تازہ ترین

Post Top Ad

جمعرات، 14 جولائی، 2022

کشمیر کی بیٹی ڈاکٹر ریحانہ بشیر (آئی اے ایس) کوچ بہارکے دناہاٹاکی نئی ایس ڈی او

کشمیر کی بیٹی ڈاکٹر ریحانہ بشیر (آئی اے ایس) کوچ بہارکے دناہاٹاکی نئی ایس ڈی او


  کشمیر کی بیٹی ڈاکٹر ریحانہ بشیر (آئی اے ایس) کوچ بہارکے دناہاٹاکی نئی ایس ڈی او

                    تندی بادمخالف سے نہ گھبرااے عقاب 

                    یہ چلتی ہے تجھے اونچااڑانے کے لئے 

    ریحانہ بشیر(Rehana Bashir IAS) کشمیر کی پہلی آئی اے ایس افسر ہیں۔ انہوں نے گزشتہ منگل کوکوچ بہار ضلع کے دن ہاٹاکے سب ڈیویژنل حکمران (ایس ڈی او)کے طور پر چارج سنبھالا۔ 2016 میں وہ جموں اور کشمیر کے پنچ ضلع کے ایک دور افتادہ گاوں سلوا سے آئی اے ایس افسر (18ویں رینک) بنے۔ وہ باصلاحیت کشمیری لڑکی ہے جو اب کو چ بہار کے دن ہاٹا کے سب ڈویژنل حکمران (ایس ڈی او) کے طور پر آئی ہےں۔ 

    ریحانہ بشیر کے ایس ڈی او کا عہدہ سنبھالنے کے بعد علاقے کے لوگ ان سے بہتر خدمات کی امیدیں وابستہ کر رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کو امیدہے ترقی یافتہ اور اعلیٰ فکرو ذہنیت کی مالکن اور آئی اے ایس ریحانہ کا تجربہ دن ہاٹامحکمہ کے طلبہ وطالبات کو متاثر کرے گااور ریحانہ سے متاثر ہوکر یہاں کے طلبہ وطالبات بھی کافی آگے بڑھیںگے۔ریحانہ مقامی لوگوں کے ساتھ آسانی سے گھل مل جانے کی کوشش کررہی ہے۔

     انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ وہ بنگالی سیکھ رہی ہیں۔ کچھ دنوں میں بنگالی سیکھ جائیں گی اور سب سے بنگالی میں بات کریں گی۔کشمیر کی بیٹی ریحانہ اپنے ضلع کی پہلی خاتون آئی اے ایس افسر ہیں۔ ان کی پہلی پوسٹنگ کوچ بہار شہر کے دن ہاٹا محکمہ میں ہوئی ہے۔ حالانکہ ان کا ضلع اورریاست بار بار ملک میں بم بندوقوں اور عسکریت پسندوں کی جھڑپوں سے سرخیوں میں رہا ہے۔ اس کے باوجود وہ تعلیم میں خود کوکھودیااوراپنے گردوپیش کے ماحول کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی مستقبل اور ہدف کو نگاہوںمیں رکھااورآج سبھی ریحانہ بشیر کی کامیابی سے خوش ہیںاورسبھی کے لئے ریحان مثال بن کر سامنے آئی ہیں۔

     ریحانہ بشیر نے 2006 میں اپنے والد کو کھو دیا۔ ہونہار ریحانہ نے کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس سے ایم بی بی ایس کا آغاز کیا۔ اس دوران ان کے بھائی عامر بشیر نے 2016 میں یو پی اے سی امتحان میں آئی اے ایس میں 743 واں رینک حاصل کیا۔ان کے بھائی کی اس کامیابی نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا۔ پھر ریحانہ بشیر نے آئی اے ایس کے امتحان کی تیاری شروع کر دی اور پہلی بار مطلوبہ کامیابی ملی اوراپنے بھائی سے بہتر نتائج حاصل کی۔

    ریحانہ کہتی ہیں کہ اس کامیابی کے بعد مجھے ادھر ادھر دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ طب کی تعلیم کے دوران ریحانہ کے آئی اے ایس افسر بننے کے بارے میں سوالات اٹھ رہے تھے لیکن عوام کی خدمت میں ریحانہ نے کہا کہ صرف دوائیوں سے عوام کی صحیح خدمت ممکن نہیں ۔ جب میں انٹرن شپ کر رہی تھی تو مجھے احساس ہوا کہ میں انتظامیہ کا حصہ بن کر لوگوں کی بہتر خدمت کر سکتی ہوں۔ بحیثیت ڈاکٹر میں صرف ایک مریض کا علاج کر سکتی ہوں، لیکن مجموعی طور پر اس کے مسائل حل نہیں کر سکتی۔ لوگو ں کے کئی بنیادی مسائل ہیں، جیسے پینے کے صاف پانی، سڑکیں، اچھی خوراک، صفائی، صحت، تعلیم وغیرہ کا مسئلہ ،اس کام سے میں لوگوں کی بہتر خدمت کر سکوں گی، اس لئے ریحانہ نے آئی اے ایس افسر کے عہدے کا انتخاب کیا۔

    آئی اے ایس افسر بننے کے عزم کودن رات بموں کی آوازیں، عسکریت پسندوں کی ہراسانی اوردوسرے لوگوں کے طعن وتشنیع اسے روک نہ سکے۔وہ اپنے مطلوبہ ہدف تک پہنچنے کے لئے شب روز محنت کرتی رہیں اورآج آئی اے افسر بن کرایک عظیم دستوری عہدہ ایس ڈی او کے عہدے پرفائز ہےں۔ درحقیقت ارتکاز اور استقامت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ اگر آپ اہداف کا تعین کریں اور صحیح منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھیں تو کامیابی ایک دن ضرور آئے گی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad