کی دھمکی دی۔اللہ تعالیٰ کاارشادہے:ترجمہ: اوراگر یہ ابنیا شرک کرنے لگیں تو ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔(سورہ انعام:88)خودسرورکائنات فخرموجودات سید الانبیا والمرسلین حضرت محمد ﷺ فداہ ابی وامی کو بھی خدانخواستہ شرک کے مرتکب ہوجانے پر یہ وعید سنائی گئی کہ اگر آپ نے بھی شرک کیاتو آپ کے بھی اعمال ضائع ہوجائیں گے۔اللہ تعالیٰ کاارشادہے:ترجمہ:اورتحقیق کہ آپ ﷺکے پاس اورآپﷺ سے پہلے لوگوں کے پاس یہ حکم بھیجاگیاتھاکہ اگر آپ ﷺنے شرک کیاتو آپﷺ کے اعمال ضائع ہوجائیں گے اورآپ ﷺدنیاوآخرت میں خسارہ میں رہیں گے۔ (سورہ زمر:65)
شرک سب سے بڑاگناہ ہے
حضرت عبداللہ ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے آپ ﷺ سے سوال کیاکہ اللہ کے نزدیک کون ساگناہ سب سے بڑاہے تو آپ ﷺ نے جواب میں ارشادفرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا؛حالاں کہ اس نے تم کو پیداکیا۔ایک دوسری روایت میں گناہ کبیرہ میں سب سے بڑاگناہ شرک کو کہاگیاہے۔(صحیح مسلم:141,143)
مشرک کی معافی نہیں ہوگی
اللہ تعالیٰ کاارشادہے: ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرے گااوراس کے علاوہ کئے گئے گناہ کوجس کے لیے چاہے گا معاف کردے گا، جس شخص نے اللہ کے ساتھ شرک کیاوہ بہت ہی بڑاگناہ کیا۔دوسری آیت میں ہے کہ وہ بڑی گمراہی میں جاگرا۔(سورہ نساء:116,48)مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرقسم کے گناہ کوحتی کے قتل وغارت گری،چوری وڈاکہ زنی،حرام خوری اور زناکاری ہر قسم کے گناہ کو تو معاف کرسکتاہے لیکن شرک ایساگناہ عظیم ہے جس کو وہ کبھی معاف نہیں کرے گا۔انسانخواہ کتناہی بڑاعبادت گزار ،مظلوموں کاہمدرد وغمخوار،صدقہ وخیرات کرنے والا،حاجی ، نمازی بلکہ جہاد کرنے والا ہی کیوں نہ ہواگر وہ شرک کی بیماری میں مبتلا ہے تو اس کی مغفرت نہیں ہوسکتی۔اس لئے کہ موحد یکجائی ہوتا ہے اور مشرک ہرجائی ہوتاہے۔موحد خالق کاپرستارہوتاہے اورمشرک مخلوق کاپرستارہوتاہے۔موحد نمک حلال اورمشرک نمک حرام ہوتاہے۔
مشرک کا ٹھکانہ جہنم ہے
اللہ تعالیٰ کاارشادہے:ترجمہ: بے شک جو بھی شرک کرے گاتو اس پر اللہ تعالیٰ جنت کو حرام کردے گااوراس کاٹھکانہ جہنم ہوگا، اوران مشرکوں کاکوئی مددگار بھی نہ ہوگا۔(مائدہ:72)یہ اس لیے کہ جنت باوفا اورپاک لوگوں کی جگہ ہےاورجہنم بے وفااورناپاک لوگوں کی جگہ ہے۔اس لیے مشرکین کاٹھکانہ جنت کے بجائے جہنم ہے۔
سورج کے بیشمار فوائد اورانسانی زندگی پر اس کے مفید اثرات
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں انسان کو جن نعمتوں سے نوازاہے ان میں ایک اہم ترین اورعظیم ترین نعمت آفتاب کاوجود ہے۔یہ روشنی اورحرارت کااتنابڑاسرچشمہ ہے کہ دنیامیں موجود ہر طرح کی روشنی اورتوانائی اسی سے حاصل ہوتی ہے۔قرآن کریم میں تقریبا32جگہوں پرسورج کاذکرآیاہے اوراللہ تعالیٰ نےاسے اپنی قدرت کاملہ کی نشانیوں میں بیان کیاہے۔آفتاب پرانسانی زندگی کی بہت ساری ضروریات منحصر ہیں۔اس کے باوجودآفتاب بھی اپنے وجود میں اورروشنی بکھیرنے میں ،طلو ع اورغروب ہونے میں، اپنے مدارپر چلنے میں اپنے خالق کااوروحدہ لاشریک لہ کامحتاج ہے۔جو سراپامحتاج ہو وہ خداکیسے ہوسکتاہے؟اوراس کی عبادت کیسے کی جاسکتی ہے؟
انسان کی بھی عبادت نہیں کی جاسکتی ہے
اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے بے شمار مخلوقات پیداکی ہیں،ان میں سے صرف انسان کوہی یہ فضیلت بخشی ہے کہ اسے تمام مخلوقات کاسردار اوران میں افضل واشرف بنایاہے۔جب کسی انسان کی عبادت جائز نہیں تو غیر اشرف المخلوقات جیسے چاندوسورج کی عبادت کیسے جائز ہوسکتی ہے؟ پوجاصرف خالق ہی کی ہوسکتی ہےنہ کہ مخلوق کی اورسورج مخلوق ہے اس لیے اس کی پوجاکسی بھی شکل میں کرناناجائز اورحرام ہوگی۔یہ ایک ایساعقیدہ ہے جس میں کسی بھی طرح کاسمجھوتہ نہیں کیاجاسکتاہے۔
عقیدہ توحیددیگر مذاہب کی روشنی میں
یہ صرف مسلمانوں کاعقیدہ نہیں ہے بلکہ جتنے آسمانی اوربڑے مذاہب ہیں سب کامشترکہ عقیدہ ہے کہ اللہ صرف ایک ہے اورعبادت کے مستحق صرف وہی ذات ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے کی عبادت نہیں کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ بائبل میں بھی ہے کہ خد اصرف ایک ہے۔(مارک:29,13، اسحٰق:9:46, 5:45,11:43)ہندوازم کی کتاب اپونیشد میں ہے کہ وہ صرف ایک ہے دوسرانہیں ہے۔(1:2:6) رگوید جو ہندوبھائیوں کی مقدس کتاب ہے۔اس میں بھی ہے کہ خداایک ہے۔(رگوید:46:164)
اس لئے سوریہ نمسکار یعنی خداکی طرح سورج کی تعریف وتوصیف بیان کرنا۔اسی کوکارسازسمجھنا،اس کو کائنات کاخالق سمجھنا،اس کو زندگی دینے والاسمجھنا، اس کی غایت درجہ کی تعظیم کرناخواہ یوگاہی کی شکل میںہو شرک ہے، جوناجائزاورحرام ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں