![]() |
| سوانح حیات سیدنامخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ |
سوانح حیات سیدنامخدوم اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ
غوث العالم محبوب یزدانی تارک السلطنت سلطان مخدوم میر اوحد الدین سید اشرف جہانگیر سمنانی جو سلسلہ اشرفیہ کہ بانی ہیں، آٹھویں صدی ہجری کے چشتیہ سلسلہ کے مشہور و معروف بزرگ ہیں۔
ولادت باسعادت:
آپ ملک سمنان کے صوبہ خراسان کے دار السلطنت شہر سمنان میں سن 707ھ کو ایک بزرگ کامل اور سمنان کے بادشاہ سلطان سید ابراہیم کے گھر پیدا ہوئے۔
نام و نسب:
آپ کا نام اشرف لقب جہانگیر اور محبوب یزدانی آپ 707 ہجری میں سمنان کے ریاست میں پیدا ہوئے آپ کے والد گرامی کا نام سلطان سید ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ ہے والدہ محترمہ کا نام خدیجہ بیگم ہے آپ کے والد گرامی ریاست سمنان کے بادشاہ تھے یہ قدیم شہر آج بھی ایران میں موجود ہے۔
حیرت انگیز قوت حافظہ:
جب آپ کی عمر چار سال چار ماہ چار دن کی ہوئی تو بڑی دھوم دھام کے ساتھ رسم بسم اللہ خوانی ادا کی گئی۔آپ کی قوت حافظہ کا یہ عالم تھا کہ سات سال کی عمر میں قرآن شریف ساتوں قرا ت کے ساتھ حفظ کر لیتے ہیں اس کے بعد مروجہ نصاب کے مطابق معقولات و منقولات کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ تفسیر و حدیث فلسفہ و منطق حکمت و تصوف وغیرہ اپنے وقت کے تمام مروجہ علوم و فنون پر عبور ور دستگاہ حاصل کر کے ممتاز علما کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں اور چودہ سال کی عمر میں فضیلت کی دستار بندی ہوتی ہے۔ ابھی حضرت سیدنا مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ تحصیل علوم و فنون سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ آپ کے والد گرامی حضرت سید ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال ہوجاتا ہے اور پندرہ سال کی عمر میں سلطنت کی ذمہ داری کا بوجھ آپ پر آجاتا ہے آپ نے سلطنت میں بے مثال امن و امان قائم کیا اور لوگوں کو لوٹ مار چوری ڈکیتی اور ظلم و ستم سے محفوظ و مامون بنادیا دس سال تک عدل و انصاف اور جود و سخاوت کے ساتھ اچھی طرح حکومت کا کام انجام دیتے رہے لیکن اس کے باوجود آپ کے ظاہر و باطن پابند شریعت و طریقت ہی رہے۔
حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت اور عظیم منصب کی بشارت:
جب آپ کی عمر پچیس سال کی ہوتی ہے آپ کی زندگی میں ایک عجیب انقلاب آتا ہے ایک عظیم منصب کی بشارت ملتی ہے اور وہ یہ کہ رمضان المبارک کی 27 تاریخ کی رات ہے رحمت و انوار کی بارش ہے حضرت خضر علیہ السلام تشریف لاتے ہیں اور فرماتے اشرف ! اگر منزل مقصود پہنچنا چاہتے ہو تو ہندوستان پہنچو۔ وہاں پر اللہ کا ایک دوست ہے وہی تیرا مرشد ہے گروہ عرفان ان کو شیخ علاءالحق گنج نبات کہتے ہیں طالب عشاق ان کو یوسف ثانی کہتے ہیں اور میں خضر ان کو خلق محمد کہتا ہوں۔ یہ کہہ کر حضرت خضر علیہ السلام غائب ہوجاتے ہیں جب صبح ہوتی ہے حضرت مخدوم اشرف تخت و تاج سلطنت و حکومت اپنے چھوٹے بھائی محمد اعرف کو سپرد کر دیتے ہیں اور ترک سلطنت کرکے تحصیل آخرت کیلئے اجازت طلب کرتے ہیں اور سفر کرتے ہوئے خطئہ اوچ میں تشریف لاتے ہیں اور حضرت مخدوم جلال الدین بخاری جہانیاں جہاں گشت کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں حضرت بتاکید ارشاد فرما تے ہیں اشرف! دیر مت کرو جلدی سے ملک بنگال پہنچو۔ اس لئے کہ علاءالحق گنج نبات آپ کا انتظار فرما رہے ہیں۔
حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ وہاں سے سیدھا دہلی پہنچتے ہیں یہاں پر ایک صاحب ولایت ارشاد فرماتے ہیں اشرف خوش آمدید خبردار راستے میں کہی زیادہ دیر مت کرنا کہ برادر علاءالحق گنج نبات تمہارا انتظار فرما رہے ہیں۔
حضرت مخدوم اشرف دہلی سے روانہ ہوتے ہیں اور بہار کے قریب قصبہ سلاو میں پہنچتے ہیں اور چند دن قیام فرماکر عبادت و ریاضت کرتے ہیں جب آپ بہار چلے تو یہاں حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحیی منیری کی روح پرواز کرنے کا وقت تھا حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحیی منیری اپنے اصحاب سے وصیت کرتے ہیں خبردار کوئی بھی میرے جنازہ کی نماز نہ پڑھائے کیونکہ ایک سید صحیح النسب تارک سلطنت ساتوں قرا ت کا حافظ چودہ علوم و فنون کاعالم عنقریب یہاں آئے گا اور وہی میری نماز جنازہ پڑھائے گا مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحیی منیری کا جنازہ تیار ہے مریدین سارے لوگ حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ کا انتظار کر رہے ہیں جیسے ہی محبوب یزدانی خانقاہ میں نزول اجلال فرماتے ہیں حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحیی منیری کی بتائی ہوئی نشانیوں کو پاکر سارے لوگ آپ کی دست بوسی کے لئے ٹوٹ پڑتے ہیں۔
لوگوں کے اصرار پر نماز جنازہ کی امامت فرماتے ہیں پھر تدفین کے بعد دل میں خیال پیدا ہوا کہ بہار ولایت بنگال میں شامل ہے شائد میرے مرشد یہی تھے جو انتقال فرماگئے فورا جواب ملتا ہے فرزند تمہارے پیر ابھی زندہ سلامت ہیں۔مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کا استقبال پنڈوہ شریف مالدہ بنگال میں:حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحیی منیری کے مزار پر انوارسے روانہ ہوتے ہیں اور سیدھے مقام جنت آباد پنڈوہ شریف بنگال کا رخ کرتے ہیں
ادھرپیرکامل مرشدبرحق حضرت علاءالحق پنڈوی بنگالی بعد نمازچاشت خواب سے بیدار ہوتے ہیں اور بے تابانہ خانقاہ سے باہر نکلتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ مجھے یار کی خوشبو آرہی ہے اپنی سواری پالکی اور اپنے مرشد حضرت شیخ سراج الحق والدین کی پالکی جو آپ کو ملی تھی ہمراہ لیکر شہر سے باہر تشریف لاتے ہیں آپ اپنے مرشدکی پالکی پر سوار ہوتے ہیں اور اپنی پالکی خالی رکھتے ہیں
المختصر یہ ہے کہ دونوں جانب سے جذبہ محبت کا اثر ظاہر ہو تا ہے حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ دور کر آتے ہیں اور مرشدحق کے قدموں پر سر رکھ دیتے ہیں اور محسن و مربی پیر کامل بھی اپنے قدموں سے اٹھاکر اپنے سینے سے لگالیتے ہیں۔ اس کے بعدفرماتے بیٹا اشرف تم میری پالکی پر سوار ہو۔۔۔
حضرت مخدوم اشرف عاجزی سے عرض کرتے ہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ آقا سوار ہو اور غلام بھی سوار ہو بعد اصرار حسب ارشاد مرشد حق کی پالکی پر سوار ہوتے ہیں جیسے ہی خانقاہ کے دروازے پر پہنچتے ہیں مرشد کے آستانے کی چوکھٹ پر سر رکھ دیتے ہیں مرشد بر حق کمال شفقت سے مرید خاص کو سینے سے لگا کر انوار و عرفان کی دولتوں سے ملامال کردیتے ہیں۔اس کے بعد خانقاہ کے اندر لے جاکر اپنے پاس بیٹھا کر اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا تے ہیں اور ایک قسم کا پان بھی کھلاتے ہیںپھر مرید ہونے کا حکم دیتے ہیں اس کے بعد اپنے سر کا تاج اتار کر اپنے ہاتھوں سے محبوب یزدانی کے سرپر رکھ دیتے ہیں۔ اس کے حجرے کے اندر لے جاکر چند منٹوں میں تمام اسرار و انوار سے سرفراز فرمادیتے ہیں۔
حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ پنڈوہ شریف مالدہ بنگال میں تقریبا چھ سال تک پیر و مرشد کی خدمت میں رہ کر منازل سلوک طے کرنے کے بعد پیر و مرشد کی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پنڈوہ شریف مالدہ بنگال سے روانہ ہوتے ہیں۔
سلسلہ اشرفیہ:
حضرت مخدوم سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی کی نسبت سے یہ سلسلہ اشرفیہ کہلاتا ہے۔حضرت مخدوم سمنانی نے کیونکہ مناکحت نہیںفرمائی تھی اس لئے کوئی صلبی اولاد حضرت نے نہیں چھوڑی ۔حضرت شاہ عبدالرزاق نور العین حضرت کے روحانی فرزند خلیفہ اول اور پہلے سجادہ نشیں تھے۔اس لئے آپ کی اولاد ہی حضرت مخدوم کی اولاد کہلاتی ہے اور اسی نسبت سے یہ خاندان خاندان اشرفیہ اور اس کے مریدین کا سلسلہ ،سلسلہ اشرفیہ کہلاتاہے ۔اس سلسلے اشرفیہ میں وقتا فوقتا بڑی علمی وروحانی جلیل القدر ہستیاں گزری ہیں جن میںہم شبیہ غوث الاعظم حضرت ابواحمد محمد علی حسین اشرفی المعروف اشرفی میاں رحمة اللہ تعالیٰ علیہ ،حضرت محدث اعظم ہند سید محمد اشرفی کچھوچھوی او رقطب ربانی حضرت ابومخدوم شاہ سید محمد طاہر اشرف الاشرفی الجیلانی رحمة اللہ تعالیٰ علیہ اور اشرف المشائخ حضرت ابومحمد شاہ سید محمد اشرف الاشرفی الجیلانی قدس سرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔سلسلہ اشرفیہ کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس کے مریدین ومعتقدین اس وقت پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں جن میں علما ومشائخ بھی کثیر تعدادمیں شامل ہےں
بارگاہِ مخدومی کی حاضری اور بشارت:
ہر سال کی طرح اس سال بھی عرس مخدومی میں لاکھوں عقیدت مندوں کی حاضری ہوگی ان شاءاللہ سلطان التارکین غوث العالم محبوب یزدانی حضور سید مخدوم اشرف سمنانی چشتی رضی اللہ عنہ نے اپنے زائرین کو بشارت عظمہ سنائی ہے ۔سید مخدوم اشرف سمنانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ جو شخص میری قبر پر حاضری دے گا ان شاءاللہ اس کی حاجت پوری ہوگی اس کا انجام اچھا ہوگا وہ بخشا جائے گا اور اور دوزخ کی آگ اس پر حرام ہوگی۔
وصال با کمال:
808 ھجری ہے آپ کی عمر سو سال ہو چکی ہے محرم کا مقدس مہینہ آتا ہے چاند دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں اور یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس ماہ میں ہمارے جدامجد سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو شہادت نصیب ہوئی تھی اگر ہمیں بھی موفقت نصیب ہو تو بہت اچھا ہے چنانچہ عاشورہ کے دن آپ کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے اور محرم کی ستائیسویں تاریخ میں آپ فجر کی امامت نہ کر سکے دن میں اپنا سجادہ حضرت نورالعین کے حوالے کر تے ہیں اور کاغذات کے چند اوراق لیکر نصیحت لکھتے ہیں۔
اٹھائیس محرم کو تبرکات کا بقچہ منگاتے ہیں اور حضرت نورالعین کے حوالے کر تے ہیں اور کچھ یاد گار مریدین کو عنایت فرما دیتے ہیں۔ پھر لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں ظہر کی نماز میں حضرت نورالعین کو امام بناتے ہیں بعد نماز شیخ سعدی کے کچھ اشعار سنانے کی فرمائش کرتے ہیں آخر کار ندائے حق جو بنگال کی کھاڑی سے لے کر گجرات کے ساحل تک اور جنوبی ہند کی سطح سے لیکر ایران عراق حجاز تک گونج رہی تھی قانون قدرت کے تحت خاموش ہوگئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون اللہ تعالی
آپ کی تربت پر رحمت و انوار کے پھول برسائے اور ہم سب پر مخدومی فیضان کی بارش برسائے آمیں ثم آمین بجائے سید المرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین
از:تلمیذ محدث کبیر مفتی عبدالرشید اشرفی امجدی دیناجپوری
7030786828



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں