| حضرت مخدوم جہاں کا اسلوبِ تعلیم و تربیت(مکتوبات کی روشنی میں) |
حضرت مخدوم جہاں کا اسلوبِ تعلیم و تربیت(مکتوبات کی روشنی میں)
سید المتکلمین ، سلطان المحققین حضرت شیخ شرف الدین یحی منیری رحمة اللہ علیہ ہندوستان کے ان اکابر اولیائے کرام میں سے ہیں جو علوم ظاہری وباطنی کے سنگم تھے۔ آپ کے نوک قلم سے ہزاروں کتابیں معرض وجود میں آئیں، اورعلوم و معارف کےایسےخزانے لٹائے کہ صدیاں گزرگئیں، اس کے با وجود بھی آپ کا نام سکہ رائج الوقت کی طرح چل رہا ہے۔سوانح نگاروں نے آپ کی تصنیفات کی تعداد1700تک بتائی ہیں۔ مکتوبات صدی کے دیباچہ میں حضرت شاہ نجم الدین احمد فردوسی لکھتے ہیں:حضرت مخدوم کے تبحر علمی کی کچھ انتہا نہ تھی۔ معتبر ذرائع سے مجھےمعلوم ہوا کہ شروح وحواشی بزبان عربی بڑی بڑی کتابوں پر عرب و شام میں موجود ہیں ۔اور ملفوظات بھی اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ آپ کی معلومات کی کوئی حد نہ تھی۔کیسے کیسے مشکل اورمختلف سوال کر تے تھے اور آپ بر جستہ جواب شافی دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ تعبیر گوئی جو ایک جزو نبوت ہے ۔ اس میں آپ کو اس قدر دخل تھا کہ اپنے وقت کے ابن سیرین سمجھے جاتے ہیں" (مکتوبات صدی ، ص 42)
اکثر دیکھا گیا ہے کہ صوفیہ علوم ظاہری میں درک حاصل کر لینے کے بعد علوم باطنی کی طرف متوجہ ہوۓ اور دریاۓ معرفت میں ایسا غرق ہوئے کہ اسرار الہی نوک زبان پہ آگئے، جس کی وجہ سے علماے ظواہر شکوہ سنج ہوۓ اور انہوں نے مخالفت پر کمر باندھی، لیکن مخدوم جہاں کے دامن تقدس پر ایسا غبار پوری زندگی میں کبھی نظر نہ آیا۔
آپ کی تصنیف کردہ:
مکتوبات صدی اور مکتوبات دو صدی کے اندر معرفت کی جو نکات آفرینی ہے، اسے دیکھ کر نہ صرف صوفیۂ زمانہ عش عش کر اٹھے ہیں، بلکہ اس کے اندر پائی جانے والی علمی گہرائی وگیرائی کا مطالعہ کرنے کے بعد فضلائے عصر بھی انگشت بدنداں نظر آتے ہیں ۔سات سو سال کا عرصہ گزرگیا،کسی زمانے میں کوئی علامۃ الدہر آپ کی تحریر پر حرف زنی نہ کرسکا۔
تعلیم وتربیت کے نمونے:
حضرت مخدوم جہاں کے زر نگار مکتوبات کا دفتر سامنے رکھۓ اور پھر اصلاح و ہدایت کا انکھا اور نرالا بانک پن دیکھیے - پہلے تو خوف خدا اور خشیت الہی کا ایسا ہمہ گیراثر دل ودماغ پر بیٹھا تے ہیں کہ فرمان رب: تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربھم "کے مصداق ، مکتوب پڑھنے والے کا رواں رواں کانپ اٹھتا ہے اور اس احساس سے پلکیں بو جھل ہو جا تی ہیں کہ ہمارا ایمان وعمل تو رب کے حضور کسی شمار میں نہیں- ہم تو ہلاک ہو چکے-
لیکن پھر اس کے بعد تیور بدلتے ہیں اور فرماتے ہیں :لا تقنطوا من رحمةاللہ ۔کی جلوہ سامانی کا منظر دکھا تے ہیں رب تعالی کی بخشش وعطا اور اس کے عفو و در گزر کا ایسا سماں باندھتے ہیں کہ مردہ جسم میں زندگی کی رمق پیدا ہو جا تی ہے اور بندہ باب رحمت پر دستک دینے کےلیے اٹھ کھڑاہوتا ہے۔ مکتوبات مخدوم جہاں کے دونوں رخ سے دو تراشے بطور نمونہ پیش کئے جاتے ہیں، اسے پڑھئے اور گناہ کے خاکستر میں دبی ہوٸی عشق کی چنگاری کو ہوا دینے کا یہ دل ربا انداز ملاحظہ فرمائیے- لکھتے ہیں: "بندہ جب تک غافل نہیں ہوتا، گناہوں میں مبتلا نہیں ہوتا ۔بزرگوں نے کہا ہے کہ اہل غفلت کی زندگی ایک تاوان ہے ۔حدیث میں ہے کہ جب کوٸی شخص بر نیت گناہ زمین پر قدم رکھتا ہے تو زمین کے تمام ذرے روتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے بد عہد وبے وفا ہم کو خدا نے اس لیے پیدا کیا ہے کہ ہم بندگی کا بوجھ اٹھائیں ، گناہوں کا بوجھ اٹھانے والے نہیں : والاض فرشنھا فنعم الماھدون، اور ہم نے ہی زمین کو بچھا یا ہے تو ہم کتنے اچھے بچھانے والے ہیں ۔اللہ تعالی تو مجھ کو اس نازو نعمت سے جلوہ فرماتا ہے اور تو میرے سینے پر اپنے گناہ آلودہ پاٶں رکھتا ہے ، یاد رکھ مرنے کے بعد میرے ہی اندر تیرا ٹھکا نا ہو گا ۔آج میرے اوپر اتناہی بوجھ ڈال، جتنا مرنے کے بعد تو اٹھا سکے ۔جو غفلتیں تو میرے ساتھ برتے گا اس کا بدلہ تجھ سے اس وقت لوں گی جب تو میرے پیٹ میں رکھا جاۓ گا"
مکتوب ہاتھ میں ہے اور نظر تحریر پر، خشیت دل میں ہے اور قطرات آنسو کے رخسار پر - بندہ مکتوب پڑھ رہا ہے اور ہلاکت کے خوف سے اس کا بدن کانپ رہا ہے ۔ابھی مکتوب ختم نہیں ہوا۔تر ہیب کی سطریں تمام ہوٸیں تو ترغیب کا چشمۂ صافی پھوٹ پڑا- آب رحمت میں دھلے ہوۓکلمے نوک قلم پر آگۓ ہیں- پڑھنے والا پڑھ رہا ہے اور تسکین کا پانی قلب محزون کو ٹھنڈک پہنچا رہے ہیں ۔خامۂ مخدوم سے اترے ہوۓ جملے ملاحظہ فرمائیے" اے بھاٸی! ازل سے ابد تک گناہوں سے پاک ہونا تو فرشتوں کا کام ہے اور تمام عمر گناہوں اور مخالفت میں غرق رہنا شیطان کا شیوہ ہے اور بحکم توبہ بطریق بندگی گناہوں سے باز آجانا آدم اور آدمیوں کا کام ہے، جس نے توبہ کے ذریعہ پچھلے گناہوں کو معاف کرالیا ہے,تو اس نے حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ رشتہ جوڑلیا اور جس نے توبہ نہ کی اس نے اپنا رشتہ شیطان سے قائم رکھا اور یہی راز ہے جب فرشتوں نےکہا: اتجعل فیھامن یفسد فیھا "کیا تو زمین میں اس کو اپنا خلیفہ بناۓگا ,جو اس میں فساد برپا کرےگا- تو کہا گیا "انی اعلم مالا تعلمون"- بیشک ہم جانتے ہیں جو تم نہیں جانتے ۔یہ نہ کہا گیا کہ گناہ نہیں کریں گے ۔ہم جانتے ہیں کہ جب وہ گناہ کی آلود گی میں ملوث ہو جائیں گے تو دریائے توبہ ان کے سامنے ہوگا، جس میں نہا دھو کر وہ پاک و صاف ہوجاٸیں گے۔(مکتوبات صدی مکتوب 88)
سچ جانیے حضرت مخدوم کا قلم چوم لینے کو جی چاہتا ہے ۔کتنے گرم اور آتشیں جملے جن سے کلیجہ جھلس سا گیا تھا- ارشاد فرمانے کے بعد آب رحمت میں ڈوبے ہوئے برفانی بول کے ذریعہ سینے کو ٹھنڈک پہنچا دی، جس سے دل کے ویرانے میں امیدوں کا سبزہ آگ آیا- حضرت اقبال مرحوم نے اسی کی ترجمانی کی ہے:
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے
شریعت و طریقت کی تعلیم:
شریعت و طریقت کے تعلق سے علم و تحقیق کی دنیا میں انفرادی شان رکھنے والے مخدوم کا زر نگار قلم لکھتاہے : "ہر مرید کو چاہیے کہ طریقت کی راہ شریعت کی موافقت میں چلے اور جس شخص کو ایسا دیکھو کہ مدعی طریقت ہوکر شریعت کے موافق نہیں چلتا تو سمجھ لو اس کو طریقت سے کچھ حاصل نہیں ہونے ہے-اس لیے کہ اسفل السافلین میں جا گرا ہے -اوپر آنا اس کا دشوار ہے-یہ مذہب تو ملحدوں کا ہے کہ طریقت کا قیام بغیر شریعت کے وہ جائز رکھتے ہیں- کہتے ہیں کہ جب حقیقت منکشف ہوجاتی ہے تو شریعت کی پابندی باقی نہیں رہتی-ایسے اعتقاد پر خدا کی پھٹکار
سنو! ظاہر اگر باطن کے مطابق نہیں ہے تو یہ نفاق کی علامت ہے ۔یعنی ظاہرمیں زہدوتقویٰ اورباطن میں دنیا طلبی وریاکاری، اور باطن تو آراستہ ہو,لیکن ظاہرخلاف حکم شریعت ہو، یہ زندیقیت کی نشانی ہے۔اگر شریعت پر عمل ہے اور باطن طریقت سے بے بہرا ہے ۔ایسا شخص نقصان وتاوان میں ہے اور باطن کی درستگی چاہنا بغیر عمل ظاہرکے ، ہوس بےجاکرناہے۔ظاہر، باطن کے ساتھ اس طرح شیر وشکر ہے کہ اس کو کوئی شخص جدا نہیں کرسکتا۔لاالہ الااللہ حقیقت ہے۔محمدرسول اللہ شریعت ہے ۔ایمان جس کو قائم رکھنا ہے وہ ایک جملہ کو دوسرے جملہ سے علاحدہ کرکے مومن باقی نہیں رہ سکتا۔ایسی خواہش باطل اور بالکل بے حاصل ہو گی (مکتوبات صدی ,28)
جو مرد عارف چالیس سال بحر معرفت میں غوطہ زن رہا ۔وہ دریائے محبت سے جب رداۓ شریعت اوڑھے ہوئے مجلس یاراں میں جلوہ افروز ہوتا ہے تو اس کا سر شار قلم خون جگر کی سیاہی سے لوح دل پر اس طرح رقم کرتا ہے - چشم گریاں سے ایک ایک حرف اٹھا ئیے اور دل بریاں کے صحافت پر محفوظ کیجیے- ان شاء اللہ آنکھیں ہی روشن نہیں ہوں گی، دل ویران بھی آباد ہوجاۓگا -
مکتوبات صدی مکتوب 24 کی یہ سطریں پوری توجہ کے ساتھ پڑھیے - مخدوم جہاں لکھتے ہیں:برادرم شمس الدین سلمہ اللہ ! تم یقین جانوکہ سعادت ابدی اور عزت سرمدی انسان کے لیے خداوند جل وعلا کی محبت کے ساتھ وابستہ ہے۔اس دولت وخلعت کامحل حضور سیدالمرسلین خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کا دربار شاہانہ ہے ۔ یہ دولت وخلعت حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی موافقت پر موقوف ہے۔
صبر وشکر کی تعلیم:
ایک مرید صادق نے سلطان المحققین حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحی منیری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اپنے مصائب اور پریشانیوں کی تفصیل لکھ بھیجی ، جیسا کہ مریدوں کا عام طریقہ ہے کہ وہ اپنے مصاٸب وآلام وگردش ایام کی پیرو مرشد کو اطلاع کرتے ہیں اور ان کے دفع ونجات کے لیے دعا کی درخواست کرتے ہیں اور پیرو مرشد بھی رسماًچند دعائیہ کلمات تحریر کر کے مرید کی تسکین دل کا سامان مہیا کردیتے ہیں ۔ حضرت مخدوم جہاں چند رسمی دعائیہ کلمات لکھنے کے بجائے اپنے جواب میں صبر وشکر کی راہ اپنا کر اس پر ثابت قدم رہنے کی ایسی تعلیم فرماٸی اور صبر وشکر کے ایسے فواٸد اور ایمان افروز نکات بیان فرماۓ کہ کوئی بھی دکھی دل اسے پڑھ کر سارا غم بھول جاۓ گا اور مصیبت میں راحت محسوس کرنے کا خوگر بن جاۓ گا-ہم ذیل میں مکتوب 153 سے چند قیمتی اقتباسات نذر قارئین کر رہے ہیں ۔جن کے نام یہ مکتوب ہے ان کا تو کیا کہنا ، وہ تو حضرت مخدوم کے دست گرفتہ ہی تھے ، ہم پورے اعتماد و یقین کے ساتھ کہتے ہیں شدید آلام گھر جانے کے بعد ہم جیسے گناہ گار بھی اس مکتوب کا باربار مطالعہ کریں تو نہ صرف یہ کہ دل سے غموں کا بوجھ اتر جاۓگا، بلکہ لاریب مصیبت میں لذت کا احساس پیدا ہونے لگے گا
ملاحظہ فرمائیں ۔سرکار مخدوم جہاں لکھتے ہیں :اے بھاٸی! حدیث میں ہے کہ سب سے پہلی چیز جو لوح محفوظ میں لکھی گٸی وہ یہ تھی :انی انا اللہ لاالہ الا انا من لم یرض بقضائی ولم یشکرعلی نعمائی ولم یصبر علی بلاٸی فلیطلب ربا سوائی ۔یعنی میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی خدا نہیں۔جومیری مرضی پہ راضی نہ ہو ، تو میری نعمتوں پر شکر نہ کرے اور میری بلاؤں پر صبر سے کام نہ لے وہ میرے سوا کوٸی دوسرا خدا تلاش کرلے
بندے نے جب قضائے الہی پہ نگاہ رکھی تو وہ حق سبحانہ وتعالی کے مشاہدے میں غرق ہوگیا، اس وقت اگر دونوں جہاں کی بلاٸیں اس پر ڈال دی جائیں، تو پہاڑ پر ایک ذرہ کے برابر ہوں اور جس شخص کی نگاہ خود اپنی طرف رہی وہ نالہ وہ فریاد میں اس لیے مبتلا ہوجاتا ہے کہ بلا ومصیبت کا ایک ذرہ اس کے لیے ایسا ہی ہے جیسے ایک تنکا پر پہاڑ ٹوٹ پڑاہو، جانتے ہوصبر کی کیا تعریف ہے؟ ہروہ بلا اور ناخوشگوار اور واقعہ جو بندہ پر آۓ، اس پر نالہ وہ فریاد نہ کرے اور جانتے ہو رضا کسے کہتے ہیں جب کوئی بلا اور امرناپسند بندہ تک پہنچے تو وہ ذرا بھی رنجیدہ اور ناخوش نہ ہو ، یعنی اللہ مااعطی واللہ مااخذفمن انت فی البین-
مخدوم جہاں کے خامہ گہر بار سے اتری ہوئی یہ تحریر، چشم دل سے باربار پڑھیے اور بصارت و بصیرت کے ساتھ ساتھ آپ کی انوکھی تربیت کا اندازہ لگائیے۔
خدمت خلق کی تعلیم:
حضرت مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ خدمت خلق کو رضاۓ الہی کی شاہراہ قرار دیتے ہیں- مکتوبات صدی کے مکتوب نمبر 71 میں کس احسن نگارش کا مظاہرہ فرماتے ہیں، ملاحظہ فرمائیں" ایک بزرگ سے پوچھا گیا ، خدا تک پہنچنے کے لیے کتنے راستے ہیں؟ جواب دیا کہ موجودات عالم کا ہر ذرہ خدا تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے -مگر کوئی راہ نزدیک تر خلق خدا کو راحت وآرام پہنچانے سے بڑھ کر نہیں ہے اور ہم اسی راستے پر چل کر اس منزل تک پہنچتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چناں چہ حضور اکرم ﷺ سے پوچھا گیا۔"ای صدقة افضل قال خدمة عبد فی سبیل اللہ او ظل فسطاط او طروقة فحل فی سبیل اللہ - کونسا صدقہ افضل ہے فرمایا بندے کی خدمت کرنا خداکی راہ میں- یا سایہ کی غرض سے خیمے نصب کرنا اللہ کی راہ میں یا اونٹ دینا اللہ کی راہ میں ۔ایک دوسری جگہ ارشاد ہوا " الساعی علی الارملة والمساکین کالمجاھد فی سبیل اللہ اوکالذی یصوم النہار و یقوم اللیل - بیوہ عورت کے کام میں دوڑنے والا اور مسکینوں کی خدمت بجالا نے والا مجاھد فی سبیل اللہ کی طرح ہے یا ان لوگوں کی طرح ہے جو دنوں کو روزہ رکھتے ہیں اور راتوں کو عبادت کرتے ہیں-:
چناچہ سرکار مخدوم جہاں بھی خدمت خلق کی راہ سے خداتک رساٸی کے لیے کچھ قیمتی شرطیں لازم قرار دیتے ہیں۔جس پرمسافر راہ طریقت کو ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔۔ملاحظہ فرماتے ہیں: خدمت کے لیے کچھ شرطیں ہیں اولاً یہ کہ اپنی آرزو اور اپنا تصرف بالکل چھوڑدے ۔قوم وجماعت کا جو مقصد ہو ویساہی کرے ۔مسافر ومقیم جو بھی ہو ان کی طبیعت کے رجحان کے مطابق ہی کام کرے تاکہ انہیں فراغت دل حاصل ہو اور وہ بے فکر ہوکر وردو وظاٸف میں اپنے اوقات گزارے ۔جو کچھ ریا ضت ومجاھدہ سے انہیں حاصل ہوگا ان شاء اللہ وہ سب فاٸدے اسے انہیں خدمات کے بدولت حاصل ہوں گے ۔من دل علی خیر فلہ مثل اجرفاعلہ ۔یہ خانقاہیں ,مسافر خانے اور اوقاف اسی کام کے لیےبناٸے گٸے ہیں ۔دوسری شرط یہ ہے کہ خود کو مالک ومختار نہ سمجھے ,جو کچھ اس کے پاس ہے ,یہ سمجھے کہ وہ سب ان ہی لوگوں کا ہے۔یہاں تک کہ اپنی ذات ,اپنا مال اور اپنی خواہشات کو ان کے تابع کردے۔اور اپنے کام پر ان کی ضرورتوں کو مقدم جانیں اور کسی بھی چیز میں ان سے ہر گز کوٸی دریغ نہ رکھے ۔سواے ان چیزوں کے جنہیں اللہ تبارک وتعالی نے اپنے بندوں پر حرام کردی ہیں ۔سید القوم خادمھم(مکتوبات صدی ص 447)
ہمارے صوفیہ کرام کا معمول رہاہے کہ وہ پہلے آستانہ پیر پر حاضری دے کر مدت دراز تک مثالی خدمات انجام دیتے رہے ، پھر انھیں خلعت مخدومیت پہنائی جاتی رہی اور وہ بزم احباب میں شمع انجمن بن کر چمکتے رہے اور زمانہ ان سے فیضیاب ہوا۔
ازمحمد صابر عالم مصباحی
صدر مفتی و ناظم تعلیمات دارالعلوم فدائیہ نوریہ پاچھو رسیا، اسلام پور، اتردیناج پور،مغربی بنگال


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں