تازہ ترین

Post Top Ad

بدھ، 16 مارچ، 2022

شان شعبان المعظم

شان شعبان المعظم
 شان شعبان المعظم


 شان شعبان المعظم

مفتی محمد صابررضا محب القادری نعیمی 

کشن گنجوی امین منزل سورجاپور اتردیناجپور بنگال 

    اسلامی نظام زندگی میں بہت ساری باتوں کے لئے قمری مہینوں کا حساب ضروری ہے، اور معتبر بھی بعض مہینے اور اور ان میں بہت سی تاریخیں مسلمانوں کے لیے اہم قرار پائی ہیں، انہیں میں شعبان المعظم اور اس کی پندرہویں تاریخ بہت ہی خاص ہے،

     جاہلیت کے دور میں شعبان کی وجہ تسمیہ خواہ کچھ بھی رہی ہو، رہزنی کی خاطر اِدھر ادھر بکھرنا اور گھاٹیوں میں چھپنا عرب کی جاہل قوم کا کتنا ہی مسلسل معمول رہا ہو،

     لیکن بہر صورت عہد اسلام میں اس کی عظمت روشن ہے، وہ ہمیں اپنی زبان حال سے اپنی رحمتوں اور برکتوں کے نشر ہونے کا پیام دیتا ہے،نبی پاک ﷺ نے اسے اپنا مہینہ کہا، اور سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی کتاب غنیةالطالبین میں نقل فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا رجب کا شرف اور فضیلت باقی مہینوں پر ایسی ہے جیسے دوسرے کلاموں پر قرآن مجید کی فضیلت۔ اور تمام مہینوں پرشعبان کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام انبیاء پر میری فضیلت ہے اور رمضان کی فضیلت دوسرے مہینوں پر ایسی ہے جیسے تمام کائنات پر آپ ﷺ کی فضیلت۔(غنیة الطالبین)

    شعبان کے حروف پر غور کرینگے تو ہر حرف اپنے اندر ایک خاص معنویت رکھتا ہے، بقول حضرت یحییٰ بن معاذعلیہ الرحمہ اس میں مومنوں کے لیے رحمت ہی رحمت اوربرکت ہی برکت کے اشارے ملتے ہیں، لفظ شعبان کے پہلے تین حروف سے اگر شرف وشرافت عزت وعظمت اور بر وبرات کا اشارہ ملتا ہے تو آخری دونوں حروف میں الفت ونور کے اشارے موجود ہیں، گویا اس کی شان بخشش و بزرگی نیکی ونجات محبت اور روشنی سے عبارت ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ شعبان رمضان المبارک کی آمد کا پیش خیمہ ہے، اس اعتبار سے بھی اس کی عظمت اور بڑھ جاتی ہے۔

    اللہ کریم عزوجل کے حبیب ﷺ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ارشاد فرمایا تھا، کیا تم جانتی ہوکہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے؟ اور پھر اپنے سے جواب ارشاد فرمایا،کہ آئندہ سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب اس شب میں لکھ دیے جاتے ہیں اورجتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں اوراس رات میں لوگوں کے(سال بھرکے)اعمال اٹھائے جاتے ہیں اوراس میں لوگوں کامقررہ رزق اتاراجاتاہے (مشکوةشریف) مزید یہ بھی روایت ملتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں اسی لیے بکثرت روزے رکھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ہمیشہ طاعت و عبادت میں دیکھا جاوں، 

    ظاہر ہے آقا کریم ﷺ کا یہ عمل امت کی ترغیب کے لیے تھا،جوبالواسطہ اس ماہ محترم کی شان وشوکت کا بھی پتہ دیتا ہے، 

    شعبان المعظم کی پندرہویں رات:

”شب برات یعنی نجات کی رات“ یہ اپنی گوناگوں خصوصیات کے اعتبار سے شعبان کی عظمتوں میں چار چاند لگادیتی ہے،اوراس کے کئی نام ہیں:لیلہ المبارکة: برکتوں والی رات، لیلة البراة دوزخ سے آزادی ملنے کی رات، لیلة الصَّک دستاویز والی رات، لیلة الرحمة رحمت خاصہ کے نزول کی رات، (زمخشری، الکشاف قرآن حکیم میں اللہ عزوجل نے روشن کتاب کی قسم یاد فرمائی اور فرمایا ہم نے اسے مبارک رات میں نازل کیا، کتاب الٰہی کی گواہی کے بموجب اسلام دین ہے محمد الرسول ﷺ اللہ عزوجل کے آخری پیغمبر ہیں قرآن کریم کتاب ہدایت کے ساتھ ایک مبارک ذکر ہے اور کعبہ شریف ایک مقدس گھر ہے، اسی طرح سورہ الدخان کی افتتاحی آیات شریفہ کے مطابق جیسا کہ مفسرین کے اقوال سے ظاہر ہوتاہے، شعبان کی پندرہویں رات ایک مبارک رات ہے، آحادیث شریفہ میں اس کو فرشتوں کی شب عید بتایا گیا ہے، اور دنیا والوں کے لیے بخشش و مغفرت اور رحمت وبرات کا عظیم مڑدہ سنایا گیا ہے، 

    امیرالمومنین حضرت سیدنا علی بن ابی طالب رضی ? تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جب نصف شعبان کی رات آجائے تو تم اس رات میں قیام کیا کرو اور اس کے دن (پندرہویں تاریخ) کا روزہ رکھا کرو، اس لیے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے سے طلوعِ فجر تک قریب کے آسمان پر نزول فرماتا ہے، اور ارشاد فرماتا ہے کہ ہے کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا جس کی میں مغفرت کروں؟ ہے کوئی مجھ سے رزق کا طالب کہ میں اس کو رزق عطا کروں؟ ہے کوئی کسی مصیبت یا بیماری میں مبتلا کہ میں اس کو عافیت عطا کروں؟ کیا ہے کوئی ایسا؟ کیا ہے کوئی ایسا؟ اللہ تعالیٰ برابر یہ آواز دیتا رہتا ہے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجاتا ہے۔(ابن ماجہ، شعب الایمان) 

    گویا کہ اس رات مولیٰ اپنے بندوں کی تقصیرات کو معاف فرما کر نجات و بخشش کا پروانہ عطافرماتاہے، بس لینے کا سلیقہ گناہوں پر یشیمانی کے آنسو کے ساتھ آرزوے دل احساس رحمت امید مغفرت لیے آپ اس کے حضور خمیدہ سر ہوجائیں

    تو مستحق مغفرت بننے سے کوئی حجاب نہیں روک سکتا، بد بخت ہیں وہ لوگ جو اس رات کو پاکر بھی محروم رہے، عفو و کرم سے دور رہنے والے تو بہت ہیں لیکن چند کے نام میں یہاں اس لیے بھی ذکر کررہا ہوں تاکہ آپ میں اگر وہ برائیاں ہیں تو بغیر کسی تاخیر اور لمحہ انتظار کی توبہ و استغفار کرکے معافی تلافی کرلیں، حدیث پاک میں آیا یہ لوگ محروم ہونگے،

     شرک کرنے والا،بغض و کینہ اور حسد رکھنے والا،ناحق قتل کرنے والا، شراب نوشی کرنے والا،والدین کا نافرمان، زنا کا عادی، قطع رحمی والا،

    اللہ کریم ہمیں رحمت سے دور نہ فرمائے۔

    میرے بھائی کتب حدیث میں شعبان اور کی منور محترم رات کے فضائل اس میں کیے جانے والے اعمال عبادات کے آداب وبرکات و فوائد اور اس کی مقبولیت کی شرطیں پوری تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں، 

    آحادیث وروایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ شب برات کو قبرستان بھی تشریف لے گئے، جیساکہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ فرماتے ہی،ں اب جوشخص شعبان کی پندرہویں رات میں شب بیداری کرے تو یہ فعل احادیث کی مطابقت میں بالکل مستحب ہے، رسول کریمﷺ کایہ عمل بھی احادیث سے ثابت ہے کہ شب برات میں آپ مسلمانوں کی دعائے مغفرت کے لئے قبرستان تشریف لے گئے تھے(ماثبت من السنہ)

    لہذا اس رات میں قبرستان جانا اور دعا کرنا ایک مسنون عمل ہے،اور بزرگان دین سے منقول ہے اوراد وظائف کی کتابوں میں قبرستان جانے عبادات انقیاد بجالانے اور نوافل تلاوت کے فضائل و طریقے بھی موجود ہیں،آپ کا ذوق بیدار ہو، 

    قارئین! ماہ شعبان کی شان وشوکت صرف مذکورہ نقطہ نظر سے نمایاں نہیں بلکہ اس میں پیش آنے والے بہت سارے ایسے تاریخی سوانحی واقعات ہیں، جن کا ذکر یہاں غیر مناسب نہیں، مثلاً تحویل قبلہ کا واقعہ نہ یہ کہ صرف اس ماہ میں پیش آیا بلکہ قمری اسلامی سن وسال کے ماہرین نے ازروئے تقویم یہ بتایا کہ یہ حکم پندرہویں شعبان کو نازل ہوا، اور رسول ﷺ نے تحویل قبلہ فرمایا، سلطان صلاح الدین ایوبی رحمت اللہ علیہ کے فتح بیت المقدس اور وہاں مکمل کامیابی اسی مہینے میں ملی، ہندوستان کی تاریخ میں سلطان محمود غزنوی کے داخلہ سومنات محمد غوری کے سندھ پر قبضہ اور بابر کی حکومت کا آغاز جیسے واقعات اسی مہینے میں رونما ہوئے، 

    سوانحی تذکرہ نگاروں کے لحاظ سے امیرالمومنین حضرت سیدنا فاروق اعظم ام المومنین حضرت حفصہ شہزادی رسول حضرت ام کلثوم حضرت سیدنا امام زین العابدین حضرت امام اعظم ابوحنیفہ امام شافعی سید التابعین عاشق رسول حضرت سیدنا اویس قرنی سیدنا بایزید بسطامی ماضی قریب کے پیر سید جماعت علی شاہ محدث اعظم پاکستان علامہ سردار احمد قادری علامہ عبدالحکیم شرف قادری رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا وصال اسی مہینے میں ہوا، 

    تاریخ ہند کے سلطان محمد بن قاسم اور ٹیپو سلطان جیسی شخصیتوں نے اسی مہینے میں اس دارفانی کو الوداع کہا، علاوہ ازیں عرفان وتصوف کی بعض ایسی شخصیتیں بھی اسی مہینے میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں، جو خاک ہند میں ابدی نیند سورہی ہیں، مثلاً حضرت رسول نما بنارسی اور پٹنہ کے مضافات منیر شریف میں آسودہ خاک مشہور بزرگ سلطان المحققین حضرت سیدنا یحییٰ منیری سلسلہ قادریہ کے عظیم بزرگ حضرت سیدنا محمد کالپوی ترمذی قادری کالپی شریف برادر اعلیٰ حضرت مفتی محمد رضا خان بریلوی نے اسی ماہ مکرم میں جام وصال نوش فرمایا، غور کریں:یہ مبارک و مسعود نبوی مہینہ کس قدر عظیم ہے، 

    گویا اپنی شرعی عظمتوں کے ساتھ ساتھ بہت سارے تاریخی واقعات کے لحاظ سے بھی قابل ذکر ہے،خلاصہ یہی ہے کہ یہ اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ زبان حال سے پیغام دیتا ہے کہ اس کے شب و روز اور خاص شب برات میں عبادات توبہ استغفار اذکار و اشغال اور دعاوں کی کثرت سے فائدہ اٹھا کر اور ملت اسلامیہ کی تاریخ سے وابستہ بزرگوں کی زندگی اور تعلیمات کو عملی جامہ پہناکر آج بھی حیات آفریں اور انقلاب کی منزلوں تک پہونچنا دشوار نہیں ہے ، بشرط کہ آپ بیدار مغز ہوکر دینی ملی شعور و غیرت کو آواز دیں اور حسن عمل عزم محکم کے ساتھ اپنی عظمت رفتہ کی بازیابی کا قصد کریں اور مستعدی کے ساتھ اس راہ میں لگ جائیں، موقع اچھا ہے توبہ کریں اور پھر سے ایک نئی زندگی اسلامی زندگی کا آغاز کریں۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad