آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟
از:محمد زکریاممتاز دیناج پوربنگال۔
اس کرہ ارض کو گناہوں اور جرائم سے یکسر پاک تو نہیں کرسکتے۔اگر ایسا ہوسکتا تو آدم علیہ السلام سے وہ خطا سرزد نہ ہوتی جس کی پاداش میں وہ زمین پر اتارے گئے، لیکن ہاں جس طرح اسلام نے دوسرے شعبہ ہائے حیات کے لئے ٹھوس اصول منضبط کئے اسی طرح جرم و سزا کا بھی کلیہ مقررکردیا۔قرآن و حدیث اور تفسیروں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے صاف واضح اور غیر مبہم الفاظ میں بعض جرائم کی نشاندہی کی ہے اور ان میں بیشتر کے لئے سزا بھی تجویز کر دی ہے۔
آج ہمارا معاشرہ، ہماری سوسائٹی، ہمارا سماج کیسا ہے؟ ہم نے کن جرائم کے لیے کیسی سزا تجویز کی ہے اور ان کے عمل درآمد کے لئے ہمارے مشنری کتنی اثر پذیر ہے۔ہمارا سماج کس جرم کو کس حد تک برداشت کرسکتا ہے اور برداشت کی حد سے گزرنے پر اس کے لیے تجویز کردہ تعزیری کیا ہے۔ہم مجرموں کی اصلاح کی کونسی صورتیں پیدا کرسکتے ہیں اور جرائم کے ارتکاب سے روکنے کے لیے جرائم پر آمادہ لوگوں کے لئے عبرت کے کونسے نمونے پیش کر سکتے ہیں؟
جرم اور سزا کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی پرانی تاریخ آدم، سماج میں جو مجرم قرار پائے اس کی سزا بھی سب لوگوں کو اکھٹے ہوکر تجویز کرنی چاہیے ورنہ جرائم کی، بڑھتی ہوئی لعنت کا سدباب نہیں کیا جاسکتا، جرائم روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔
حالیہ پولس کا رویہ اور مجرموں سے نمٹنے کا جو سلسلہ رائج ہوتاجارہا ہے وہ حد درجہ غیر تشفی بخش ہے۔لیکن اسلام نے سنگین جرم کا ارتکاب کرنے والے کو بھی دشمنی انتقام کے جذبے سے سزا دینے کی اجازت نہیں دی اگر کسی شخص نے ایک دوسرے شخص کا خون ناحق کردیا تو اس خونِ ناحق کے بدلے خون ہی کی سزا دی ہے اسی کے ساتھ قصاص کی شق بھی لگا دی ہے۔اسلام کے مطابق جب مجرم سزا پا چکا ہوتا ہے تو پھر اسے نفرت اور حقارت کی نظر سے نہیں بل کہ رحمت و شفقت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جب تک ملزم کا جرم ثابت نہ ہو جائے اسے مجرم نہ سمجھا جائے۔
ملزم کو بے گناہ سمجھنا چاہیے جب تک اس کا جرم پائے ثبوت کو نہ پہنچ جائے۔ لیکن آج کا ہمارا میڈیا ملزم کو مجرم ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ عصبیت کا یہ حال ہے آج اگر ان سے کوئی جرم ثابت بھی ہو جاتا ہے تو کہیں تہذیب جدید کے نام پر ،تو کہیں ترقی پسندی کے نام پر ،تو کہیں جدت پسندی کے نام پر انہیں رہا کر دیا جاتا ہے۔اور ادھر یہ حال کہ جرم تھوپ کر سالہاسال قید و بند میں رکھا جاتا ہے۔ آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟اس درد کی دوا تو بس قرآن وحدیث میں ذکر کردہ اصول وضوابط پرعمل پیرا ہونے پر ہی مل سکتی ہے۔



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں