تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 25 مارچ، 2022

”زندگی آمدبرائے بندگی“

”زندگی آمدبرائے بندگی“
”زندگی آمدبرائے بندگی“


”زندگی آمدبرائے بندگی“

    اف زندگی ..ہائے زندگی۔۔اب تو زندہ رہنا مشکل ہے۔۔زندگی سے موت بھلی۔.اب زندہ رہکر کیا کرونگا۔۔ عدم سے وجود میں کیوں آیا زندگی پھر موت ایک انسان جب پریشانیوں میں گھر جائے،کہیں سے کوئی آس نظر نہ آئے ہمت پست ہوجائے حوصلے ٹوٹ جائیں، اپنے بیگانے سب تماشائی بن جائیں امیدوں کا چراغ گل ہوتے دکھیں تو یقیناً ذہن ماوف ہوتے لگتا ہے زندگی کی رفتار دھیمی پڑجاتی ہے، امیدوں کی دنیا تاراج ہونے لگتی ہے یقین کا سورج گل ہوتا دکھتا ہے ایسے حال میں پھرمایوسی ناشکری کی دنیا مزید وسیع ہو جاتی ہے، اور انسان عموماً لایعنی باتیں کرنے لگتا ہے۔کبھی کبھار تو انسان عارضی مستعار زندگی اور چند لمحوں کے قرار کی خاطر کفر و ارتداد کی دہلیز تک جا پہونچتا ہے،وقتی تسکین اور فریب سود و زیاں کے چکر میں ایک معمولی قیمت پر غیر معمولی دولت کا سودا کتنی بڑی حماقت ہے اس کا احساس دنیا میں نہ سہی روز محشر یا پھر اسی دن ہو جائیگا جب دم واپسی ہوگی اور گور تیرہ کی سخت رات مہیب کوٹھری کی آغوش میں ہمیشگی کا سونا سلاکر لوگ گھر لوٹینگے،
    اف زندگی ہائے زندگی یا پھر باری تعالیٰ کی جناب میں گلہ وشکوہ اور کفر و ارتداد سے گلے لگ جانا،یہ سب صورت حال کیوں کب اور کیسے درپیش آتے ہیں،
    غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ سب عدم علم، دین بیزاری، ہوس پرستی،بندگی سے دوری، کے نتائج ہیں،اگر انسان قرآن وحدیث کا عالم اور پھر اس پر عامل ہوجائے، غور وفکر سے کام لے اور اپنے معبود پر توکل کرے، امیدوں کی ڈور خالق سے مربوط کرلے اور لاتقنطوامن رحمۃ ﷲ(سورہ الزمر۵۳)کی جانب التفات کرے، تو وہ قانع اور عزم واستقلال کا جبل مستحکم بن سکتا ہے، اور دنیا کی کوئی بھی قوت اس کے پائے ثبات میں تزلزل اور مزاج میں تاسف کا ہلچل بپا نہیں کرسکتی، اور ایک انسان اگر اپنی زندگی وموت کے مقصد پر دھیان دے توجہ مرکوز کرے، پھر خدائی فرمان کو پڑھےالَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ(سورۃ الملک۲)
    وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے اور وہی عزّت والا بخشش والا ہے،اور مصائب ومشکلات کی گھڑی میں وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(سورۃ الشوریٰ۳۰)
    اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تووہ معاف فرمادیتا ہے،ربانی ارشادات کو سامنے رکھ کر اپنے نفس کا محاسبہ کرے،تو من عرف نفسہ فقد عرف ربہ کا عرفان باطن کو منور تابناک اوراپنے رب کا ذکراَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِؕ-اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(سورۃ الرعد۲۸)
    وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل ﷲ کی یاد سے چین پاتے ہیں سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے،دوعالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کوعجب چیز ہے لذت آشنائی تو زندگی کے سارے مسائل میں آسانیاں پیدا ہوجائیگی اور شدید دشوار ترین حالات میں بھی امید ویقین کا سورج نکلتا دکھے گا، اور یہ حق ہےکہ  ﷲ کا ذکر قلب کو قرار اور ناکامیوں پریشانیوں میں جینے کا حوصلہ دیتاہے،
     اس وقت مجھے بتانا ہے زندگی کیا ہے تو یاد رہے کہ زندگی آمد برائے بندگی ؛ زندگی بے بندگی شرمندگی زندگی کا مقصد بندگی خود سپردگی بغیر اس کے شرمندگی اور سچ یہ کہ وہ بھی کیا بندہ ہے جس میں بندگی کا داعیہ نہ ہو اور وہ بھی کیا انسان ہے جس میں اپنے خالق سے انسیت نہ ہو، رہی بات مشکلات مصائب وآلام کی تو یاد رہےزندگی پھولوں کی سیج نہیں اس میں کانٹوں کی چبھن بھی ہے کبھی خوشی کبھی غم کبھی باد صر صر کی لہر تو کبھی نسیم صبح کے جھونکے دھوپ کی تپش تو کبھی چھاوں کی ٹھنڈک ان میں ایک ہو دوسرے کے بغیر ناقص ہے،صرف راحت ہی راحت ہو اور تکلیف نہ ہوتو راحت کی روح اور تکلیف کی تلخ گھونٹ سے آشنائی نہیں مل سکتی، ایک سے دوسرے کی اہمیت آشکارا ہوتی ہے،اللہ تبارک و تعالیٰ کا واضح ارشاد موجودہے:یُرِیْدُ اللہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَ  لَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ(سورۃ البقرہ ۱۸۵)
    ”اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتا ہے وہ تمہارے ساتھ مشکل کا ارادہ نہیں فرماتا،فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ(سورہ الم نشرح۵)تو بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے،پریشانی ایک وقتی آہٹ ہے،یہ کبھی بطور آزمائش آتی ہے اور کبھی ہمارے اعمال بدکا نتیجہ بن کر ظاہر ہوتی ہے اور کبھی ہمیں کسی بڑی کامیابی کے لیے صیقل کرنے کی غرض سےپریشانی آتی ہے اور کبھی بڑی بلاوں سے بچانے کے لیے چھوٹی چھوٹی مصیبتوں میں گرفتار کرلیا جاتا ہے اور کبھی ہمارے ایمان ویقین کو جلا بخشی کے لیے پریشانیاں آتی ہیں،
    لیکن اگر ہم صابر اور شاکر ہیں ہمارے حوصلے بلند ہیں خداپرستی خدا ترسی دین داری خوداعتمادی اور ایمان ویقین کا رشتہ محکم ہے تو پھر مشکلات پریشانیاں آہستہ آہستہ اپنی راہ چل پڑتی ہیں اور زندگی خوشیوں کا گہوارہ اور قبر وحشرکے امن دائمی سکون کا ضامن بن جاتی ہےافسردگی، پژمردگی، درندگی، بیہودگی،سے نکل کر بندگی کرنے کا نام اصل زندگی ہےﷲکرےہماری زندگی برائے بندگی ہو تاکہ اپنے مولیٰ اور آقا کے حضور نہ شرمندگی ہوزندگی زندہ دلی کا ہے نام مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
 مفتی محمد صابررضامحب القادری نعیمی 
سورجاپور اتردیناجپور بنگال

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad