تازہ ترین

Post Top Ad

پیر، 8 نومبر، 2021

گٹکاکی غیر قانونی فروخت کے خلاف پولس کی مہم شروع ،کافی مقدار میں گٹکا سمیت ایک گرفتار

 گٹکاکی غیر قانونی فروخت کے خلاف پولس کی مہم شروع ،کافی مقدار میں گٹکا سمیت ایک گرفتار

گٹکاکی غیر قانونی فروخت کے خلاف پولس کی مہم شروع ،کافی مقدار میں گٹکا سمیت ایک گرفتار

 گٹکاکی غیر قانونی فروخت کے خلاف پولس کی مہم شروع ،کافی مقدار میں گٹکا سمیت ایک گرفتار



نیوزٹوڈے اردو: ریاستی حکومت کی طرف سے ریاست بھر میں گٹکا کی فروخت پر حالیہ پابندی کے باوجود کچھ دکانوں پر لمحہ بھر میں گٹکا فروخت جاری ہے۔ لوگوں کی شکایت ملنے پر سلی گوڑی میٹروپولیٹن پولس کے تحت بھکتی نگرتھانہ کی پولس نے آج ایک دکان سے چھاپہ مارا۔ پولس کے مطابق کارروائی کے دوران بھکتی نگر تھانہ علاقے سے ایک شخص کو بھاری مقدار میں ممنوعہ گٹکے سمیت حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس شخص کی شناخت 29 سالہ گووندا یادو کے طور پر کی گئی ہے۔ پولس نے ملزمین کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔واضح رہے کہ حالیہ شمالی بنگال دورے کے دوران وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے گٹکا کی فروخت پر آج 7نومبر سے پابندی عائد کردی تھی۔ آج یعنی 7 نومبر سے گٹکھا اور پان مسالہ پر پابندی ہے۔ یہ پابندی 1 سال تک جاری رہے گی۔ اس دوران ریاست میں نہ تو گٹکھا اور پان مسالہ تیار کیا جائے گا اور نہ ہی فروخت کیا جائے گا۔ اسی طرح ڈسٹری بیوشن اور اسٹوریج پر پابندی بھی برقرار رہے گی۔ کچھ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اس طرح کی پابندی ریاستی حکومت نے ماضی میں بھی لگائی تھی لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے برعکس یہ مادے ریاست میں چھپ کر فروخت ہونے لگے۔ دکاندار امیر ہونے لگے۔ گاہک لوٹنے لگے۔ کیا یہ صورت حال دوبارہ ہو رہی ہے؟ بازار میں لوگ ایک دوسرے سے سوال ر رہے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاستی حکومت کی طر ف سے گٹکھا اور پان مسالے پرلگائے جارہی پابندی کتنی کامیاب ہوتی ہیں۔واضح رہے کہشہر چاہے چھوٹاہو یابڑا ،دکان چاہے درمیان شہر ہو یا گاﺅں میں لیکن پورے بنگال میں ایک چیزایسی ہے جو سبھی دکانوںمیںدستیاب ہیں۔یہی حال شمالی بنگال کا بھی ہے۔سلی گوڑی میں چھوٹی سے لے کر بڑی تک سبھی دکانوں پر پان مسالہ اور گٹکے کی مصنوعات ملیں گی۔ سلی گوڑی کے بازار میں مختلف برانڈز کے گٹکے دستیاب ہیں۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک زیادہ تر لوگ پان مسالہ اور گٹکھا کھاتے ہیں۔ مزدوروں، تاجروں، دکانداروں سے لے کر ایک عام ملازمت پیشہ افراد تک، ہر کوئی سڑکوں، چوک چوراہوں پر کسی نہ کسی شکل میں پان مسالہ یا گٹکھا چباتے ہوئے پایا جائے گا۔ حالانکہ یہ صحت کے لئے کافی خطرناک ہے۔ اس کے باوجود ایسے لوگ ہیں جوجان بوجھ کر انجان بنتے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان لڑکے یہ تو سب کو معلوم ہے کہ گٹکے کا استعمال کینسر جیسی خطرناک بیماری کا باعث بنتا ہے۔ گٹکھا اور پان مسالہ کتنے خطرناک ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کی کئی ریاستوں میں اس پر پابندی بھی لگ چکی ہے۔ ان مادوں میں تمباکو اور نیکوٹین کی آمیزش ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ صحت کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ مغربی بنگال میں گٹکھا اور پان مسالہ کی بڑھتی ہوئی کھپت اور اس سے ہونے والے نقصانات کے پیش نظر حکومت مغربی بنگال نے ریاستی محکمہ صحت اور ماہرین کے مشورے پر ان پر پابندی عائد کر دی ہے۔کوئی بھی ایسی مصنوعات جس میں تمباکو اور نکوٹین مخلوط ہو ،سبھی نقصان دہ ہےں۔ یہ نقصان دہ مادے عام طور پر گٹکے اور پان مسالہ میں ملا دئے جاتے ہیں۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad