![]() |
| پیدل حج اور ہمارے سلف و صالحین کرام |
پیدل حج اور ہمارے سلف و صالحین کرام
اولا تو یہ جاننا ضروری ہے کہ پیدل سفر حج کے لئے جانا کیسا ہے؟
تو سنیں پیدل حج پر جانا جائز ہے البتہ شہرت، نام و نمود اور نمائش مقصود نہ ہو بلکہ رضاے الٰہی مقصود ہو بلکہ پیدل پر قدرت ہونے پر پیدل حج کو جانا افضل ہے جیسا کہ فقیہ اعظم ہند صدر الشریعہ بدرالطریقہ خلیفہ امام اہلسنت امام اہلسنت حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: پیدل کی طاقت ہو تو پیدل حج کرنا افضل ہے۔
حدیث میں ہے: ”جو پیدل حج کرے، ا±س کے لئے ہر قدم پر سات سو 700 نیکیاں ہیں(بہار شریعت جلد اول حصہ6)
ہمارے بزرگان دین و سلف صالحین میں سے کثیر حضرات نے پیدل سفر حج کئے ہیں ،جن کا تذکرہ سیرت اور حدیث کی کتابوں میں جابجا آیا ہے۔ انہیں میں سے مندرجہ ذیل حضرات بھی ہیں۔
(1)حضرت آدم علیہ السلام: آپ نے ہندوستان سے مکہ پیدل سفر کر کے چالیس حج کئے۔(کتاب الطبقات الکبیر، جلد اول، ص:18)
(2،3) حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھما السلام نے بھی پا پیادہ حج کیا ۔(السنن الکبری، کتاب الحج، الجزءالرابع، ص:542)
(4)حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے پیدل سفر کر کے پچیس حج اداکئے جبکہ آپ کے پاس عمدہ قسم کے سواری کے جانور موجود تھے۔(حوالہ سابق)
(5)حضرت خواجہ ابراہیم بن ادھم نے بھی پیدل سفر حج کیا، اس طرح کہ ہر قدم پر دوگانہ نفل پڑھتے جاتے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچنے میں چودہ سال لگ گئے۔ (مراة الاسرار، طبقہ سادسہ، ص:288،مترجم)
(6) اسی طرح حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمہ نے بھی پا پیادہ سفر حج کیا۔آپ چند قدم چلتے اور نماز ادا کرتے اور کہتے کہ کعبہ سلاطین دنیا کی بارگاہ نہیں ہے جہاں یکبارگی اٹھ کر آدمی چلا جائے۔اس طرح بارہ برس میں آپ مکہ مکرمہ پہنچے۔حج ادا کئے اور مدینہ منورہ نہ گئے اور فرمایا کہ یہ امر نامناسب ہے کہ حج کے طفیل مدینہ منورہ جاوں، میں دوبارہ خاص مدینہ کی زیارت کو حاضر ہوں گا اور اپنے شہر واپس چلے آئے۔ انوار الاتقیا، جلد اول،
تلمیذ محدث کبیر عبدالرشید امجدی اشرفی دیناجپوری



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں