| مفتی آل مصطفی مصباحی کچھ یادیں کچھ باتیں |
مفتی آل مصطفی مصباحی کچھ یادیں کچھ باتیں
تحریر:مفتی محمد کمال الدین اشرفی مصباحی
صدرمفتی و شیخ الحدیث
ادارۀ شرعیہ اتر پردیش _راۓ بریلی
9580720418
فقیہ اہل سنت محقق عصر ممتاز المحدثین سند المدرسین سراج السالکین حضرت علامہ مولانا مفتی آل مصطفی اشرفی مصباحی نوراللہ مرقدہ سے نا چیز کی سب سے پہلی ملاقات ۱۹۹۴کے اوائل میں جامعہ مخدومیہ انوار العلوم عشری حسن پورہ ضلع سیوان بہار میں ہوئی تھی، میں اس وقت اس ادارہ میں زیر تعلیم تھا اس کے صدر المدرسین آپ کے بہنوئی استاد مکرم حضرت مولانا محمد فیاض عالم مصباحی دام ظلہ العالی استاد دارالعلوم محبوب یزدانی بسکھاری کچھوچھہ شریف تھےاور آپ انہیں سے ملنے اس ادارے میں تشریف لے گئے تھے ،اس پہلی ملاقات میں نہ صرف آپ کی زیارت ہوئ تھی بلکہ آپ کی خدمت گزاری کا بھی شرف حاصل ہوا تھا، اس وقت میں درجہ ثالثہ کا طالب علم تھا ،آپ نے شرح تہذیب، اصول الشاسی، اور قافیہ سے چند سوالات کئے جن کے تشفی بخش جوابات سے آپ اس ناچیز سے کافی متاثر ہوئے اور مزید اعلی تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ امجدیہ گھوسی آنے کی دعوت دی۔
یہ بھی پڑھیں:
مفتی آل مصطفیٰ مصباحی کی رحلت پر ملک بھر سے تعزیتی پیغامات جاری
اشعار تعزیت در فراق مفتی ملت حضرت مفتی آل مصطفیٰ مصباحی علیہ الرحمۃ
جامعہ صمدیہ پھپھوند شریف میں حضرت مفتی آل مصطفیٰ کے لئے مجلس تعزیت
غم و اندوہناک خبر:حضرت مفتی آل مصطفیٰ مصباحی کا وصال
آپ کی خواہش پر اگلے سال جامعہ امجدیہ کے داخلہ امتحان میں حصہ لیا اور ساتھ ہی جامعہ شمس العلوم گھوسی میں بھی ،دونوں جگہیں کامیابی ملی لیکن ایک ساتھ دو جگہوں پر ٹیسٹ میں بیٹھنے کی وجہ سے دونوں جگہ داخلہ ممنوع قرار پایا، اس وقت ضلع مئو اور اعظم گڑھ کے تقریبا تمام معیاری اداروں میں داخلہ بند ہو چکا تھا اس لئے ایک سال کے لئے آپ ہی کے مشورے پر الجامعۃ الاسلامیہ اشرفیہ سکٹھی مبارکپور میں داخل ہوا اور اگلے سال سیدھا الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور میں جماعت خامسہ میں داخلہ لیا ،اس طرح آپ سے شرف تلمذ توحاصل نہ ہوسکا لیکن آپ کے خرمن علم و فضل سے اکتساب فیض کا کافی موقع ملا اور آپ کے درس و تدریس ،فتاویٰ نویسی، تصنیف و تالیف جیسے اہم مشاغل میں جہد مسلسل ، سعی پیہم اور غایت ذوق دیکھ کر اس چیز کوبھی اس مختصر سی زندگی میں آپ سےبہت کچھ سیکھنے اور کرنے کا عزم وحوصلہ ملا ۔
جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں اپنے چھ سالہ عہد طالب علمی میں تعطیلات کے ایام میں اپنے کچھ امجدی رفقا کے ساتھ مبارک پور سے گھوسی آپ کی خدمت میں اکثر حاضر ہوتا، آپ کی بارگاہ میں زانو ادب طۓ کرتا، آپ اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود اپنا قیمتی وقت عنایت فرماتے اور شفقتوں سے نوازتے ، آپ طریقہ تعلیم، وقت کی پابندی اور قلم کی اہمیت کے تعلق سے بڑی قیمتی باتیں ارشاد فرماتے اور کبھی کبھی میرا تعلیمی جائزہ بھی لیتے، جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے سالانہ تقریری امتحانات میں بھی کبھی کبھی میری بعض کتابوں کے آپ باضابطہ ممتحن ہوا کرتے تھے ایسے مواقع سے تو آپ اور مزید کرید کرید کر سوالات کرتے اور اطمینان حاصل کرتے، میں اگر چہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں زیر تعلیم تھا لیکن تعلیمی امور میں آپ ہی کو اپنا سرپرست اعلی منتخب کیا تھا اور آپ نے اس سرپرستی کا بھر پور حق بھی ادا فرمایا۔
سن 2002 میں جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے میری فضیلت کی فراغت دوم پوزیشن سے ہوئی تو دستار بندی کی تقریب میں آپ نہ صرف یہ کہ میرے لیے مہمان خاص ہوئے بلکہ میرے مرحوم چچا شیخ محمد نو ر الاسلام اشرفی سلی گوڑی (جو میری تعلیم کے سارے اخراجات اپنے ذمہ کرم لے کر میرے لئے منزل مقصود کی راہ ہموار کیےہوے تھے اللہ تعالی انہیں غریق رحمت فرمائے ) آپ نے ان سے بطور خاص ملاقات کی اور مبارک باد یوں کے ساتھ میرے غائبانہ میں میرے لۓ تخصص فی الفقہ الحنفی کی اعلیٰ تعلیم کے لیے انہیں آمادہ و راغب بھی کیااور پھر جب دستار بندی کے بعد وہ وطن واپس پہنچے تو باضابطہ مجھے اطلاع دئے بغیر ان کے نام ایک مراسلہ بھی لکھا اور اس میں اس بات کی خواہش ظاہر کی کہ" عزیزم مولانا کمال الدین اشرفی سلمہ کے روشن مستقبل کے لئے دو سال ان کو تخصص فی الفقہ کرنے کا موقع ضرور دیں بلکہ اگر آپ اجازت دیں تو ان کا خرچ دو سال تک میں چلاوں"(آپ کا یہ مراسلہ مرحوم چچاکے توسط سے مجھے ملا جو آج تک میرے پاس تعلیمی ریکارڈ میں محفوظ ہے)
آپ کے اس خط سے عم مکرم نہ صرف آمادہ اور راغب ہوئے بلکہ تخصص فی الفقہ کے لئے مصر ہوگۓ جبکہ میری تمنا دہلی کی کسی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے کرلیکچرار یا ڈاکٹر بننے کی تھی، لیکن فقیہ اہلسنت نے فقہ حنفی میں تخصص کی اہمیت و افادیت کو میرے چچا کےذہن و فکر میں اس طرح راسخ کر دیا تھا کہ ان کو اس کے علاوہ اور کچھ سننا گوارا ہی نہیں تھا، اس طرح ناچیز نے جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں تخصص فی الفقہ الحنفی و تربیت افتا کا جو دو سالہ تعلیمی وتربیتی کورس کیا یہ میرے محسن حضرت فقیہ اہلسنت کی کرم فرمائیوں کا ہی نتیجہ ہے۔
سن 2002 میں جب جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے ناچیز نے تخصص فی الفقہ الحنفی سے فراغت حاصل کی اور دستار تحقیق و افتا سے نوازا گیا ان دنوں جانشین اشرف الاولیا تاج الاولیا شیخ طریقت حضرت علامہ سید شاہ جلال الدین اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی دامت برکاتہم القدسیہ کو مخدوم اشرف مشن پنڈوہ شریف کے عہدہ صدارت اور دارالافتا کے لئے ایک صدرالمدرسین و مفتی کی ضرورت تھی، جس کی ذمہ داری آپ نے ممتاز العلماحضرت علامہ محمد ممتاز عالم اشرفی مصباحی صدر المدرسین جامعہ شمس العلوم گھوسی اور فقیہ اہلسنت حضرت علامہ مفتی آل مصطفی اشرفی مصباحی جیسے صاحبان علم و فضل کو سونپی تھی ،حضرت فقیہ اہل سنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے مولانا ممتاز عالم اشرفی سے مشورہ کرکے سرپرست ادارہ حضرت تاج الاولیاسے میرے لئے سفارش کی پھرکچھوچھہ شریف میں حضرت علامہ مفتی رضا الحق اشرفی مصباحی اور دیگر اساتذہ جامع اشرف کی موجودگی میں مخدوم اشرف مشن پنڈوہ شریف کے صدر المدرسین و فتوی نویسی کی خدمات کے لئے میرا انتخاب عمل میں آیا اور ناچیز ہی اس ادارہ کا باضابطہ سب سے پہلا صدر المدرسین و مفتی دار الافتا قرار پایا،اس طرح سے میری تدریسی اور فتاوی نویسی کی زندگی کا آغاز بھی آپ ہی کے توسط سے ہوا۔
میرے قیام پنڈوہ شریف کے دوران کئی بار آپ اس ادارہ میں بھی تشریف لے گئے اور تعلیمی امور میں اپنے مفید مشوروں سے نوازا ،طلبا کے درمیان آپ کے متعدد توسیعی خطابات بھی ہوئے، درس و تدریس، فتاوی نویسی اور بالخصوص صدارتی امور میں آپ ہمیشہ اس ناچیز کو اپنے مفید مشوروں سے نوازتے اور مسلسل رہنمائی فرماتے۔
آپ ہی کی تحریک پر سرپرست ادارہ تاج الاولیاحضرت علامہ سید شاہ جلال الدین اشرف اشرفی جیلانی دام ظلہ النورانی کی سرپرستی اور نمونہ اسلاف حضرت علامہ مفتی عبیدالرحمن رشیدی وفقیہ النفس حضرت علامہ مفتی مطیع الرحمن رضوی دام ظلہما النورانی کی صدارت و قیادت میں ہندوستان میں سب سے پہلی بار "خبر مستفیض سے ثبوت ہلال کا حکم "کے عنوان پر سب سے پہلا سیمینار کا انعقاد" مخدوم اشرف مشن پنڈوہ شریف" میں عمل میں آیا۔
گورنمنٹی ملازمت ملنے پر مخدوم اشرف مشن پنڈوہ شریف سے مستعفی ہو کر ادارہ شرعیہ اترپردیش رائے بریلی جب میں آیا اور2007 میں اپنے مرشد برحق شیخ المشائخ اشرف الاولیا سید شاہ مجتبی اشرف اشرفی جیلانی قدس سرہ النورانی بانی مخدوم اشرف مشن پنڈوہ شریف کی حیات وخدمات پر تین سو صفحات پر مشتمل ایک کتاب ترتیب دی جو کہ آپ کی حیات مقدسہ پر اولین کتاب تھی تو اس پر نظر ثانی کے لئے حضرت فقیہ اہلسنت کی خدمت میں گھوسی حاضر ہوا، آپ نے جب مسودہ دیکھا توکافی خوشی کا اظہار کیا اور برجستہ فرمایا "کتاب کی زبان و بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو کتابیں تصنیف و تالیف کرنے کا کافی تجربہ حاصل ہے جب کہ آپ کی یہ پہلی تالیف ہے وہ بھی کتاب ایسی شخصیت پر لکھی گئی ہے جس پر کچھ بھی تحریری مواد موجود نہیں ہے اس سلسلہ کو مزید جاری رکھیں اور وقتا فوقتاً قلم کو حرکت دیتے رہیں"
(حضرت فقیہ اہل سنت کے ان حوصلہ بخش اور ترغیبی کلمات ہی کا اثر ہے کہ اس دن سے لے کر آج تک تقریبا ایک درجن کتابیں اور رسالے فقیر کے نو ک قلم سے معرض وجود میں آ کر قارئین کی مطالعاتی میز پر پہنچ چکے ہیں اوراتنے ہی ابھی زیر ترتیب ہیں)
حضرت فقیہ اہلسنت نے مکمل وقت دیکر پورے مسودہ کا با الاستیعاب مطالعہ کیا اور متعدد مقامات پر مفید اصلاحات بھی کیے، پھر دوسرے روز آپ نے بحر العلوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے اس کتاب کے حوالہ سے خصوصی ملاقات کی اور بعد فجر مجھے اپنے ہمراہ لے کر حضرت بحر العلوم کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ میری بحرالعلوم سے پہلی ملاقات تھی ،خود نظر ثانی کرنے کے باوجود حضرت فقیہ اہل سنت نے حضرت بحر العلوم سے بھی اس پر ایک نظر ڈالنے کی گزارش کی، صاحب کتاب حضور اشرف الاولیا رحمۃ اللہ تعالی علیہ حضرت بحر العلوم کے خاص رفیق درس تھے اور آپ سے دوستانہ مراسم و تعلقات رکھتے تھے اسی نسبت سے یہ مسودہ حضرت بحر العلوم کے پاس پہنچا تھا یہ میرے لئے بہت ہی مسرت کی بات تھی۔
حضرت فقیہ اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ حضرت بحرالعلوم کے محبوب نظر تھے اور آپ سے بے حد محبت فرماتے تھے ،بعد نماز فجر اکثر ایک ساتھ دونوں تفریح کے لئے نکلتے تھے اور واپسی پر حضرت بحرالعلوم کے حجرے میں ایک ساتھ چائے نوشی ہوتی تھی ،کبھی کبھی آپ بعد عصر بھی حضرت بحر العلوم کی خدمت میں حاضر ہو جایا کرتے تھے ،دونوں میں اکثر علمی گفتگو ہی ہوا کرتی تھی اور فقہی تحقیقات سے محفل جھوم جایا کرتی تھی ، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جس دن حضرت فقیہ اہلسنت کے ساتھ میں حضرت بحر العلوم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اس وقت آپ علی گڑھی پائجامہ کے تعلق سے ایک نہایت مبسوط فتویٰ لکھ رہے تھے اور اس کے کچھ خاص اقتباسات حضرت فقیہ اہلسنت کو پڑھ کر سنا رہے تھے اور جھوم جھوم کر یہ بار بار کہ رہے تھے"اور سنیۓ میں نے یہ بھی لکھا ہے یہ بھی لکھا ہے اور یہ بھی لکھا ہے"
میرا تعارف کراتے ہوے حضرت بحر ا لعلوم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے ہاتھ میں آپ نے کتاب کا مسودہ دیا اور میری واپسی کا بھی ذکر کیا حضرت بحر العلوم نے فرمایا "یہ تو محبوب ومحب کا معاملہ ہےاس میں تاخیر بالکل مناسب نہیں اس لۓآپ ایک دن اور ٹھہر جائیے اور کتاب ساتھ لیتے جائیے۔پھر آپ نے اپنی تمام مصروفیات کو مؤخر کرکےصرف دو دن کے قلیل وقت میں اس کتاب پر نظر ثانی فرمائ اور ساتھ ہی کلمات تصدیق سے بھی ناچیز کو نوازا،
اس کتاب پر نظر ثانی کی غرض سے دو دن حضرت بحر العلوم کی خد مت میں ناچیز کو بھی رہنے کا شرف حاصل ہوا ،میں مسودہ پڑھ کر حضرت کو سناتا آپ بغور سماعت کرتے اور جہاں مناسب سمجھتے اصلاح فرما تے۔
کتاب حضرت بحر العلوم کی نظر سے گزرنے کے بعد حضرت فقیہ اہل سنت کے مشورہ پر جامعہ شمس العلوم ،جامعہ اشرفیہ مبارک پور، جامع اشرف کچھوچھہ شریف اور دیگر اداروں کے اساتذہ اور کچھ مخصوص اہل علم کے تاثرات وتقریظات اور کچھ مشائخ کے دعایہ کلمات اس کتاب میں شامل ہوے جو اس کتاب کے لۓ باعث زینت ہیں اور اب تک اس کے چار اڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔
اس کے علاوہ(۱) "استاذالعلما مشرقی بہار کی ایک عبقری شخصیت"(۲) بنگال اور اسلام ایک تاریخی و مذہبی جائزہ اور دیگر میری کئی کتابوں پر آپ کے قیمتی تاثرات اور اہم مشورے شامل ہیں۔
آپ علم دوست انسان تھے ،علم دوستی اور اصاغر نوازی میں آپ منفرد المثال تھے، اگر کسی رسالہ یا اخبار میں میرا کوئی مضمون یا کوئی تحریر دیکھتے اور پڑھتے تو فورافون کرکے مبارکبادی دیتے اور اس کی خوبیوں کے ذکر کے ساتھ کچھ اہم گوشوں کی رہنمائی بھی فرماتے ،علمی اور ادبی سیمیناروں میں شرکت کی بار بار تقاضا کرتے اور اپنے متعلقین سے دعوت بھی بھجواتے ،آپ ہی کی خواہش اور استاد مکرم حضورصدر العلما علامہ محمد احمد مصباحی دام ظلہ کی ایما پر مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے ۲۰۰۴/ ۲۰۰۵گیارہویں اور بارہویں فقہی سیمینار میں ناچیز کو شرکت کی دعوت ملی تھی ،جب بھی کسی سیمینار میں ملاقات ہوتی تو بڑے پرتپاک انداز میں آپ ملاقات کرتے اور مقالہ خوانی کے بعد جب ملتے تو بڑی حوصلہ افزائی فرماتے، جب اپنے احباب سے ملاقات کر آتے تو باضابطہ اپنی زبان اقدس سے مکمل تعارف بھی کرا تے، جب کہیں سفر و حضر میں ایک ساتھ ہوتے تو گفت و شنید، نشست و برخاست اور اکل وشرب و دیگر معاملات میں کہیں چھوٹے بڑے ہونے کا احساس تک نہیں ہونے دیتے،معاصرانہ اور دوستانہ جیسے تعلقات بجالاتے _
عرس مخدومی کچھوچھہ شریف، عرس مخدوم العالم پنڈوہ شریف اور دیگر محفلوں میں ناچیز کی تقریر سے کافی خوش ہوتے اور بار بار یہ فرماتے "آپ کی تقریر سن کر دل تو چاہتا ہے کہ اپنے متعلقین کے جلسوں میں آپ کو دعوت دلواوں لیکن میرا مشورہ ہے کہ آپ تدریس و افتا اور تصنیف و تالیف کی طرف توجہ مبذول رکھیں اور ادھر زیادہ دھیان نہ دیں "_
شہر رائے بریلی میں بھی آپ کا تین بار آنا ہوا آپ جب بھی "دارالعلوم جائس" کے سالانہ جلسہ دستار بندی میں حاضر ہوتے تو ناچیز کے غریب خانہ میں ضرور تشریف لاتے اور خدمت کا موقع عنایت فرماتے، آپ کی تشریف آوری سے میری خوشیوں کی انتہا نہ ہوتی، میرے بچوں سے بھی آپ کو کافی لگاؤ تھا، جب بھی فون کرتےتو بچوں کی خیریت ضرور دریافت کرتے اور جب غریب خانہ میں تشریف لاتے تو بچوں کی من پسند چیزیں لے کر حاضر ہوتے، کبھی کبھی بچوں سے موبائل پر گفتگو بھی کرتے اور انہیں پڑھنے لکھنے کی تاکید کرتے۔
میری جب دوسری بچی پیدا ہوئی تو میں نے آپ کو فون کیا اور خوش خبری سنائی ،آپ نے فرمایا بچی کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے عرض کی اس کا نام "غوثیہ" رکھا ہے اور حضرت "قادری میاں "نے اس کا نام" ام الخیر" رکھا ہے آپ نے فرمایا" میری طرف سے بھی ایک نام "بشریٰ فاطمہ" رکھ لیجئے انشاءاللہ اس کے بعد آپ کے گھر میں جو بچہ پیدا ہوگا وہ اولاد نرینہ ہوگا "میں نے حضرت کے نام کو ترجیح دی اور"بشری فاطمہ "نام منتخب کیا حضرت کے فرمان کے مطابق میرے گھر میں تین سال کے بعد "محمد اشرف جیلانی" کی شکل میں لڑکے کی ولادت ہوئ اور اللہ تعالی نے مجھےاولاد نرینہ کی دولت سے نوازا، جب آپ کو اس کی خوشخبری سنائی تو آپ نے فرمایا کہ" عرس مخدومی کچھوچھہ شریف میں آپ سے خوب مٹھائی کھائیں گے"۔
آپ نہ صرف علمی امور میں اس ناچیز کو اپنے مشوروں سے نوازتے بلکہ گھریلو امور میں بھی اپنے مفید مشوروں اور قیمتی تجربات سے آگاہ فرماتے اوراپنے بعض معاملات میں ناچیزسے بھی مشورہ طلب کرتے.
ناچیز کے بار بار اصرار اور تقاضے پر آپ نےاپنے قیمتی مضامین و مقالات اور تحقیقات کو جمع کر کے ایک کمپوزر کے حوالے کیا تھا لیکن افسوس کہ اس نے بہت کچھ ضائع کردیا، کچھوچھہ شریف میں زمین خرید کر آپ کو وہاں سے دینی اور علمی کام کرنے کی بڑی تمنا تھی اور اس کے لیے ناچیز کو ساتھ لے کر کئ بارزمین دیکھنے کے لیے بھی پہنچے لیکن افسوس کہ آپ کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا ،پھر بنارس میں اس کام کو انجام دینے کے لیے قدم آگے بڑھایا تو وہاں بھی کامیابی نہ مل سکی، اخیر میں اپنے ہی علاقے میں بار سوئ اور اعظم نگر کے اطراف و مضافات کے لیے ارادہ بنایا اور اس سلسلے میں آپ نے وہاں کا متعدد سفر بھی کیا لیکن افسوس کے حالات زمانہ کےشکار ہوکر مریض ہو گئے۔
آخری بار جب آپ سے بات ہوئی تھی تو آپ نے اپنے علاج کے سلسلے میں ناچیز کو فون کیا تھا، اس میں آپ نے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ" بنارس کے ڈاکٹر نے پھیپھڑے میں انفکشن بتایا ہے اور اس کا علاج لکھنو سے کرانا چاہتاہوں آپ کسی ماہر ڈاکٹر کا پتہ لگا کر اس کا انتخاب کریں اور اس کی تیاری بنا ئیں" ناچیز نے ہر طرح سے ساتھ دے کر لکھنو میں علاج کرانے کی آپ کو یقین دہانی کرائی تھی، اس کے بعد مسلسل فون پر آپ سے رابطہ کرنے کی کوشس کی لیکن بات نہیں ہو سکی پھر شوشل میڈیا کے ذریعے ناگفتہ بہ حالات کی مسلسل خبریں ملتی رہیں اور اب آپ کے وصال اور دائمی داغ مفارقت کی خبر جانکاہ آ پہنچی۔
آج ہر لمحہ آپ کی محبتوں اور شفقتوں کا بار بارخیال آتا ہے اور دل مضطرب ہو جاتاہے ،آپ کا نقش رخ پا اور نورانی چہرہ بار بار ذہن و فکر میں گردش کرتا ہے، آپ کیا چلے گۓساری بہاریں چلی گئیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پھر سے دوبارہ ہم یتیم ہوگۓ اور صرف میں ہی نہیں نہ جانے آپ کے چلے جانے سے کتنی انجمنوں کی بہاریں چلی گئیں ، کتنے سروں سے علم کی سرپرستی اٹھ گئ اور کتنے عزیزوں کا علمی دھارا ٹوٹا ،اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔
میں تو آپ کا شاگرد بھی نہیں ، آپ کا رشتہ دار بھی نہیں، آپ کا ہم وطن بھی نہیں بس ایک ملاقات تھی تو اس قدر اپنی عنایتوں سے نوازا اور انعام و اکرام کی موسلا دھار بارشیں برساتے رہے تو پھر اپنے اپنوں کو اپنے موج سمندر سے آپ نے کتنا پلایا ہوگا؟ یہ تو پینے والے اور پلانے والے ہی بہتر جانتے ہیں۔
بس اس وقت میں تو اتنا ہی کہوں گا کہ مولاۓ کریم میرے مفتی صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور أپ کی قبر انور کو بقعۀ نور بنادے_
آمین بجاہ حبیبہ النبی الکریم۔
ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں