| پہاڑ اور ڈوارس میں کھل رہے ہیں سبھی سیاحتی مقامات اور اسکول |
پہاڑ اور ڈوارس میں کھل رہے ہیں سبھی سیاحتی مقامات اور اسکول
نیوزٹوڈے اردو: فروری کو سلی گوڑی سمیت دارجلنگ کے سبھی طلبہ ، والدین اور تاجروں کے لئے خوشی کا موقع لے کر آیا ہے۔ تین فروری کو آٹھویں جماعت سے اوپر تک کے بچے اسکول جاسکیں گے ۔ کافی دنوں بعد ان کے اسکول جانے کا کیا تجربہ ہو گا، انہیںکیسا محسوس ہوگا، یہ سوچ کرطلبہ کے ہوش اڑ ے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف والدین بھی خوش ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ دیر سے ان کے بچے اسکول جانے لگے ہیں۔ دل ہی دل میں اللہ سے دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اب ایسا برا موقع بچوں کی زندگی میں نہ آئے اور نہ ہی انہیں یہ سب دیکھنا پڑے۔ چونکہ صرف درجہ 8سے ہی کلاسیس شروع ہورہی ہیں ،اس لئے چھوٹی جماعت کے طلبہ اورگارجین وہ غمزدہ ہیں لیکن ان کے والدین کو لگتا ہے کہ حکومت کو بہت جلد چھوٹے بچوں کی دعائیں بھی سننی چاہئے اور چھوٹے بچوں کے لئے اسکول کھول دینی چاہئے ۔
پہلی جماعت سے اسکول کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سلی گوڑی سے کوچ بہار تک شمالی بنگال کے مختلف علاقے میںتحریک شروع ہوئی ہے۔ ایس یو سی آئی، ڈی ایس او سمیت مختلف طلبہ تنظیمیں آواز اٹھا رہی ہیں۔ اے آئی ڈی ایس او طلبہ تنظیم کی جانب سے ریاستی حکومت سے پہلی جماعت سے اسکول کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت پہلی جماعت سے اسکول کھولنے کی ہدایت جاری کرے ورنہ ان کی تحریک جاری رہے گی۔ مستقبل میں اس تحریک میں مزید کئی تنظیموں کی شمولیت متوقع ہے۔
اب بات کرتے ہیں تاجروں کی بھی جن کے چہروں پر مسکراہٹ نمایاں ہے۔ مغربی بنگال کی حکومت نے پورے بنگال میں سیاحتی مراکز کھولنے کی اجازت دے دی ہے جس میں دارجلنگ، ڈوارس شامل ہیں۔ سیاحت کے کاروبار سے وابستہ تاجر بہت خوش ہیں اور حکومت کا شکریہ بھی ادا کر رہے ہیں۔ سیاحتی مقامات جیسے چیلاپتا، جلداپاڑہ، راجہ بھات کھاوا وغیرہ کے سیاحتی تاجر کافی مصروف نظر آرہے ہیں، اس لئے دارجلنگ کے پہاڑی ہوٹلوں اور سیاحتی مقامات سے وابستہ تاجر بھی کاروبار کرنے کے لئے تیار ہیں۔
ان کی چستی اور خوشی دیدنی ہے۔دارجلنگ ہوٹل اونرز ایسوسی ایشن اور دیگر سیاحتی کاروباری تنظیموں نے حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تیاریاں زور و شور سے شروع کر دی ہیں تاہم موسم پہاڑیوں سے ٹکرا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ پریشان بھی نظر آتے ہیں۔ سیاحوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں کافی دشواری کا سامنا ہے۔ سندک پھو اور فا لوت میں کئی مقامات پر برف جمی ہوئی ہے،جس کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت اتنی آسان نہیں ہے۔ ٹائیگر ہل، گھوم، جوربنگلو، سونادا ، رنگبل اور آس پاس کے علاقوں میں برف باری ہورہی ہے۔ یہ بھی تشویش کا باعث ہے، لیکن سیاحت کے تاجروں کا مانناہے کہ جلد ہی موسم صاف ہو جائے گا۔
دوسری جانب جی ٹی اے کے تحت سبھی سیاحتی مقامات کو کھولنے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ موسم بے رحم ہونے کے باوجود سیاحت کے کاروبار کرنے والے زیادہ خوش ہیں کہ ان کا کاروبار شروع ہو گیا ہے۔ بھلے ہی سست رفتاری سے کھلے لیکن اب وہ یہ ضرور کہہ سکیں گے کہ شکریہ حکومت!


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں