![]() |
| حضرت مخدوم اشرف اور ترک سلطنت.محمد شہباز عالم مصباحی |
حضرت مخدوم اشرف اور ترک سلطنت
محمد شہباز عالم مصباحی
تصوف اور زہد:
قرآن کریم میں اللہ سبحانہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
(1)(لوگوں کے لیے عورتوں سے خواہشات کی اور بیٹوں کی اور سونے اور چاندی کے خزانوں کی اور نشان زدہ گھوڑوں کی اور مویشیوں اور کھیتی باڑی کی محبت خوش نما بنادی گئی ہے۔یہ (سب) دنیا کی زندگی کا سامان ہے، اور اللہ ہی کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔(اٰل عمران:14) ترجمہ تبیان القرآن،علامہ غلام رسول سعیدی)
(2)مال اور فرزند تو دنیوی زندگی کی زیب وزینت ہیں اور باقی رہنے والے اعمال صالحہ تیرے رب کے یہاں ثواب کے اعتبار سے بہتر ہیں اور امید کے لحاظ سے بھی بہتر۔ (الکہف، 45-46) (ترجمہ چشتی)
علامہ پیر کرم شاہ الازہری علیہ الرحمہ درج بالا آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
مال واولاد کی خواہش کس دل میں نہیں۔ان کے ہونے سے کون خوش نہیں ہوتا۔اگر ان میں سے کوئی چیز نہ ہو توزندگی کتنی بے مزہ اوربے کیف ہوجاتی ہے۔یہ ایسی چیزیں ہیںجنہیں سب جانتے ہیں۔یہاں بتا دیا کہ مال واولاد سے دنیوی زندگی مزین ہوتی ہے اور جب یہ زندگی خود ناپائیدار ہے تو اس کے متعلقات بھی ناپائیدار ہوں گے۔اس لیے عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی ساری عمر ،اپنی ساری کد وکاوش ان دنیوی زینتوں کے لئے وقف نہ کردے۔ایسا نہ ہو کہ جب یہ فنا ہوجائیں تو تم خالی ہاتھ ملتے رہ جاو¿،بلکہ زاد آخرت کی بھی فکر کرو۔وہ نیک اعمال جو اللہ کی خوشنودی کے لئے کئے جائیںوہ اس حیی وقیوم سے وابستہ ہونے کی وجہ سے بقا ودوام کی صفت سے متصف ہوجاتے ہیں۔( ضیاءالقرآن،جلد سوم،در ذیل تفسیر آیت ہذا)
(3 اور انہیں یوسف سے ویسے بھی دلچسپی نہ تھی۔(یوسف: 20)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دونوں کندھوں کو پکڑ کر فرمایا: دنیا میں یوں رہو جیسے مسافر یا راہ گیر۔
صاحب ریاض الصالحین امام نووی(ف:676ھ) فرماتے ہیں کہ علما نے اس حدیث کی تشریح میں فرمایا کہ دنیا کی طرف مت جھکو اور نہ اس کو اپنا وطن بناو¿ اور نہ اپنے دل کو لمبی دیر تک رہنے کے لئے اس میں لگاﺅ اور نہ اس کی طرف زیادہ توجہ دو ،اور اس سے اتنا ہی تعلق رکھو جتنا مسافر غیر وطن سے رکھتا ہے اور اس کے اندر مشغول نہ ہو جس طرح وہ مسافر مشغول نہیں ہوتا جو کہ اپنے گھر واپس لوٹنا چاہتا ہے۔ (ریاض الصالحین،باب فضل الزہد فی الدنیا)
زہد کی لغوی واصطلاحی تعریف:
لغوی تعریف:
لغوی اعتبار سے زہد کا معنی ’کسی شی معین کے ساتھ تعلق رکھنے سے گریز کرنا‘ہے۔معجمی الحی میں ہے: یزھَد بمباہج الحیاة ومتعھا،ای: یترکھا، المنجد میں ہے: زھد فی الشی وعنہ: بے رغبتی کرکے چھوڑ دینا۔ اور اسی سے ہے: زھد فی الدنیا: اس نے دنیا سے منھ موڑ کر اپنے آپ کو عبادت کے لئے فارغ کرلیا۔تفسیررازی میں ہے:زہد کا معنی قلت رغبت ہے۔کہاجاتا ہے : زھدفلان فی کذا،جبکہ اسے اس سے دلچسپی نہ ہو۔اس کے اصل معنی میں قلت کا مفہوم شامل ہے۔کہاجاتا ہے : رجل زھید،جبکہ وہ آدمی قلیل الطمع ہو۔(مفاتیح الغیب،سورہ یوسف،432/18)۔ پس لغوی اعتبار سے’زہد‘کا مطلب کسی شی کو حقیر اور قلیل سمجھتے ہوئے اس سے اعراض کرنا اور دلچسپی نہ رکھنا ہے۔
اصطلاحی تعریف:
اصطلاحی اعتبار سے زہد کا معنی ’ اللہ کی عبادت و معرفت کی خاطردنیوی متاع واسباب اور ملذات و خواہشات سے گریز کرنا اور ان میں سے تھوڑے سے میسر پر راضی ہوجانا اور بلا تکلف قناعت کرلینا‘ہے۔
حضرت سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں کہ زہد کا مطلب یہ ہے کہ سکھ کی گھڑی میں شکر بجا لائے اور دکھ کے ایام میں صبر سے کام لے۔یعنی اللہ کی جانب سے جو بھی ملے بلا تکلف اس پر قناعت کرلے۔(تفسیر الدر المنثور، 371/1،دارالفکر،بیروت)
حضرت ابراہیم بن ادہم فرماتے ہیں کہ زہد کی تین قسمیں ہیں: (۱) زہد ِفرض: حرام چیزوں سے مکمل احتراز کرنا(۲) زہد ِفضل: حلال چیزوں میں تھوڑے پر قناعت کرنا(۳)زہد ِسلامت: شبہات(جن چیزوں کا حلال وحرام ہونا مشکوک ہو)سے بچنا۔(الزہد لابن ابی الدنیا،ص:69،دار ابن کثیر،دمشق)
خلاصہ یہ ہے کہ زاہد اللہ کے ماسوا سے دل نہیں لگاتا ہے،دنیاوی خواہشات اس کی راہ میں حائل نہیں ہوتیں اور نہ ہی وہ دنیا سے دلچسپی ورغبت رکھتاہے۔جو کچھ بھی میسر ہو جائے قناعت کرتے ہوئے شکر ادا کرتا ہے اور نہ ملے تو صبر سے کام لیتا ہے۔دنیا پانے کی اپنی جانب سے اس کی کوئی خواہش نہیں ہوتی اور نہ اس کے لیے وہ کوئی اہتمام کرتا ہے۔ہاں!اللہ سے قربت اور اس کی رضا و خوشنودی کو پانا اس کی خواہش ہوتی ہے۔رضائے الہٰی کو پانے کی خاطر ہی وہ حرام سے مکمل احتراز کرتا ہے،حلال میں قناعت سے کام لیتا ہے اور شبہات سے بچتاہے اور ہمہ دم خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ مجھ سے کوئی ایسا عمل نہ صادر ہوجائے کہ میں اپنے مولی کی ناراضی مول لوں۔
تصوف کی تعریف:
حضرت شیخ ابو علی روذباری نے تصوف کی تعریف یوں کی ہے: من لبس الصوف علی الصفائ، واطعم الھوی ذوق الجفاء، وکانت الدنیا منہ علی القفا، وسلک منھج المصطفیٰ۔صوفی وہ ہے جو قلب کی صفائی کے ساتھ صوف پوش(سادہ لباس)ہو ، نفسانی خواہشات کو(زہد کی) سختی دیتا ہو، دنیا کو پسِ پشت (غیر مقصود)ڈال دیتا ہو اورشریعت مصطفی(صلی اللہ علیہ وسلم) کو لازم پکڑتا ہو۔(التعرف لمذہب اہل التصوف،ص:25،ناشر:دارلکتب العلمیہ،بیروت)
حضرت عمرو بن عثمان مکی رحمة اللہ علیہ کی تعریف تصوف یہ ہے: ان یکون العبد فی کل وقت مشغولا بما ھو اولیٰ فی الوقت۔صوفی وہ ہے جو ہر وقت اسی کا ہوکر رہتا ہے جس کا وہ بندہ ہے۔(عوارف المعارف، الباب الخامس فی ماہیة التصوف)
حضرت شیخ شلبی رحمة اللہ علیہ تصوف کے بارے میں فرماتے ہیں: منقطع عن الخلق متصل بالحق۔صوفی مخلوق سے منقطع اور خدا سے مربوط ہوتا ہے۔(الرسالة القشیریة،باب الفتوة،442/2،دارالمعارف،قاہرہ)
حضرت ذوالنون مصری نے فرمایا ہے: ھم قوم اثروا اللہ عز وجل علی کل شیئ۔صوفیائے کرام وہ ہیں جو ہر چیز سے ز یادہ اللہ عز و جل کو ترجیح دیتے ہیں۔(الرسالة القشیریة،باب الفتوة،443/2،دارالمعارف،قاہرہ)
یہی وجہ ہے کہ صوفیہ نے ہمیشہ اپنے مولیٰ وعقبیٰ کے لیے دنیا سے کنارہ کشی کرتے ہوئے زہد کی راہ اختیار کی ہے،دنیا میں رہتے ہوئے بھی وہ دنیا میں نہیں ہوتے،بعض کی کنارہ کشی کا عالم تو یہ ہے کہ انہوں نے آبادی سے مکمل منھ موڑکر بیابان وصحرا کی راہ لے لی،بعض ا?بادی میں رہ کر بالکل خلوت نشین ہوگئے، بعض زندگی بھر مجرد رہے اور بعض نے ’ملامتیہ‘ بن کر دنیا سے دوری اپنائی،لیکن یہ رنگ صرف بعض کا رہا،جبکہ اکثر نے بظاہرعام دنیوی زندگی گزاری ،لیکن بباطن یہ بھی دنیا سے کنارہ کش تھے کہ دنیا سے کنارہ کشی کے بغیر تصوف و سلوک کا سفر ممکن ہی نہیں۔صوفیا کی دنیا سے اسی کنارہ کشی کی وجہ سے ان پر ترکِ دنیا کا الزام بھی لگا، لیکن معلوم ہونا چاہیے کہ اس کنارہ کشی کے پیچھے ان کا مقصد ترک لذات وترک خواہشاتِ نفسانی ہے تاکہ عبادت ومعرفت میں استغراقِ تام حاصل ہو اورترک لذات ہی کا نام’ زہد‘ ہے جس کا دوسرا نام ’تصوف‘ ہے۔ترک لذات وشہواتِ نفس ہی کے لیے ان میں سے بعض نے خلوت گزینی، بیابان نشینی،تجرد،تلوم اور حتی کہ اگر بادشاہ تھے تو ترک سلطنت تک کا راستہ اختیار کیا۔ انہی بعض تارکین سلطنت صوفیہ میں ایک اہم نام تارک السلطنت سلطان سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ عنہ کا ہے۔
حضرت مخدوم اشرف کے ابتدائی عہد کے بعض اہم گوشے:
اس ضمن میں ہم بہتر سمجھتے ہیں کہ مولانامحمد منشا تابش اشرفی قصوری نے لطائف اشرفی کے فارسی ایڈیشن (مطبوعہ مکتبہ سمنانی ،فردوس کالونی،کراچی/سال اشاعت: فروری 1999ء)کے ابتدائی اوراق میں ”پیش گفتار“ کے نام سے حضرت مخدوم سمنان کا جو جامع تعارف لکھا ہے اس کے چند فارسی اقتباسات کا ترجمہ نقل کریں۔غوث العالم،محبوب یزدانی،حضرت سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی رحمہ اللہ تعالی کا شمار ان بزرگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے تخت وتاج کو ترک کرکے فقر ودرویشی کی راہ اختیار کی اور جن کے فیوض وبرکات سے ہزاروں گم گشتگانِ راہ صراط مستقیم پر گامزن ہوئے۔معلوم ہونا چاہیے کہ مخدوم کے خاندان عالی مقام میںشاہی وجہانگیری نسل در نسل سے چلی آرہی تھی۔سمنان دار السلطنت تھا۔ا±س وقت سمنان ایک عظیم شہر تھا جس کی شہرت پورے اطراف واکناف عالم میں پھیلی ہوئی تھی۔البتہ اِس وقت ملک ایران میں اس کی حیثیت محض ایک قصبہ کی ہے۔
حضرت مخدوم کے والد کا نام سلطان سید ابراہیم تھا جو اپنے زمانے کے معروف وجلیل القدر عالم وفاضل تھے۔سلطان ابراہیم کے زمانے میں مملکت سمنان نے خوب ترقی کی جس کاشہرہ پورے عالم میں تھا۔سلطان ابراہیم کی زوجہ خواجہ احمد یسوی علیہ الرحمہ کی بیٹی تھیں جن کے بطن سے دو یا تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔اس کے بعد کوئی اولاد پیدانہ ہوئی جس کی وجہ سے سلطان اور زوجہ محترمہ (خدیجہ بیگم)بہت پریشان تھیں۔ایک دن دونوں میاں بیوی اپنے محل میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابراہیم نامی ایک مجذوب محل میں وارد ہوئے۔سلطان احتراماً کھڑے ہوگئے اورکمالِ ادب سے اس مجذوب بزرگ کو اپنی نشستگاہ پر بٹھایا اور خود مجذوب کے سامنے ادبا کھڑے رہے۔ مجذوب نے فرمایا:اے ابراہیم! لڑکے کی تمنا ہے؟ عرض کیا: اسی نظرِ کرم کا امیدوار ہوں۔مجذوب بزرگ نے لڑکے کے لئے دعا فرمائی اور چلنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔
سلطان نے مجذوب کی خدمت میں ایک ہزار اشرفی بطور نذر پیش کی اور مجذوب کے ساتھ چلتے رہے۔مجذوب نے دیکھا تو فرمایا کہ اب کس چیز کی طلب ہے؟سلطان نے کچھ عرض نہ کیا۔مجذوب نے از خود فرمایا کہ جاﺅ،ان شاء اللہ دولڑکے پیدا ہوں گے۔
اس واقعہ کے چند دنوں کے بعد ہی ایک خوب رو لڑکا سلطان کے گھر پیدا ہوا جس کانام ”اشرف“ رکھا گیا۔سید” اشرف“ جہانگیر سمنانی کا سالِ پیدائش 708ھ ہے۔
جب حضرت مخدوم کی عمر ساڑھے چار سال کی ہوئی تو علمائے متبحر سے تعلیم کا آغاز کیا۔آپ کی ذہانت سے لوگ انگشت بدنداں تھے کہ عہد طفولیت میں صرف دوسال آٹھ ماہ میں آپ نے پورا قرآن حفظ کرلیا۔چودہ سال کی عمرمیں آپ نے تمام علوم مختلفہ سے بکمال فراغت حاصل کرلی۔فن قرات میں مہارت کا یہ عالم تھا کہ آپ ساتوں قرات میں قرآن کی تلاوت فرماتے تھے۔آپ نے شاعرانہ طبیعت بھی پائی تھی۔(لطائف اشرفی فارسی،پیش گفتار، منشا تابش قصوری،ص: 7تا8)
ان دنوں سلطان ابراہیم اور ان کی زوجہ مزید اولاد بالخصوص اولاد نرینہ کی تمنا میں غمگین رہا کرتی تھیں اس حوالے سے حیات غوث العالم میں اس طرح درج ہے:
اس گھر میں دنیا کے کسی غم کے لئے کوئی دروازہ نہیں بنایا گیا تھا،مگر پھر بھی سلطان اور سلطان بیگم کا چہرہ غمگین ومتفکر ہی رہا کرتا تھا اور کسی تدبیر سے پوری خوشی کی نشانیاں چہرہ سے ظاہر نہیں ہوتی تھیں۔وزرا وامرا نے ہزاروں تدبیریں کیں،عظیم الشان جشن کی محفلیں کیں،مگر غم ہے کہ دل سے نہیں نکلتا اور یہ غم اولاد کا تھا۔سیدوں کا گھرانا تھا،غم برداشت کرنا موروثی تھا،کبھی زبان پر ایک لفظ بھی ایسا نہ آیا کہ لوگوں کو اس غم کا علم ہونے پاتا۔ہاں سلطان بیگم کبھی کبھی رات کو اپنے بزرگوں کی طرف متوجہ ہوتیں اور اللہ تعالی سے عرض کرتیں کہ اے میرے رب تونے اتنا دے رکھا ہے جس کا شکر گزار ہونا مجھ ضعیفہ سے دشوار ہے۔ اب میرا منھ نہیں ہے کہ تجھ سے کچھ مانگوں اور نہ اس قابل ہوں کہ جو کچھ مانگوں وہ ضرور پا جاﺅں،مگر اے داتا !تو ہی بتا کہ سلطان کے بعد تیرے بندوں کا والی کون ہوگا اور کون انصاف فرماکر باپ دادا کے نام کو روشن کرے گا۔تیری عطا کی ہوئی دو تین بچیاں ہیں اورکوئی لڑکا” گھر کا چراغ“ نہیں ہے۔اس پر کوئی آٹھ سال ہوئے کہ مایوسی ہی مایوسی نظر آتی ہے۔مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں اس عرضی میںکوئی سوال پیش کرتی ہوں۔میرے مالک میں نے غلطی کی۔میں تجھ سے مانگنے کا منھ نہیں رکھتی اور اقرار کرتی ہوں کہ تیری رضا سے راضی ہوں۔
سلطان بیگم ایک دن بعدِ نماز عشا یہی کہتے کہتے رونے لگیں اور اس قدر روئیں کہ ہچکیاں بندھ گئیں اور مصلے ہی پر سو گئیں۔خواب دیکھا کہ حضرت شیخ احمد یسوی علیہ الرحمہ،جو اس گھرانے کے بزرگوںمیں سے تھے، آئے اور فرمایا اے بیٹی!تو کیوں بے قرار ہوتی ہے۔مبارک ہو کہ تیرے بطن سے آفتاب ولایت طلوع ہونے والا ہے۔صبح اٹھ کرسلطان بیگم نے سلطان سے سارا واقعہ خواب کا بیان کیا اور قصرِ شاہی میںخوشیاں منائی جانے لگیں۔اسی زمانے میں اتفاق سے ایک مسلم الثبوت بزرگ ابراہیم مجذوب علیہ الرحمہ ایک صبح کوقصر شاہی کے محل سرا میں نظر آئے۔سلطان اور سلطان بیگم دونوں کو حیرت ہوئی کہ یہ کس راستے سے آئے ہیں۔پہرہ داروں نے کہا کہ دروازہ سے کوئی اندر نہیں گیا ہے۔سلطان نے ابراہیم مجذوب (علیہ الرحمہ)کو صدر مقام پر بٹھایا اور قدم بوس ہوئے۔ابراہیم مجذوب(علیہ الرحمہ) نے فرمایا کہ اے سلطان تو بیٹا چاہتا ہے اور اس غم میں پریشان ہے۔ایک ہزار اشرفی دے تو اشرف کو لے۔سلطان نے فوراََ اشرفیاںحا ضر کیں۔ابراہیم مجذوب(علیہ الرحمہ) نے فرمایا کہ قیمتی چیز تم کو مفت دی جاتی ہے۔جاﺅ تمہارے گھر لڑکا پیدا ہوگا۔یہ کہ کر وہ بزرگ اٹھے اور آنکھوں سے غائب ہوگئے۔
خدا کی شان کہ اس گھر میںسلطان بیگم کے ایک نہایت مبارک ومسعود خوش اقبال اور خوبصورت لڑکا پیدا ہوا۔ا±س بچے کا نام حسبِ ہدایتِ حضرت احمد یسوی علیہ الرحمہ ”اشرف“رکھا گیا۔ٹھیک اسی دن حضرت ابراہیم مجذوب(علیہ الرحمہ) بھی آئے اور کہا کہ اے سلطان !آج ہماری بیع ختم ہوگئی اور ہزار اشرفی کے بدلے تم کو قیمتی مال مل گیا۔اس مسرت آگیں موقع پرشاہی مہمان خانہ عرصہ دراز تک آباد کردیا گیا،ساری رعایا کے گھر گھرگویا عید ہوگئی اور چراغاں سے سمنان میں مہینوں رات دن کا فرق جاتا رہا۔یہ کوئی 708ھ کا واقعہ ہے۔(حیات غوث العالم،افادات محدث اعظم علیہ الرحمہ،مرتب سید حسن مثنیٰ انور،ص:12تا15،ناشر: شیخ الاسلام اکیڈمی،حیدرآباد) صحائف اشرفی میں کچھ اس طرح ہے:
حضرت حاجی الحرمین سید ابو الحسن عبد الرزاق نورالعین خاتمہ مکتوبات اشرفی میں ،جہاں حضرت محبوب یزدانی کے آبا واجداد کا حال لکھا ہے،وہاں تحریر فرماتے ہیںکہ : حضرت سلطان السلاطین سید ابراہیم شاہ کے ایام سلطنت رانی میں چند لڑکیاں پیدا ہوئیں،مگر بیٹا نہیں ہوا۔اس کے بعد سلسلہ پیدائش دس یا بارہ برس تک بند رہا۔حضرت سلطان السلاطین کوفرزند کی آرزو حد سے زیادہ تھی۔ہر درویش وولی کی طرف بغرض دعا متوجہ ہوتے۔ایک سال اسی فکر وتردد میں گزرا۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک مرد نورانی شکل صاحب جمال وکمال یعنی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم رونق افروز ہوئے۔بادشاہ تعظیم کو کھڑے ہوگئے اور نہایت اعزاز واکرام اور احترام سے پیشوائی کرکے(پیش آکر)قدم بوسی سے مشرف ہوئے۔جب سر قدم مبارک پر رکھا،دل کو کمالِ بشاشت ہوئی۔حضرت سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا کہ اے فرزندِ ابراہیم! تم کو متردد دیکھتا ہوں،کیا اولاد کی خواہش رکھتے ہو؟بادشاہ رونے لگے اور بکمالِ عجز وانکسار یوں عرض کرنے لگے کہ بارہ برس سے آرزوئے فرزند،وارثِ تخت وتاجِ سلطنت کی دل میں رکھتا ہوں۔اگر حضور کے ابرِ بارانِ نبوت اور نسیمِ گلستانِ رسالت سے میرے باغِ خزاں رسیدہ کو سرسبزی حاصل ہو اور فرزند عطا فرمائے تو کمال عنایت ہوگی۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :حق تعالیٰ تم کودو بیٹے عنایت فرمائے گا۔ایک کا نام ”اشرف“ اوردوسرے کا نام ”اعرف محمد“ رکھنا۔لیکن پہلا فرزند تمہارا صاحبِ سلطنت ظاہری وباطنی ہوگا۔(صحائف اشرفی،مرتب:شیخ المشائخ اعلیٰ حضرت اشرفی میاں،ص:64تا 65،ناشر: ادارہ فیضان اشرف ممبئی)
واقعات میں تھوڑا بہت اختلاف ہے،لیکن ان سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت سلطان سید مخدوم اشرف کی ولادت کے قبل ولادت کی بشارت نانا خواجہ احمد یسوی، مجذوب بزرگ حضرت ابراہیم اور خود رسولِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دی تھی۔
حضرت مخدوم اشرف اور ترک سلطنت:
اس حوالے سے مولانا محمد منشا تابش اشرفی قصوری لطائف اشرفی فارسی ایڈیشن میں اپنی” پیش گفتار“ میں لکھتے ہیں۔ترجمہ درج کیاجاتا ہے۔
جب سید اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ پندرہ سال کے ہوئے تو آپ کے والد کا وصال ہوگیا۔پھر دستور زمانہ کے موافق آپ کے سر پر تاجِ شہنشاہی رکھا گیا۔آپ نے ایسی حکمرانی کی کہ ہم نشین ندما، وزرا اورامرا سب حیران تھے،باشندگان کافی راحت و سکون میں تھے،مملکت نے خوب ترقی کی اور ہرجگہ عدل وانصاف کا شہرہ تھا۔
امور سلطنت سے آپ کو چنداں فرصت نہ تھی،لیکن تصوف وسلوک سے غایت درجہ دلچسپی تھی۔اسی وجہ سے آپ حضرت رکن الدین علاءالدولہ اور مشائخِ زمانہ سے ملاقات فرماتے تھے۔اگر چہ تمام بزرگوں نے آپ کی آتش شوق کو مہمیز کیا ،لیکن رہبری کرنے سے گریز کرتے تھے۔آپ اسی طرح فقر ودرویشی کی نعمت کے متلاشی بنے رہے کہ ایک رات خواب میں حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔حضرت خضر نے آپ کو اسمِ ذات کا ذکر کرنے کے لئے اشارہ فرمایا اس طور پر کہ زبان متحرک نہ ہو۔(یہ قلب صنوبری میں اسمِ ذات ”اللہ“ کے ذکر کا اشارہ تھا۔)
اس کے بعد دو سال تک آپ سید التابعین حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی زیارت سے مشرف ہوتے رہے جنہوں نے آپ کو اوراد واشغالِ اویسیہ کی تعلیم دی۔اس زیارت کے دوران آتشِ عشق تیز تر ہوتی ہوگئی یہاں تک کہ شعلہ جوالہ بن گئی۔جس کی وجہ سے آپ کا دل امور سلطنت سے اچاٹ ہوگیا۔اب مرشد کامل کی تمنا ہر وقت پریشان کرنے لگی۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ آپ زربفت کے بجائے صوف پہننے لگے اور حریرِ بیش قیمت کو چھوڑ کربوریا نشین ہوگئے۔
27 رمضان کی شب دوبارہ حضرت خضر علیہ السلام خواب میں آئے اور فرمایا کہ :اشرف! وصالِ الہی کی لذت کے لئے آمادہ ہوجاﺅ، حکومت وایوانِ شاہی کو خیرآباد کہہ کر ہندوستان جاﺅ۔وہاں شیخ علاءالحق والدین گنج نبات علیہ الرحمہ تمہارے انتظار میں ہیں۔
دوسرے دن جب صبح ہوئی تو آپ نے امرا وزرا کو جمع فرمایا اور ترک سلطنت کا اعلان کیا۔اس وقت آپ کی عمر شریف پچیس سال تھی۔دس سال آپ نے بصد شانِ زیبائی حکومت کی۔اس کے بعد تخت وتاج اپنے برادر اصغر(اعرف)محمد کو تفویض کردیا۔یہ واقعہ 733ھ کا ہے۔(لطائف اشرفی فارسی،پیش گفتار، منشا تابش قصوری،ص: ۸)
نزہة الخواطر میں صاحب نزہة الخواطر لکھتے ہیں: السید الشریف العلامةالعفیف اشرف بن ابراہیم الحسنی الحسینی السمنانی المشہور بجہانکیر ولد بمدینة سمنان، وشبل فی نعمة ابیہ ونشاة نشا ابناءالملوک، وحفظ القرآن بالقرا ت السبع، ثم اشتغل بالعلم علی اساتذة عصرہ وقراة فاتحة الفراغ ولہ اربع عشرة سنہ، قام بالملک فی التاسع عشر من سنہ مقام والدہ فاشتغل بمہمات الدولة مع اشتغالہ بصحبة الشیخ رکن الدین علاءالدولہ السمنانی وخلق آخرین من العلما والمشایخ، ولم یزل کذلک مدة من الزمان، ثم خلع نفسہ وترک السلطنة ولہ ثلاث وعشرون سنة فاقام مقامہ اخاہ محمدا وظعن الی الہند۔(نزہة الخواطر،237/3، دار ابن حزم، بیروت)
اسسٹنٹ پروفیسر و صدر شعبہ عربی
سیتل کوچی کالج، سیتل کوچی
کوچ بہار، مغربی بنگال



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں