تازہ ترین

Post Top Ad

پیر، 30 مئی، 2022

معربی بنگال پولس لیڈی کانسٹبل اہلیتی امتحان میں اردو زبان نظرانداز

معربی بنگال پولس لیڈی کانسٹبل اہلیتی امتحان میں اردو زبان نظرانداز
معربی بنگال پولس لیڈی کانسٹبل اہلیتی امتحان میں اردو زبان نظرانداز


معربی بنگال پولس لیڈی کانسٹبل اہلیتی امتحان میں اردو زبان نظرانداز

ریاستی حکومت اردوکوتمام سرکاری ملازمتی امتحانوں میں جگہ دیکر اردوآبادی کے مستقبل کوبربادہونے سے بچائے۔ محمد انجم راہی

    (پریس ریلیز) کسی بھی ملک یا ریاستوں کے مختلف گوشوں میں بولی جانے والی زبان نہ صرف ان ریاستوں یا ملک کی پہچان ہوتی ہےں بلکہ آپسی اتحاد وترقی اور پرامن ماحول کے ارتقاکی ضامن بھی ہوتی ہے ۔ زبانیں کسی بھی قوم کی بہترین تاریخی وراثت ہوتی ہیں، جن میں دنیا کے مختلف گوشوں میں آباد قوموں وقبیلوں کی تاریخی عروج وزوال کی داستانیں موجودہوا کرتی ہےں۔ زندہ مثال عظیم ملک چین کی ہے، چین نے چینی زبان میں موجود اپنی ماضی کی تاریخ سے سبق لیکرعالمی سطح پر یہ ثابت کردیا ہے کہ انگریزی زبان ہو یا فرانسیسی زبان، ترقی کیلئے یا عصری علوم پرمہارت کیلئے کبھی بھی زبانیں رکاوٹ نہیں بن سکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ چین جیسے عظیم ملک نے ملک کے تمام تر شعبوں میں خواہ وہ بری،بحری اور فضائی کیوں نہ ہوں چینی زبان کوتقویت دیتا چلاگیا ۔

    ایک موقع پر چینی صدر کے سامنے انگریزی زبان میں سپاس نامہ پیش کیا گیا توچینی صدرنے جواب میں تاریخی اور تقلیدی جملہ کہا کہ:” چین ابھی گونگانہیں ہوا ہے“۔چین آج بھی اپنی زبان کو عالمی سطح پرفخریہ استعمال کرتا ہے۔محمد انجم راہی، صدر سوشل امپاورمنٹ مشن (این جی او)، اسلام پور، مغربی بنگال نے کہاکہ اردو زبان کی تاریخ بہت ہی شاندارہے، مغلیہ سلطنت ہویا ایسٹ انڈیا کمپنی کے جابرحکمراںیا پھرجنگ آزادی کے مسلم وغیرمسلم سورمائیں گویا وقت کے بڑے سے بڑے حاکموں کوبھی اردو زبان کی چاشنی وجاذبیت کو محسوس کرناپڑا ۔

    اردو زبان اس وقت ملک کی چھ ریاستوں میں دفتری زبان کے طورپر رائج ہے۔اس پیاری زبان کو فروغ دینے میں سرسید، شبلی، حالی، ندوی، ڈپٹی نذیر احمد، میر تقی میر، مصحفی، غالب اور اقبال جیسے عظیم شاعروں اور ادیبوں نے لازوال خدمات انجام دیئے ہیں۔ سلیم صدیقی کا شعر ہے: ”فضا کیسی بھی ہو وہ رنگ اپنا گھول لیتا ہے، سلیقے سے زمانے میں جو اردو بول لیتا ہے“۔ ملک کے مختلف ریاستوں میں اردو آبادی کو جس طرح کے مراعات اور مواقع حاصل ہیں وہ مغربی بنگال کی اردو آبادی کو حاصل نہیں ہے۔ 

    بعض ایسی ریاستیں جہاں اردوآبادی مغربی بنگال کی اردوآبادی سے بھی کم ہے مگر سرکاری سطح پر وہاں کی ریاستی حکومتوں نے اردوآبادی کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے سرکاری سطح پراردو کوریاستی زبان کامماثل قراردیکراردوآبادی کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے اس کی ترویج وترقی کیلئے راستے ہموار کئے ہیں۔ ایسی ریاستیں اردو زبان کو تعلیمی وملازمتی سطح پرفروغ دینے کیلئے اہم اور تاریخی احکامات صادر کئے ہیں۔

     ریاست مغربی بنگال میں ترنمول حکومت کے شروعاتی دور میں اردو زبان کی ترقی وترویج کا خواب تو دکھایا گیا تھا مگر گزشتہ کچھ عرصے سے دیکھا یہی جارہا ہے کہ اردو زبان کو ریاست میں سرکاری ملازمت کیلئے اہلیتی امتحانوں سے نظرانداز کیا جارہاہے۔ 

    حالیہ مغربی بنگال پولیس لیڈی کانسٹبل بھرتی امتحان کیلئے اردو زبان کو جگہ نہ دینے پرمحمد انجم راہی، صدر سوشل امپاورمنٹ مشن (این جی او)، اسلام پور، مغربی بنگال نے کہاکہ ریاستی حکومت، بنگال کی بہت بڑی اردو آبادی کو بے روزگارکرکے اس زبان کے فروغ وترویج میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا کام کررہی ہے۔ترنمول حکومت کو مغربی بنگال پولیس لیڈی کانسٹبل بھرتی امتحان کے نوٹس پرروک لگاکر اردو زبان کو اس میں شامل کئے جانے کیلئے حکم جاری کرنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ترنمول حکومت کو مستقبل میں ہونے والے تمام طرح کی سرکاری ملازمتی امتحانات میں اردو زبان کی شمولیت کو یقینی بنانا چاہئے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad