![]() |
| حضور مخدوم سمناں: سمناں سے ہندوستان |
حضور مخدوم سمناں: سمناں سے ہندوستان
از قلم: مفتی محمد صابررضامحب القادری نعیمی
ایک 15سال کا خوبرو نوجوان تخت سلطنت پر جلوہ گر ہے۔ وزرا،خدام اور رعایا کی بھیڑ ہے۔ دولت کی ریل پیل ہے۔ ہر طرح کی آسائش اور تمام طرح کے سامان راحت موجود ہیں۔داد رسی اورفریاد رسی کی بہاریں قدم بوس ہیں ۔غربا ومساکین پر امداد کے خزانے کھول دئے گئے ہیں،تخت سلطنت پر متمکن یہ نوجوان قرات سبعہ کا قاری قرآن حکیم کا حافظ اور علوم متداولہ کا عالم وفاضل اور سخی ابن سخی کریم بن کریم اور اولیا و صلحا کی بشارتوں کا کھلتا گلاب جس کی خوشبو سے ایوان حکومت کا رنگ و روپ بدلہ ہوا ہے خوشبودار ہوا کے جھونکے مشام جاں کو معطر معطر کئے ہوئے ہیں،اپنے آبا واجداد کی امانتوں کا امین نوجوان پوری شان سخاوت اور پیکر عدل وانصاف بن کر رحمتوں عنایتوں اور بخشش و نوازشات کا گنج گراں لٹا رہا ہے، لیکن کار سلطنت سے اتنی دلچسپی نہیں جتنی کے ہونی چاہئے، دل دماغ اور فکر ونظر کا مرکز و محور کچھ اور ہے، خالق کے عشق کی آگ لگی ہوئی ہے، سلطنت سے دل بھاگا جارہا ہے دنیا پیچھے بھاگی جارہی ہے ان کا دل دنیا سے بھاگا جارہا ہے، قدرت کی مرضی ہے صرف سمنان نہیں دنیا فیضیاب ہو صرف ساکنان سمنان کا غوث (فریادرس) نہیں عالم کا غوث ہو، جو لوگ اشد حب اللہ کا لبادہ اوڑھ کر دنیا ومافیھا سے بے نیاز ہوگئے ۔
ان تارکین دنیا کا سلطان ہو اور ان کی سلطنت سمنان کے ایک خاص دائرہ تک محدود نہ رہے بلکہ دنیا کے گوشے گوشے میں ان کی سلطنت کا جرس بجے اور فرشتوں کی زبان پر سمناں گیر نہیں جہانگیر کا خطاب ہو ،اور سرپر محبوب یزدانی کا تاج ہو، بہرصورت نوشتہ تقدیر دل میں عشق کی لگی آگ کی لو تیز ہوئی دنیا جہان روشن ہوا،رمضان المبارک ستائیسویں شب حضرت سیدنا خضر علیہ السلام نے نویدجانفزاں سنایا ہند کی جانب رہنمائی فرمائی۔
ع ” ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے “
سمنان کے تاجدار نے اپنے بھائی حضرت سید اعرف علیہ الرحمہ کو عدل وانصاف اور شریعت کی پاسداری کی تلقین کرتے ہوئے حکومت تخت و تاج تفویض کیا، اللہ اکبر یہ ہے شان فیاضی لیکن آج جدھر دیکھو دولت ثروت کی جنگ جاری ہے گھر برباد چمن تاراج ہورہے ہیں، حقوق کی پامالی جھوٹے پروپیگنڈے غرور و انانیت اور حرص دنیا نے انسان کو اندھا اور بہرا کردیا ہے نتیجتاً جسے دیکھو وہی باہم دست وگریباں نظر آرہا ہے وقت ضرورت تو لوگ لہو کے بوند بوند کو ترستے ہیں لیکن بغیر ضرورت کے کبھی کبھی خون کی ندیاں ہماری گلی کوچوں میں بہتی دکھ جاتی ہیں، نفس پرستی قتل وغارت گری کے شیطانی کھیل نے بھائی کے لئے بھائی کا خون ارزاں کر دیا ہے خیر اللہ تعالیٰ ہمارے لئے ہمارے بزرگوں کی زندگی مشعل راہ بنائے،مخدوم پاک اپنی ماں کے حضور پہنچے مادر مشفقہ پرتو سیدہ طیبہ عابدہ زاہرہ نے خالق و مخلوق کے درمیان کے اس مضبوط واسطہ کو دعاوں کے سایے میں رخصت کیا، اور کیا تھا سیدھے سارے جہاں سے اچھا ہندوستان کی جانب چل دیے،سمرقند کی راہ سے ہوتے ہوئے ملتان میں اوچھ پہنچے وہاں مخدوم جہانیاں جہاں گشت سیدنا جلال الدین بخاری قدس سرہ کے مہمان ہوئے، انہوں نے سلسلہ قادریہ کی خلافت واجازت مرحمت فرمائی، اور وقت رخصت ارشاد فرمایا! فرزند اشرف جلدی کرو دربار شیخ علا ءالحق میں حاضر ہو جاو وہ شدت سے تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔
مورخین نے لکھا ہے وہاں سے دہلی سیدنا بختیار کاکی اور محبوب الٰہی قدس سرہما کے مزارات پر حاضری دیتے ہوئے بہار شریف پہنچ کر مخدوم الملک سلطان المحققین حضرت مخدوم بہار کا جنازہ پڑھایا اور پھر بنگال نزول فرمایا خانقاہ چشتیہ نظامیہ سراجیہ میں اعزاز واکرام کے ساتھ استقبال ہوا، قطب بنگال سیدنا مخدوم علاءالحق پنڈوی نے سلسلہ چشتیہ نظامیہ سراجیہ میں مرید کیا اور خلعت خلافت سے نوازا کثیر مجاہدات کے ذریعہ سلوک ومعرفت کے منازل طے کراتے ہوئے واصل باللہ اور فنافی اللہ کے اس معیار تک جاگزیں فرمایا کہ شب برات کے موقع سے خلوت میں انہماک کے ساتھ مجاہدہ کررہے تھے کہ در و دیوار سے آواز سے آنے لگی اشرف جہانگیر اشرف جہانگیر ؛ حضرت شیخ علاءالحق پنڈوی مسرور ہوئے اور یہ معزز خطاب آپ کو عطا فرمایا،اور مرشد برحق نے جونپور کی ولایت عطا فرمائی محمد آباد جفرآباد جونپور ہوتے ہوئے روح آباد ایک جنگل میں تالاب کنارے آپ نے قیام فرمایا آج اس مقدس زمین کو پوری کچھوچھہ شریف سے موسوم کرتی ہے،
سمنان سے پنڈوہ بنگال اورجونپور روح آباد تک سفر میں لاکھوں غیر مسلموں کو دین وایمان کی توفیق ملی کثیر لوگ دامن اسلام سے وابستہ ہوئے بہت سی کرامتوں کا ظہور ہوا خلق خدا عوام وخواص علما و مشائخ نے استفادہ کیا اور پوری زندگی مخلوق کو خالق کے وصال کا جام پلاتے رہے تبلیغ واشاعت دین کے لئے دنیا کے بیشتر حصوں کا سفر فرمایا قادریت چشتیت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلام و سنیت اور اصل دین کو اللہ کے بندوں تک پہنچایا سمنان کی سلطنت چھوڑی حق تعالیٰ نے کائنات کا سلطان عالم کا غوث ولایت میں قدوة الکبری محبوبیت میں محبوب یزدانی کے ایسے عظیم منصب پر متمکن فرمایا کہ آج بھی ہیں خالق نے اپنی چاہتوں کا وہ صلہ دیا کہ مخلوق کے قلوب کو ان کے لیے مسخر کردیا سیجعل لھم الرحمن ودا کی عملی تفسیر بنادیا،
حضرت مخدوم پاک نے دینا کے سیکڑوں علما ومشائخ سے استفادہ کیا اور سیکڑوں علما ومشائخ اور معاصرین نے آپ کی ذات سے کسب علم وفضل کیا تدریس کے فرائض بھی انجام دیے اپنی دور حکومت میں علما کو وظائف جاری کیے مدارس اور مراکز کی سرپرستی فرمائی درجنوں کتب ورسائل لکھے ترجمہ قرآن فرمایا اخلاق وتصوف نام سے اردو کتاب تحریر فرمائی، بعض علما و مورخین مخدوم پاک کو اردو کا پہلا مصنف شمار کرتے ہیں
اصلاح باطن اور تزکیہ احوال کے لیے لطائف اشرفی مکتوبات اشرفی رسالہ قبریہ وغیرہ کتب کا علمی روحانی دنیا میں کوئی جواب نہیں،جہاں قدم رنجا ہوتے بیعت ورادات کے ساتھ عظ و خطابات بھی فرماتے، بلکہ سوانح نگار علمانے یہاں تک لکھا ہے کہ دنیا بھر میں جہاں اور جس جگہ تشریف لے جاتے علم وفضل کے ایسے جامع اور ذہین تھے کہ وہاں کی مادری زبان میں وعظ فرماتے اور باضابطہ کتابیں تصنیف کرتے، زہد ورع کشف وکرامت میں مخدوم پاک یگانہ روزگار تھے،
زندگی میں شادی نہیں کی، غالباً دوسرے سفر میں حضرت سیدنا عبدالرزاق نورالعین قدس سرہ جو آپ کے بھانجے ہیں اور سرکار غوث پاک کی اولاد میں سے ہیں ان کو آپ نے علم ورحانیت تصوف اور حقیقت ومعرفت کے کمالات سے مزین کیا اپنی نگرانی اور تربیت میں ولایت قطبیت اور مشخیت کی منزل تک پہنچا کر اپنی جانشینی کے قابل بنایا۔
28محرم 832ھجری کو آپ خلد آشیاں ہوئے، آپ کا سلسلہ اشرفیت سیدنا عبدالرزاق نورالعین علیہ الرحمہ سے چلا اور آج تک چل رہا ہے ان شاءاللہ قیامت تک چلتا رہے گا اور روح آباد کچھوچھہ مقدسہ سے فیوض و برکات کا چشمہ شفا جو آپ نے جاری فرمایا تھا آج بھی یکساں طور پر جاری ہے اپنی قبر انور سے اپنے غلاموں اور آنے جانے والے زائرین معتقدین پر نظر کرم فرماتے ہیں۔
قارئین! ممکن ہو تو آپ چشم تصور وا کریں اور آج سےدوچارپانچ صدی پیچھے پلٹ کر دیکھیں، کیسا زمانہ تھا کیسے لوگ تھے اور کیا حالات تھے،اس دور میں مخدوم پاک کے سمنان سےہندوستان اور پھر مکہ مکرمہ مدینہ منورہ سمیت سیکڑوں مقامات کے سفر پر نظر کریں، تو آپ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیگا،آج کی طرح اس دور میں نقل و حمل آمد ورفت کے ذرائع نہیں تھے اورناہی ٹکنالوجی برق رفتار سوشل میڈیا کا کوئی وجود تھا، جنگل پہاڑ دریا سمندر رہزنوں کے اڈے درندوں کے بسیرے تاریک راستے پرخار وادیاں اور اس کے علاوہ کیا تھا کچھ نہیں، لیکن باوجود تمام دشواریوں کے مخدوم پاک نے عیش وعشرت کو تج کر اور زمام حکومت کو ٹھوکر مار کر درویشی اختیار کی اور دنیا کے طول وعرض کا تبلیغی علمی روحانی سفر فرمایا،سیرو فی الارض پر عمل کیا، مشکلات دیکھ کر عقل تو جواب دیتی ہے لیکن عشق جواب نہیں دیتا، اور یہ عشق مولیٰ ہی تھا ان کا یہ روحانی سفر بتمام وکمال انجام کو پہنچا،زندگی کے مختصر ایام میں مطول سفر اور کارنامے دیکھ کر دل بینا پکار اٹھتا ہے،
یقیناً حق تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کے لئے قرب و بعد کو سمیٹ دیتا ہے اور وہ قوت پرواز عطا فرماتا ہے کہ پھر کوئی بھی طاقت اس اڑان کا مقابلہ نہیں کرسکتی، ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ ہم بزرگوں کی زندگیوں اور تعلیمات کے روشن ابواب کا مطالعہ کریں، اس سے حوصلہ ملے گا وصل مولیٰ شوق پیدا ہوگا باطل قوتوں کے مقابلہ کا ایک ناقابل شکست ایمانی روحانی جذبہ جنم لے گا۔
الحمدللہ راقم الحروف یکے از غلامان اشرف آج اسی بارگاہ مخدوم کی جانب عازم سفر ہے ساتھ میں چھوٹا بھائی عزیزم محمود اشرف سلمہ بھی ہے بس اس امید کے ساتھ
سرور شاہ کریما دستگیرا اشرفا
حرمت روح پیمبر اک نظرکن سوئے ما
ناظرین! یہ کوئی مبسوط مضمون نہیں ہے بس ٹرین میں بیٹھے بیٹھے اپنی ناقص یاد داشت کی بنیاد پر یہ چند سطور احقر نے رقم کردئے ہیں، ان شاءاللہ تفصیلی مضمون بعد میں حق تعالیٰ جل شانہ اپنے حبیب ﷺ اور سہ محبوباں کے تصدق تمام عشاق مریدین اور معتقدین کی حاضری قبول فرمائے اور فیضان غوث العالم سے مالا مال فرمائے آمین بجاہ سیدالکونین ﷺ



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں