تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 2 اگست، 2022

23سال بعد آج بھی گیسل ٹرین حادثہ کومقامی لوگ نہیں بھول سکے

23سال بعد آج بھی گیسل ٹرین حادثہ کومقامی لوگ نہیں بھول سکے
 23سال بعد آج بھی گیسل ٹرین حادثہ کومقامی لوگ نہیں بھول سکے


 23سال بعد آج بھی گیسل ٹرین حادثہ کومقامی لوگ نہیں بھول سکے

    نیوزٹوڈے اردو:ہندستانی ریلوے کی تاریخ کے بدترین حادثات میں سے ایک اسلام پور گیسل علاقے میں پیش آئے 2اگست1999کاوہ غمناک واندوہناک گیسل ٹرین حادثہ Gaisal Train Accident کو 23 سال بعد بھی لوگ نہیں بھول سکے ہیں۔ گیسل ٹرین حادثہ شاید ہندستان کا سب سے بڑا اور دنیا کی تاریخ کا دوسرا بڑا ریلوے حادثہ ہے۔

     رات کے تقریباً ڈھائی بج رہے تھے۔ہرطرف سناٹاچھایاہواتھا ۔دوٹرینیں برہم پترا میل اور اودھ آسام ایکسپریس اپنی پوری رفتار کے ساتھ رات کی تاریکی کو چیرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف سے رواں دواں تھی ۔ٹرینوں کے اندرلوگ بلاخوف سورہے تھے ۔ اسی بیچ تقریبا رات کے ڈھائی بجے ان دونوں ٹرینوںکے درمیان پرتشدد تصادم سے اچانک گیسل ایک زوردار آواز سے ہل گیا۔ اس خوفناک رات میں تین سو سے زائد لوگ حالت نیند میں ہی مر گئے۔ بہت سے لوگ زخمی ہوئے، گویا اس صبح گیسل کی موت ہوگئی۔ لاش کے اوپر لاش ریلوے لائن کے اوپر پائی گئی ۔ہرطرف خون کے دھبے دکھائی دے رہے تھے ۔ انسانی اعضا ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے۔ 

    ہرطرف زخمیوں کے چیخنے اور رونے کی آوازیں آرہی تھی ۔ گویاں یوں کہہ سکتے ہیں 2اگست 1999کی صبح گیسل کے لئے قیامت صغریٰ تھی۔اہم بات یہ ہے کہ اتنابڑاحادثہ ہوا لیکن مقامی لوگوں نے جس طرح امدادی کام میں حصہ لیا تھا وہ قابل تعریف ہیں۔سیول ڈیفنس بارڈرگارڈ،پولس ،آرمی اور سرحدی فوج سبھی جنگی پیمانے پرامدادی کام میں لگ گئے ۔گیسل اور دھنتولہ کے مقامی لوگوں نے بھی امدادی کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

     اس برساتی کالی رات کو یاد کر کے علاقے کے بزرگ آج بھی کانپ جاتے ہیں۔ ایک ساتھ اتنے لوگوں کی موت کے بعد گیسل کے اس علاقے میں کئی سالوں تک مختلف قسمیں آوازیں سنائی دینے کی بات کہی جارہی ہے۔جائے حادثہ سے کئی سال تک انسانوں کاگزربند ہوگیا تھا ۔پورے علاقے میں ایک خوف طاری تھا۔ملی جانکاری کے مطابق آج بھی اس خاص دن پر کچھ لوگ دور دور سے آتے ہیں اور خاموشی سے کھڑے رہتے ہیں۔ حادثہ میں ہلاک ہوئے اپنے پیاروں کو یاد کرتے ہیں۔ 

    دوٹرینیں برہم پترا میل اور اودھ آسام ایکسپریس 25سو مسافروںکولیکراپنی منزل کی طرف جارہی تھی ۔حادثہ 2 اگست 1999 کی صبح تقریباً 1 بجکر 45 منٹ پر اس وقت پیش آیا جب نئی دہلی سے آنے والی اودھ آسام ایکسپریس کشن گنج سے 19 کیلومیٹر بعد مغربی بنگال کے گیسل ریلوے اسٹیشن پر برہم پترا میل سے ٹکرا گئی۔ کشن گنج میں سگنلنگ کی خرابی کے ذریعہ دہلی سے آنے والی اودھ آسام ایکسپریس برہم پترمیل کی ٹریک پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

     ٹرین کے ڈرائیور یا سگنل مین اور اسٹیشن ماسٹر کے دفتر میں کسی نے بھی غلطی کو محسوس نہیں کیا۔ کشن گنج اور گیسل کے درمیان اسٹیشنوں پر عملہ بھی اس بات کو محسوس کرنے میں ناکام ررہے کہ اودھ آسام ایکسپریس غلط ٹریک پر تھی۔ نتیجے کے طور پر برہمپترا میل ٹرین گیسل میں اودھ آسام ایکسپریس کے سامنے سے ٹکرا گئی۔ دونوں ٹرینوں کی کئی بوگیاں میں ہوامیں چھل گئی جس سے 290 افراد ہلاک ہو گئے۔






کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad