![]() |
| نافرمان اولاد نے جائدادکے لئے 85سالہ باپ کو گھر سے بے دخل کردیا |
نافرمان اولاد نے جائدادکے لئے 85سالہ باپ کو گھر سے بے دخل کردیا
یوزٹوڈے اردو:کچھ واقعے ایسے ہیں جو انسانی وجود جھنجھوڑکررکھ دیتے ہیں۔ ان واقعات کو کسی بھی اعتباردل اور ذہن قبول ہی نہیں کرتے ہیں۔ انہی میں سے ایک دل دہلادینے والا واقعہ مالدہ ضلع میں پیش آیا ہے جس میں ایک 85سالہ ضعیف باپ کو ان کے نافرمان بیٹوں سے جائداد پر قبضہ کی غرض سے گھر سے بے دخل کردیا۔اس ضعیف باپ کے اور لڑکیوں نے 85 سالہ باپ کی جائیداد پر زبردستی قبضہ کر لیا۔
یہ غیر انسانی واقعہ مالدہ ضلع کے رتواایک نمبر بلاک کے بہرل علاقے میں پیش آیا۔ ترنمول ضلع صدر نے بے بس بوڑھے کو اس کے گھر واپس کرنے کا یقین دلایا ہے۔ جانکاری کے مطابق رتواایک نمبر بلاک کے بہرل پنچایت کے شمالی سہاپور کے 85 سالہ میر ارات اب ایک درخت کے نیچے رہ رہے ہیں۔
تیز آندھی اور طوفان کی پرواہ کئے بغیر مجبوراہویامسروراوہ درخت کے نیچے دن رات گزاررہے ہیں۔یہ خاندان دو بیٹوں میر ہدایت اور میر سکیت اور پانچ بیٹیوں پر مشتمل ہے۔ اہلیہ آمنہ بی بی کا پانچ سال قبل انتقال ہو گیا تھا۔ دوسرے فریق کی اہلیہ منورہ بی بی زندہ ہیں لیکن ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔
اس دوران معمر شخص پیشے سے گاڑی ڈرائیور تھا۔ بعض اوقات وہ مقامی بازاروں میں ہلدی فروخت کرتا ہے۔ تاہم وہ بیماری کی وجہ سے مزید کام نہیں کر سکتے ،سبھی بچوںکو شادی کراچکے ہیں،ہرطرح کی ضروری ذمہ داریوں سے فارغ ہوچکے ہیں اب انہیں سے صرف اپنی اولاد کے لاڈ وپیار اور ان ی دیکھ ریکھ میں زندگی کے آخری ایام گزارنے تھے لیکن ایسے وقت میں انہیں ان کی اولاد نے زبردست چوٹ پہنچائی ہے جس کی تکلیف ایک باپ ہی محسوس کرسکتے ہیں۔
ارات کے پاس مکان سمیت تین بیگھہ جائیداد تھی۔ تقریباً پانچ سال قبل انہوں نے بچوں کے نام برابر اثاثے لکھوادئے ہیں۔ حالانکہ سب سے چھوٹی بیٹی مستری خاتون نے تھوڑی زیادہ جائیداد لی ہے۔ الزام ہے کہ چھوٹی بیٹی کو زیادہ جائیداد دینے کے بعد دوسرے بچوں نے اسے بے دخل کردیا۔ پھر وہ اپنی سب سے چھوٹی بیٹی مستری کے ساتھ رہنے لگا، لیکن ایک ہفتہ قبل ان کی چھوٹی بیٹی مستری نے بھی مبینہ طور پر اپنے بوڑھے والد پر حملہ کیا اور انہیں گھر سے باہر پھینک دیا۔ اب وہ بہرال کے شمالی سہاپور کے ہیبیلی گاوں میں آم کے درخت کے نیچے رہنے لگے ہےں۔
مقامی لوگ اسے کھانا دیں تو وہ کھاتا ہے۔ ورنہ وہ خالی پیٹ ہی دن گزارنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بوڑھا کب تک درخت کے نیچے اپنی زندگی گزارے گا۔
اس معاملے کی اطلاع انتظامیہ کو دی گئی، لیکن آج تک انتظامیہ کی طرف سے کوئی بھی اس صورتحال کو دیکھنے نہیں آیا۔ الزام ہے کہ پنچایت کے پردھان سے لے کر گرام پنچایت کے ممبران تک کوئی سامنے نہیں آیا۔ مالتی پور کے ایم ایل اے اور ترنمول کے ضلع صدر عبدالرحیم بخشی کا گھر بہت قریب ہونے کے باوجود انہوں نے اس بوڑھے کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں لی۔
مالتی پور کے ایم ایل اے اور مالدہ ضلع ترنمول کانگریس کے صدر عبدالرحیم بخشی نے میڈیا کو بتایا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔ اس بوڑھے نے اپنی اولاد کے لئے بہت محنت کی ہے۔ بوڑھے میر ارات کے بچوں نے اسے بہکا کر اس کی جائیداد چھین لی اور اسے گھر سے نکال دیا۔ ہم اسے جلد گھر واپس لانے کے انتظامات کر رہے ہیں۔ سرکاری طور پر اسے ہاوسنگ اسکیم سے رقم ملی ہے۔ انہیں مفت راشن کا سامان بھی مل رہا ہے۔ چونکہ بہرل گرام پنچایت بی جے پی چلاتی ہے، اس لئے انہیں پنچایت سے کوئی موقع نہیں مل رہا ہے۔ ایسے واقعات بی جے پی پنچایتی علاقوں میں زیادہ ہو رہے ہیں۔ ہم پارٹی کی جانب سے ان کے گھر جائیں گے اوربذات خود میں ان کے بچوں سے بات کروں گا اور ان کی گھر واپسی کا انتظام کروں گا۔



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں